’ریحام خان اب بھابھی نہیں رہیں‘

،تصویر کا ذریعہTwitter
- مصنف, طاہر عمران
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
عمران خان اور ریحام خان میں طلاق کے فیصلے کے اعلان کے بعد پاکستان میں ریحام سب سے اوپرٹرینڈ کر رہا ہے۔
عمران خان نے ٹویٹ کی کہ ’یہ میرے، ریحام اور ہمارے خاندانوں کے لیے دکھ کا مرحلہ ہے۔ میں سب کو ہماری پرائیویسی کے احترام کی درخواست کرتا ہوں۔ میرے دل میں ریحام اور ان کے اخلاق اور کردار کی بہت زیادہ عزت ہے اور ان کے اس عزم کی کہ وہ غیر مراعات یافتہ طبقوں کی مدد کرنا چاہتی ہیں۔‘
عمران خان نے یہ بھی کہا کہ ’ہماری طلاق کے حوالے سے مالی معاہدے اور اس پر قیاس آرائیاں جھوٹی اور شرمناک ہیں۔‘
اس کے جواب میں سندھ اسمبلی کی سپیکر شہلا رضا نے ٹویٹ کی کہ ’اگر یہ ذاتی معاملہ ہے تو پی ٹی آئی کا ترجمان کیوں اس خبر کا اعلان کر رہا ہے؟‘
انھوں نے طلاق کے مالی معاملات کے بارے میں بھی دعویٰ کیا جو پاکستانی میڈیا پر بڑے پیمانے پر زیرِ بحث ہے۔

،تصویر کا ذریعہTwitter
عمران خان اور پی ٹی آئی کے حامیوں کی جانب سے اس پر ملا جلا ردِ عمل آیا ہے۔ جہاں ایک جانب لوگ اس پر ریحام خان کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں وہیں بعض اسے عمران خان کی مقبولیت کے لیے چیلنج قرار دے رہے ہیں۔
عدنان ابن اسد نے ٹویٹ کی کہ ’عمران اور ریحام کی طلاق کا سن کر دکھ ہوا۔ طلاق کا فیصلہ اور اس کی وجوہات شاید ضرورت سے زیادہ سنسی خیز ہیں مگر عمران کی مقبولیت خطرے میں ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہTwitter

،تصویر کا ذریعہTwitter

،تصویر کا ذریعہTwitter
حسنین راج نے ٹویٹ کی کہ ’ریحام خان ایک انتہائی خوبصورت خاتون ہیں۔ میں طلاق کے فیصلے پر بہت افسردہ ہوں، مگر یہ اُن کی زندگی ہے آحر دوسرے اُن کی زندگی میں کیوں دخل دیں؟‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سید اسجد نے ٹویٹ کی کہ ’ریحام خان بھابھی اب بھابھی نہیں رہیں۔ یہ تب ہوتا ہے جب آپ ایک خاتون کو سیاست میں دخل دینے سے منع کرتے ہیں۔‘
اسی طرح پاکستانی سوشل میڈیا پاکستان ٹوڈے کے مدیر اور سینیئر صحافی عارف نظامی کے تعریفوں سے بھرا ہوا ہے جنھوں نے یہ خبر بریک کی تھی اور انھیں پی ٹی آئی کے حامیوں او سوشل میڈیا پر شدید تنقید کو گالیوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
عمران خان اور ریحام خان نے اس کی تردید کی تھی اور اس کے بعد پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا اور عمران خان کے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے ان کی خوشگوار موڈ میں کئی تصاویر اور ویڈیوز جاری کی گئیں۔
ان سے دیے جانے والے تاثر کے باوجود عارف نظامی نے اپنی خبر پر قائم رہنے کا فیصلہ کیا تھا۔







