ریحام خان نے حمزہ عباسی کو ہتکِ عزت کا نوٹس بھجوا دیا

ریحام خان/حمزہ علی عباسی

،تصویر کا ذریعہGetty Images/HAMZA ALI ABBASAI

پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خان کی سابقہ اہلیہ ریحام خان نے اداکار حمزہ علی عباسی کو قانونی نوٹس بھجوایا ہے کہ اگر انھوں نے معافی نہ مانگی تو ان کے خلاف پانچ ارب روپے کا ہتکِ عزت کا مقدمہ دائر کیا جائے گا۔

پاکستانی میڈیا اور سوشل میڈیا پر دو جون سے ریحام خان اور اداکار حمزہ علی عباسی کے درمیان تنازع صفِ اول کے ٹرینڈز میں شامل ہے۔

حمزہ علی عباسی نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر ریحام خان اور اپنے اور چند دوسری شخصیات کے درمیان ای میلز کے مبینہ تبادلے کے سکرین شاٹ شیئر کیے۔

ریحام خان کی نمائندگی حسن قریشی اینڈ ممدوٹ نامی قانونی فرم کے یاسر لطیف ہمدانی کر ہے ہیں جنھوں نے یہ لیگل نوٹس بی بی سی کے ساتھ شیئر کیا۔

اس لیگل نوٹس میں حمزہ علی عباسی کو لکھا گیا ہے کہ وہ ریحام خان کے خلاف توہین آمیز باتیں، بیانات سوشل میڈیا، الیکٹرانک میڈیا اور پبلک میں کرتے رہے ہیں، جو تحریری، زبانی اور وژول ذرائع استعمال کر کے کیے گئے ہیں۔

نوٹس میں لکھا ہے کہ ’آپ نے الزام لگایا کہ ریحام خان نے ن لیگ کے شہباز شریف سے ایک لاکھ پاؤنڈ وصول کیے ہیں اور یہ کہ ریحام خان سابق وزیرِ داخلہ احسن اقبال کے ساتھ رابطے میں تھیں جسے ثابت کرنے کے لیے آپ نے مبینہ طور پر ہیک شدہ ای میلز پیش کیں۔‘

احسن اقبال نے ان الزامات کی تردید کی ہے اور انھوں نے تصدیق کی ہے کہ وہ کبھی بھی ریحام خان کے ساتھ ای میل پر رابطے میں نہیں رہے اور ان کے شو میں شرکت کرنے کے علاوہ ان سے کبھی نہیں ملے۔

لیگل نوٹس میں لکھا گیا ہے کہ اس سب سے ریحام خان کی ساکھ متاثر کرنے کی مذموم کوشش کی گئی ہے کیونکہ یہ سب باتیں پاکستان اور دنیا بھر میں لوگوں نے سنی اور دیکھی اور پڑھی ہیں اور یہ الزام تراشی اور ہتک کے زمرے میں آتی ہیں۔

حمزہ علی عباسی کو اس نوٹس کے ذریعے آگاہ کیا گیا ہے کہ اگر اس کی وصولی کے 14 روز کے اندر اندر آپ باقاعدہ اور غیر مشروط معذرت نہیں کرتے، جسے اسی انداز میں جس انداز اور وضاحت کے ساتھ پرنٹ، سوشل اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے شائع کیا جائے جس طرح آپ نے ریحام خان کے خلاف کیا، تو آپ کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جائے گی۔

بی بی سی نے اس نوٹس کے حوالے سے اداکار حمزہ علی عباسی سے رابطہ کیا تو انھوں نے کہا کہ 'مجھے ابھی نوٹس وصول نہیں ہوا مگر میں نے انٹرنیٹ پر دیکھا ہے اور اس کا جائزہ لینے کے بعد میں چند روز میں اس کا جواب دوں گا۔'

انہوں نے کہا کہ 'فی الحال میری توجہ اس خرافات کو دنیا کے سامنے لانے پر مرکوز ہے جو اس کتاب میں لکھی گئی ہے تاکہ انتخابات سے قبل ہم اس معاملے کو سمیٹ کر اصل اور حقیقی مسائل پر بات کر سکیں۔‘