ایون فیلڈ ریفرنس: ’نواز شریف کی درخواست وہی جج سنے جو فیصلہ سنائے گا‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسلام آباد کی احتساب عدالت کے ڈیوٹی جج نے سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کی طرف سے ایون فیلڈ ریفرنس پر محفوظ کیا گیا فیصلہ موخر کرنے کی درخواست کی سماعت کرنے سے معذوری ظاہر کی ہے۔
مذکورہ جج کا کہنا ہے کہ جس جج نے اس ریفرنس کی سماعت کی ہے وہی اس درخواست کو بھی سنے۔
احتساب عدالت نمبر ایک کے جج محمد بشیر جنھوں نے نواز شریف، ان کی بیٹی مریم نواز اور داماد کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت کی تھی وہ جمعرات کو چھٹی پر تھے اور متعلقہ عدالت نے اس ریفرنس کا فیصلہ سنانے کی تاریخ چھ جولائی یعنی جمعے کا دن مقرر کر رکھا ہے۔
بدھ کو نواز شریف نے کہا تھا کہ اپنی اہلیہ کی بیماری کے پیش نظر وہ واپس نہیں آ سکتے اس لیے ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ سنانے کے بجائے چند روز کے لیے محفوظ رکھا جائے۔
اس سلسلے میں ان کے وکیل کی جانب سے جمعرات کو احتساب عدالت میں درخواست جمع کرائی گئی تو رجسٹرار نے اسے ڈیوٹی جج محمد ارشد ملک کو بھجوا دیا۔
اس پر احتساب عدالت نمبر دو کے جج نے کہا کہ چونکہ اس ریفرنس کی سماعت احتساب عدالت نمبر ایک کے جج نے کی ہوئی ہے لہذا اس فیصلےکو موخر کرنے کی درخواست کی سماعت بھی اسی ہی جج کو کرنی چاہیے۔
عدالت نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ چھ جولائی کو جب احتساب عدالت نمبر ایک کے جج ڈیوٹی پر آئیں گے تو یہ درخواست اُنھی کی عدالت میں سماعت کے لیے مقرر کی جائے۔
بدھ کو نواز شریف نے لندن میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ عدالت سے درخواست کر رہے ہیں کہ ان کی اہلیہ کی بیماری کی انتہائی سنگین صورتحال کے پیش نظر اپنا فیصلہ محفوظ رکھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے کہا کہ گذشتہ روز ان کی اہلیہ کا آپریشن ہوا ہے اور ڈاکٹرز کو امید ہے کہ وہ کچھ دنوں تک خطرے کی حالت سے باہر آ جائیں گی اور ان کی خواہش ہے کہ پاکستان جانے سے پہلے ان کو ہوش میں دیکھ لیں۔
’میں نے جولائی 2017 سے لے کر اب تک ہر طرح کے فیصلوں اور یکطرفہ کارروائیوں کا سامنا کیا ہے، سارا پاکستان ہی نہیں ساری دنیا میرے خلاف بنائے گئے مقدمات کی نوعیت اور تمام انتقامی کارروائیوں سے واقف ہے اور اس کے باوجود میں نے کسی بھی مرحلے پر قانونی طریقہ کار سے انحراف نہیں کیا ہے۔‘
نواز شریف نے ایون فیلڈ ریفرنس کے فیصلے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’میں یہ فیصلہ بھی اسی کمرۂ عدالت میں کھڑے ہو کر جج صاحب کی زبان سے سننا چاہتا ہوں جس کمرہ عدالت میں، میں نے اپنی بیٹی مریم کے ساتھ سو سے زیادہ پیشیاں بھگتی ہیں۔‘
اس بارے میں مزید پڑھیے
اس کے ساتھ سابق وزیراعظم نے عدالتوں میں بعض کیسز کے فیصلے محفوظ ہونے کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ہماری عدالتوں میں کئی کئی ماہ تک فیصلے محفوظ رکھنے کی روایت موجود ہے جس میں حال ہی میں راولپنڈی کے ایک سیاست دان کا فیصلہ تین ماہ محفوظ رکھنے کے بعد سنایا گیا لیکن وہ مہینوں کی بات نہیں کر رہے بلکہ چند دنوں کی بات کر رہے ہیں اور ابھی ان کے خلاف مزید دو ریفرنسز کی کارروائی جا رہی ہے۔‘
نواز شریف نے کہا کہ لہذاٰ ایک حساس معاملے کے پیش نظر فیصلہ چند دن محفوظ رکھنے سے انصاف اور قانون کا کوئی تقاضا مجروح نہیں ہو گا۔ ’میں چاہتا ہوں کہ اپنی عوام کے درمیان رہتے ہوئے اور انھیں گواہ بناتے ہوئے کمرہ عدالت میں کھڑا ہو کر یہ فیصلہ سنوں۔‘

،تصویر کا ذریعہEPA
نواز شریف نے وطن واپسی کا عزم کرتے ہوئے کہا کہ اگر فیصلہ حق میں آتا ہے یا ان کے خلاف تو بھی وہ اہلیہ کے صحت یاب ہونے کے فوری بعد پاکستان واپس لوٹ جائیں گے کیونکہ وہ 20 کروڑ عوام کے نمائندے ہیں کوئی آمر نہیں کہ بھاگ جائیں۔
پاکستان میں میڈیا کے خلاف کریک ڈاؤن اور سینسر شپ کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ آج میڈیا پر قبضہ کس نے کیا ہے اور کیوں میڈیا آزاد نہیں ہے۔
’آج ایسا صرف میں نہیں کہہ رہا بلکہ دنیا بھر کا میڈیا کہہ رہا ہے اور ایسے ایسے آرٹیکل لکھے جا رہے ہیں اور خبریں آ رہی ہیں کہ بطور پاکستان ان کا سر شرم سے جھک رہا ہے اور یہ سب کون کر رہا ہے ؟ جو کسی ٹی وی کو بند کر رہے ہیں، کسی اخبار کو بند کر رہے ہیں اور کسی پر سینسر شپ لگائی ہوئی ہے، کسی کے لکھنے پر پابندی ہے اور جو لوگ بڑے اچھے آرٹیکل لکھتے تھے وہ آج کل ٹویٹ کر رہے ہیں اور ان کی ٹویٹ کو بھی بند کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’کون ہیں یہ لوگ، جو اپنے اداروں کے ساتھ جو کچھ کر رہے ہیں وہ تو کر رہے ہیں لیکن ملک کے ساتھ کیا کر رہے ہیں اور ان کے کیے ہوئے کا خمیازہ ادارے بھگت رہے ہیں، یہ کام چند افراد کر رہے ہیں لیکن بدنام ادارے ہو رہے ہیں۔‘












