توہینِ عدالت: طلال چوہدری کے بعد دانیال عزیز بھی سپریم کورٹ طلب

،تصویر کا ذریعہNAtional Assembly
پاکستان کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے مسلم لیگ نواز کے وفاقی برائے نجکاری دانیال عزیز کی عدلیہ مخالف تقاریر کا ازخود نوٹس لے لیا ہے۔
جمعے کو سپریم کورٹ کی جانب سے دانیال عزیز کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا گیا ہے اور انھیں سات فروری کو عدالت میں طلب کیا گیا ہے۔
یہ 24 گھنٹے میں مسلم لیگ ن کی حکومت کے کسی وزیر کو جاری کیا جانے والا توہین عدالت کا دوسرا نوٹس ہے۔
اس سے قبل جمعرات کو سپریم کورٹ نے وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کو عدلیہ مخالف تقریر کرنے پر توہین عدالت کا نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت کے کے لیے چھ فروری کی تاریخ مقرر کی تھی۔
طلال چوہدری کو اُن کی ایسی تقاریر کی وجہ سے توہینِ عدالت کا نوٹس جاری کیا گیا ہے جن میں مبینہ طور پر انھوں نے ایسے الفاظ استعمال کیے جو عدالت کی تضحیک کرنے کے مترادف تھے۔
جمعرات کو ہی سپریم کورٹ نے مسلم لیگ ن کے ہی سینیٹر نہال ہاشمی کو توہین عدالت پر غیر مشروط معافی مانگنے کے باوجود ایک ماہ قید اور 50 ہزار روپے جرمانے کے علاوہ پانچ سال کی نااہلی کی سزا سنائی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
طلال چوہدری اور دانیال عزیز کی جماعت مسلم لیگ نون کے سربراہ اور سابق وزیراعظم نواز شریف کو بھی ملک کی اعلیٰ عدلیہ کی سرعام توہین کے الزامات کا سامنا ہے اور ان کے خلاف توہین عدالت کی درخواستیں دائر ہونا شروع ہو گئی ہیں۔
لاہور ہائی کورٹ نے عدلیہ مخالف تقریر پرتوہین عدالت کے لیے دائر درخواست نواز شریف، ان کی بیٹی مریم نواز اور پنجاب کے وزیر قانون رانا ثنا اللہ کو نوٹسز جاری کیے تھے۔

نواز شریف، مریم نواز اور ان کے قریبی رفقا کی طرف سے عدلیہ مخالف بیانوں میں بتدریج تلخی اور تیزی آئی ہے۔ نواز شریف کے خلاف نیب میں مقدمات آگے بڑھنے کے ساتھ ساتھ نواز شریف اور ان کے قریبی حلقوں کی طرف سے عدلیہ مخالف بیانات میں بھی تیزی آتی گئی ہے۔
دوسری جانب سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے میمو گیٹ پر از خود نوٹس لیتے ہوئے درخواست گزاروں کو نوٹس جاری کیے ہیں۔
درخواست گزاروں میں سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف، گورنر خیبر پختونخوا ظفر اقبال جھگڑا، وفاقی وزیر برائے سیفرون عبدالقادر بلوچ اور قومی وطن پارٹی ہیں۔
ان کے علاوہ پاکستان کے امریکہ میں سابق سفیر حسین حقانی کو بھی نوٹس جاری کیا ہے۔








