ایون فیلڈ ریفرنس: کیا ملزم کی غیر موجودگی میں فیصلہ سنایا جا سکتا ہے؟

نواز شریف

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنسابق وزیر اعظم نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز شریف اور داماد کیپٹن صفدر کے خلاف لندن میں جائیدادوں کے حوالے سے مقدمے کی سماعت گذشتہ آٹھ ماہ سے جاری ہے
    • مصنف, رفاقت علی
    • عہدہ, بی بی سی اردو، لندن

اسلام آباد کی نیب عدالت کے جج محمد بشیر کو اگلے چوبیس گھنٹوں میں ایک نہیں دو فیصلے کرنے ہیں۔ جج محمد بشیر کو میاں نواز شریف کی اس درخواست پر فیصلہ پہلے کرنا ہے جس میں استدعا کی گئی ہے کہ شریف خاندان کی لندن میں جائیدادوں کے حوالے سے مقدمے کا فیصلہ اس وقت تک موخر کیا جائے جب تک لندن میں زیر علاج بیگم کلثوم نواز کی صحت سنبھل نہیں جاتی۔

دوسرا فیصلہ جج محمد بشیر کو یہ کرنا ہے کہ انھیں اپنی اعلان کردہ تاریخ پر شریف خاندان کے بارے میں مقدمے کا فیصلہ کرنا ہے یا نہیں۔

سابق وزیر اعظم نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز شریف اور داماد کیپٹن صفدر کے خلاف لندن میں جائیدادوں کے حوالے سے مقدمے کی سماعت گذشتہ آٹھ ماہ سے جاری ہے۔

میاں نواز شریف جو اپنی بیگم کلثوم نواز کی علالت کی وجہ سے لندن میں موجود ہیں انھوں نے نیب عدالت سے درخواست کی ہے کہ وہ اس فیصلے کا اعلان 'چند روز' تک مؤخر کر دیں کیونکہ وہ فیصلہ عدالت میں کھڑے ہو کر سننا چاہتے ہیں۔ البتہ میاں نواز شریف نے 'چند روز' کی تعریف نہیں کی ہے اور نہ ہی کوئی ایسا اشارہ دیا ہے کہ وہ کب تک واپس پاکستان جانا چاہتے ہیں۔

ماہرین قانون اس سوال پر بحث کر رہے ہیں کہ کیا کوئی ملزم عدالت سے ایسی درخواست کر سکتا ہے کہ عدالت اس کے مقدمے کا فیصلہ اس کی مرضی کی تاریخ پر سنائے۔

ماہرین قانون کی اکثریت اس موقف کی حامی ہے کہ قانون کسی ملزم کو یہ حق نہیں دیتا کہ عدالت اس کی مرضی کی تاریخ پر فیصلہ سنائے۔ ان ماہرین قانون کا موقف ہے کہ کرمنل پروسیجر کوڈ (سی آر پی سی) کی سیکشن 366 واضح طور پر کہتی ہے کہ عدالت فیصلے کی تاریخ کا اعلان کرے اور اس کا نوٹس ملزم کو دیا جانا لازمی ہے۔

یہ بھی پڑھیئے

ماہرین قانون کا خیال ہے کہ سی آر پی کی سیکشن (3) 366 واضح ہے کہ کسی عدالتی فیصلے کو اس بنیاد پر غیر موثر قرار نہیں دیا جا سکتا ہے کہ عدالتی فیصلے کے وقت ملزم عدالت میں موجود نہیں تھا۔

crpc

ان ماہرین کے خیال میں قانون کسی شخص کی غیر موجودگی میں مقدمے کی کارروائی چلانے کی اجازت نہیں دیتا لیکن جب ملزم نے مقدمے کی کارروائی میں شرکت کی اور اس نے اصالتاً یا وکالتاً عدالتی کے سامنے حاضری دی ہے، عدالت کو مجبور نہیں کر سکتا کہ وہ اپنی اعلان شدہ تاریخ پر فیصلہ نہ سنائے۔

البتہ کچھ ماہرین قانون ایک ایسے عدالتی فیصلے کا ذکر کر رہے ہیں جس میں سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ فیصلہ سناتے وقت ملزم کی عدالت میں موجودگی لازم ہے۔ ایسے سپریم کورٹ کے ایک مقدمے لیاقت علی کا حوالہ دیتے ہیں۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی قانون کی حیثیت رکھتا ہے۔

پاکستان کے ممتاز قانون دان جسٹس ریٹائرڈ طارق محمود کے خیال میں عام طور پر عدالتی فیصلے کے اعلان کے وقت ملزم کا عدالت میں ہونا چاہیے لیکن عدالت سے فیصلہ موخر کرنے کی درخواست کرنا کوئی ایسا غیر معمولی اقدام نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ عدالتیں ایسی درخواستوں پر ہمدردی کے ساتھ غور کرتی ہیں اور جہاں ممکن ہو ایسی درخواستوں کو مان بھی لیتی ہیں۔

جسٹس ریٹائرڈ طارق محمود نے کہا اگر ملزم کی عدالت سے غیر حاضری پر اسے مجرم قرار دے دیا جائے تو پھر وہ اسی صورت میں ضمانت کے لیے درخواست دے سکتا ہے جب وہ پہلے خود کو قانون کے حوالے کرئےگا۔

انھوں نے کہا کہ ماضی میں ایسی مثالیں موجود ہیں جب عدالتوں نے ایسے فیصلے دیے جنھیں عام حالات میں صحیح تصور کیا جاتا۔ انھوں نے سندھ ہائی کورٹکے ایک فیصلے کا ذکر کیا جس میں ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین کو سزا سنائے جانے کے بعد ان کی غیر موجودگی میں ان کی اپیل کی سماعت کی اجازت دی تھی۔

ماہرین قانون ایک نکتے پر متفق نظر آتے ہیں کہ عدالتیں ہمیشہ ہمدردی کے جذبے کو ملحوظ خاطر رکھتی ہیں اور اگر ملزم ایسی ٹھوس وجہ بیان کر سکے جس سے یہ ثابت ہو کہ عدالت میں پیش ہونا ملزم کے اختیار میں نہیں ہے تو ایسے میں عدالتیں اپنی صوابدید پر درخواست پر فیصلہ کرنے کا اختیار رکھتی ہیں۔