’نواز شریف کو جیل میں مناسب سہولیات فراہم کی جائیں‘

،تصویر کا ذریعہAFP/GETTY IMAGES
پاکستان مسلم لیگ نواز کے صدر شہباز شریف نے نگراں وفاقی اور صوبائی حکومت کو خطوط لکھے ہیں جس میں نواز شریف کو جیل میں فراہم کی جانے والی سہولیات سے متعلق شکوہ کیا گیا ہے۔
شہباز شریف کی جانب سے لکھے جانے والے خط میں کہا گیا ہے کہ ’نواز شریف کو جیل میں پڑھنے کے لیے اخبار فراہم نہیں کی گئی ہے‘۔
خط میں مزید کہا گیا ہے کہ ’نواز شریف کو سونے کے لیے جو گدا فراہم کیا گیا ہے وہ زمین پر بچھایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ انھیں جو باتھ روم دیا گیا ہے اس کی حالت بھی اچھی نہیں ہے‘۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ نواز شریف کے کمرے میں ایئرکنڈیشن بھی نہیں ہے۔ اس کے علاوہ انھیں کوئی خدمت گار بھی فراہم نہیں کیا گیا ہے۔
اس خط میں کہا گیا ہے کہ نواز شریف ملک کے تین بار وزیر اعظم رہے ہیں اس لیے انھیں ان کے استحقاق کے مطابق سہولتیں فراہم کی جائیں۔
اس خط میں نواز شریف کے عارضہ قلب میں مبتلا ہونے کے بارے میں بھی کہا گیا ہے اور درخواست کی گئی ہے کہ انھیں علاج معالجے کی سہولیات بھی فراہم کی جائیں۔
دوسری جانب راولپنڈی کی اڈیالہ جیل کے حکام نے تصدیق کی ہے کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف، ان کی بیٹی مریم نواز اور داماد کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کو ’بی‘ کلاس دی گئی ہے۔
جیل کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کو بتایا کہ جب نواز شریف اور مریم نواز کو جمعے اور سنیچر کی درمیانی شب اڈیالہ جیل منتقل کیا گیا تو ’یہی فیصلہ ہوا کہ نواز شریف کو ملک کا تین بار وزیر اعظم ہونے کے ناطے ’اے‘ کلاس دی جائے گی تاہم بعدازاں اڈیالہ جیل کے ذمہ داران نے رات گئے فیصلہ تبدیل کیا اور بیٹی کے ساتھ ساتھ باپ کو بھی بی کلاس دے گئی‘۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اہلکار کے مطابق ’ان تینوں مجرمان کو الگ الگ بیرکوں میں رکھا گیا ہے جس کی وجہ سے ان کی ایک دوسرے کے ساتھ نہ ملاقات ہو سکتی ہے اور نہ ہی گفتگو‘۔
اہلکار کے مطابق ’جب سے یہ تینوں مجرمان جیل میں آئے ہیں تب سے یہاں خفیہ اداروں سے تعلق رکھنے والے افراد کی تعداد میں اضافہ ہو گیا ہے‘۔
محکمۂ جیل خانہ جات کے ایک اہلکار کے مطابق کسی بھی مجرم کو ’اے‘ کلاس دینے کا اختیار ہوم سیکریٹری کے پاس ہوتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ کسی بھی مجرم کو اے کلاس دینے کے لیے 15 شرائط رکھی گئی ہیں جس پر کسی بھی مجرم کا پورا اترنا ضروری ہے۔ ان شرائط میں سب سے زیادہ ٹیکس کی ادائیگی بھی شامل ہے۔
محکمۂ جیل خانہ جات کے اہلکار کے مطابق جیل میں اے کلاس کے حصول کے لیے مجرم خود یا ان کے ورثا بھی ہوم سیکریٹری کو درخواست دے سکتے ہیں۔
یاد رہے کہ نواز شریف اور مریم نواز کو جب گرفتار کر کے اڈیالہ جیل منتقل کیا گیا تھا تو اسلام آباد کے چیف کمشنر کی جانب سے دو نوٹیفکیشن جاری کیے گئے تھے جس میں کہا گیا تھا کہ ان دونوں مجرمان کو سہالہ ریسٹ ہاؤس میں منتقل کیا جائے تاہم اس پر نہ تو عمل درآمد کیا گیا اور نہ ہی نوٹیفکیشن کو منسوخ کیا گیا۔
ان مجرمان سے مشقت لینے کے بارے میں جیل کے اہلکار کا کہنا تھا کہ جیل حکام نے ابھی تک اس ضمن میں کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔











