آر ٹی ایس: بظاہر آسان، تیز رفتار سہولت

انتخابات

،تصویر کا ذریعہAFP

    • مصنف, شیراز حسن
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار انتخابی نتائج کے لیے ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا اور شاید پہلی بار ہی انتخابی نتائج میں اس حد تک تاخیر ہوئی ہے۔

الیکشن کمیشن نے دعویٰ کیا تھا کہ ٹیکنالوجی کی مدد سے اس بار انتخابات کی شب دو بجے تک تمام نتائج جاری کر دیے جائیں گے تاہم یہ محض دعویٰ ہی رہا۔

پاکستان میں حالیہ عام انتخابات پہلی بار نئے قانونی ضابطہ کار الیکشن ایکٹ 2017 کے تحت منعقد ہوئے ہیں جس میں ایک اہم نکتہ انتخابی نتائج کے لیے رزلٹ مینجمنٹ سسٹم کے قیام کرتے ہوئے ٹیکنالوجی کی مدد حاصل کرنا بھی تھا۔

اسی ضمن میں الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے انتخابی نتائج کی بروقت دستیابی اور اشاعت کے لیے رزلٹ مینیجمنٹ سسٹم متعارف کروایا گیا تھا تاہم الیکشن کمیشن کے مطابق انتخابات کی شب اس سسٹم میں خلل کے باعث انتخابات کی نتائج آنے میں تاخیر ہوئی۔

یہ بھی پڑھیں!

یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ بدھ کی شب رات دو بجے تک کسی بھی صوبائی یا قومی اسمبلی کے حلقے کا ایک نتیجہ بھی سرکاری طور پر سامنے نہیں آیا تھا۔ جس کے بعد پاکستان مسلم لیگ نون، پاکستان پیپلز پارٹی اور متحدہ مجلس عمل سمیت متعدد جماعتوں کی جانب سے انتخابات کی شفافیت پر سوال اٹھانے کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔

جبکہ الیکشن کمیشن کی جانب سے اس سسٹم پر زیادہ دباؤ کے باعث کارکردگی متاثر ہونے کا عذر پیش کیا گیا۔

آر ٹی ایس

،تصویر کا ذریعہECP

آر ایم ایس کیا ہے؟

الیکشن ایکٹ 2017 کی رو سے انتخابات کے نتائج کے بروقت حصول کے لیے الیکشن کمیشن آف پاکستان اور نادرا کے اشتراک سے یہ نظام متعارف کروایا گیا ہے جس میں انتخابی نتائج کے بروقت حصول، شفافیت اور سکیورٹی کے پہلوؤں کو مدنظر رکھا گیا تھا۔

الیکشن کمیشن کے مطابق رزلٹ مینیجمنٹ سسٹم ایک کمپیوٹر پروگرام ہے جس کی انسٹالیشن ریٹرننگ آفسر کے دفتر میں رکھے کمپیوٹر میں کی جاتی۔ یہ الیکٹرانک فارمز پر کام کرنے والا سسٹم ہے جس میں ریٹرننگ افسر کو رپورٹ کرنے والے ڈیٹا انٹری آپریٹرز تمام معلومات درج کر سکتے ہیں مثلاً امیدواروں کے نام، رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد، پولنگ سٹیشن کا نام اور نمبر، ہر امیدوار کو ملنے والے ووٹوں کی تعداد وغیرہ۔

اس کے بعد ٹھوس نتائج کے فارم رزلٹ مینیجمنٹ سسٹم میں سکین کیے جاتے ہیں اور الیکش کمیشن جو بھیج دیے جاتے ہیں جو وہ اپنی ویب سائٹ پر شائع کرتے ہیں۔

آر ٹی ایس کیا ہے؟

انتخابات میں پولنگ سٹیشنز سے نتائج حاصل کرنے کے رزلٹ ٹرانسمیشن سسٹم یا آر ٹی ایس کا استعمال کیا گیا۔ اس کے ذریعے ملک بھر میں قائم 85 ہزار سے زائد پولنگ سٹیشنز سے انتخابی نتائج الیکشن کمیشن کے مرکزی دفتر تک پہنچانے کا کام لیا گیا۔

یہ سسٹم کیسے کام کرتا ہے یا یوں کہیے کہ اسے کیسے کام کرنا چاہیے تھا۔ اس کی وضاحت کچھ یوں ہے کہ پولنگ سٹیشنز پر تعینات پریزائڈنگ افسران ایک موبائل ایپلی کیشن میں انتخابی نتائج اور فارم 45 کی تصویر درج کرتے ہیں۔ اور پھر یہ ڈیٹا الیکشن کمیشن کے سرور پر منتقل ہوجاتا ہے۔

بظاہر یہ ایک آسان اور تیز رفتار سہولت تھی لیکن انتخابات کی شام جب ملک بھر میں عوام انتخابی نتائج کے انتظار میں تھے اس سسٹم نے کام کرنا چھوڑ دیا جس کے باعث یہ انتظار طویل سے طویل تر ہوتا گیا۔

آر ٹی ایس بظاہر ایک بہترین نظام تھا لیکن انتخابات سے قبل بھی اس کے صحیح طور پر کام کرنے کے حوالے سے کچھ خدشات سامنے آئے تھے۔ انتخابات سے قبل مقامی ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی خبروں کے مطابق فیصل آباد، اوکاڑہ اور چند دیگر شہروں میں ریٹرننگ آفسران نے الیکشن کمیشن کو آر ٹی ایس کے بارے میں اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

سسٹم کریش کر گیا

الیکشن کمیشن آف پاکستان آر ٹی ایس سسٹم کے سرور پر اضافی دباؤ کی وجہ سے کام کرنا چھوڑ گیا تھا۔

انتخابات

،تصویر کا ذریعہEPA

ٹیکنالوجی ماہرین کے مطابق ایسا ممکن ہے کہ جب کسی ایپلی کیشن پر بہت زیادہ دباؤ ہوتا ہے تو اس کے کام کرنے میں صلاحیت متاثر ہوتی ہے اور اگر جب بھی اس سسٹم کے مقررہ حد سے زیادہ دباؤ آئے گا یہ کام کرنا چھوڑ سکتا ہے۔

چیف الیکشن کمشنر سردار رضا خان نے کہا تھا کہ نتائج کی فراہمی کے نظام یعنی آر ٹی ایس پر دباؤ کے باعث نتائج کے اعلان میں تاخیر ہوئی۔

انھوں نے کہا کہ انتخابی نتیجے میں دو گھنٹے کی تاخیر سے کوئی داغ نہیں لگا بلکہ انتخابات 100 فیصد شفاف ہیں۔

تاہم انتخابات کی شفافیت اور انتخابی عمل پر نظر رکھنے والی غیرسرکاری تنظیم فافن نے انتخابات کے بعد اپنی جاری کردہ رپورٹ میں اس امر کا اظہار کیا ہے کہ رزلٹ مینیجمنٹ سسٹم میں مسائل کے باوجود حالیہ انتخابات میں انتخابی عمل کے معیار میں بہتری دیکھی ہے جس سے عوام کے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے۔

فافن نے اپنی رپورٹ میں مزید کہا ہے کہ 'سسٹم کی ناکامی سے الیکشن کمیشن کے لیے ناخوشگوار صورتحال پیدا کر دی جس سے لمحے بھر کے لیے الیکشن کمیشن کی بہتری کی کوششوں کو ماند کر دیا۔'