دانیال عزیز پر توہینِ عدالت کا جرم ثابت، پانچ سال کے لیے نااہل

دانیال عزیز

پاکستان کی سپریم کورٹ نے سابق وفاقی وزیر اور مسلم لیگ نواز کے رہنما دانیال عزیز کو توہین عدالت کا مرتکب قرار دیتے ہوئے عدالت کی برخاستگی تک قید کی سزا سنائی جس کے بعد وہ پانچ برس کے لیے نااہل ہو گئے ہیں۔

جسٹس عظمت سعید کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے فیصلہ محفوظ کیا تھا لیکن جمعرات کو جسٹس گلزار احمد نے کی سربراہی میں تین رکنی بینچ میں شامل جسٹس مشیر عالم نے فیصلہ پڑھ کر سنایا۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق فیصلے میں کہا گیا ہے کہ دانیال عزیز نے نجی تقریب میں اعلیٰ عدلیہ اور اس کے ججز کی تضحیک کی جس کے وہ مرتکب پائے گئے ہیں۔ عدالت نے آئین کی شق 63 ون جی کے تحت انھیں نااہل قرار دے دیا۔

تاہم عدالت نے انھیں رعایت دیتے ہوئے آرٹیکل 204 کے تحت عدالت برخاست ہونے تک کی سزا سنائی۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

دانیال عزیز نے توہین عدالت کی کارروائی کے دوران صحت جرم سے انکار کیا تھا اور ان کا موقف تھا کہ اس حوالے سے استغاثہ کی جانب سے ایک گواہ پیش کیا گیا تھا اس نے بھی عدالت کے سامنے کہا تھا کہ اس کے پاس بھی ایسے شواہد موجود نہیں ہیں جس سے وہ قصوروار ثابت ہو سکیں۔

توہینِ عدالت کے مقدمے میں دانیال عزیز نااہلی کے بعد دانیال عزیز آئندہ انتخابات میں حصہ نہیں لے سکیں گے۔

مسلم لیگ نواز کے رہنما دانیال عزیز نے الیکشن لڑنے کے لیے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 77 ناروال سے کاغذاتِ نامزدگی جمع کروائے ہیں۔

یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے مارچ میں دانیال عزیز پر توہین عدالت کے مقدمے میں فرد جرم عائد کی تھی اور مئی میں اس مقدمے سے متعلق محفوظ کر لیا گیا تھا۔

دانیال عزیز پر عائد کی گئی فرد جرم میں کہا گیا ہے کہ انھوں نے گذشتہ برس ستمبر میں ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف احتساب عدالت میں مقدمات کی نگرانی کرنے والے سپریم کورٹ کے جج جسٹس اعجاز الاحسن نے نیب کی ٹیم کو لاہور میں بلا کر نواز شریف کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کے بارے میں کہا تھا۔

ان پر عائد کی گئی فردِ جرم کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل جہانگیر ترین کی نااہلی کے بارے میں کہا گیا تھا کہ عدالت عظمیٰ کا اصل ایجنڈا عمران خان کو بچانا ہے۔

سپریم کورٹ

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنجسٹس عظمت سعید کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے فیصلہ محفوظ کیا تھ

اس فرد جرم میں مزید کہا گیا ہے کہ دانیال عزیز نے نہ صرف انصاف کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کی کوشش کی بلکہ ججز اور سپریم کورٹ کے ججز کو سکینڈلائز کرنے کی بھی کوشش کی ہے۔

دانیال عزیز نے توہین عدالت کی کارروائی کے دوران صحت جرم سے انکار کیا تھا اور ان کا موقف تھا کہ اس حوالے سے اسغاثہ کی جانب سے گواہ پیش کیا گیا تھا اس نے بھی عدالت کے سامنے کہا تھا کہ اس کے پاس بھی ایسے شواہد موجود نہیں ہیں جس سے وہ قصوروار ثابت ہو سکیں۔

اس سے قبل سپریم کورٹ نے مسلم لیگ نواز کے رہنما نہال ہاشمی کو توہینِ عدالت کے مقدمے میں سزا سناتے ہوئے نااہل قرار دیا تھا۔