’سبیکا کی وجہ سے ہمیں پاکستانیوں سے محبت ہو گئی‘

سبیکا شیخ

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشناتوار کی دوپہر ہیوسٹن میں سبیکا شیخ کی نمازِ جنازہ ادا کی گئی
    • مصنف, ارم عباسی
    • عہدہ, بی بی سی اردو

امریکی ریاست ٹیکساس کے ایک ہائی سکول میں ایک طالبعلم کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والی 17 سالہ پاکستانی طالبہ سبیکا شیخ کی میت امریکہ سے پاکستان کے لیے روانہ کر دی گئی ہے۔

18 مئی کو سانٹا فے سکول میں فائرنگ کے واقعے میں دس افراد ہلاک جبکہ دس سے زیادہ افراد زخمی ہوئے۔

ان میں سبیکا شیخ بھی شامل ہیں جو امریکی حکومت کے ایک سٹوڈنٹ ایکسچینج پروگرام کے تحت امریکہ آئی تھیں۔ اس پروگرام کے خاتمے میں چند ہفتے ہی بچے تھے اور سبیکا کی پاکستان واپسی عیدالفطر سے پہلے متوقع تھی۔

اس بارے میں مزید خبریں

ہیوسٹن میں پاکستانی قونصلیٹ کی اہلکار عائشہ فاروقی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’ہیوسٹن کے وقت کے مطابق سبیکا کی میت اتوار کی شب رات نو بجے کی ایک فلائٹ سے پاکستان بھیجی جا رہی ہے جو پیر کو کراچی پہنچے گی۔ میت کے ساتھ سبیکا کے ایک رشتہ دار ہیں۔ میں خود اس وقت میت کے ساتھ ہوائی اڈے پر ہوں تاکہ میت کو روانہ کیا جا سکے۔‘

اس سے پہلے اتوار کی دوپہر ہیوسٹن میں سبیکا شیخ کی نمازِ جنازہ ادا کی گئی جس میں ایک ہزار سے زیادہ افراد نے شرکت کی۔

سبیکا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنسبیکا کے جنارے میں ایک ہزار افراد نے شرکت کی

سبیکا امریکہ میں جیسن کوگبرن کے گھرانے کے ساتھ ٹھہری ہوئی تھیں۔ جیسن جنازے کے موقع پر بھی موجود تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’سبیکا سے مل کر ہمیں پاکستانی ثقافت کا پتہ چلا۔ وہ ہمیں اپنے دوستوں اور پاکستان کے قصے سناتی تھیں۔ اس کی وجہ سے ہمیں پاکستان اور پاکستانیوں سے محبت سی ہو گئی۔‘

جیسن کا کہنا تھا کہ سبیکا ’بہت حوش اخلاق اور تمیزدار بچی تھی۔ وہ ہمارے بچوں کے ساتھ فوراً ہی گھل مل گئی تھی۔ اس کے ساتھ بہت برا ہوا۔ ہم سمجھ سکتے ہیں کہ اس کے گھر والے کتنے کرب سے گزر رہے ہیں۔ ہم اسے ہمیشہ دعاؤں میں یاد رکھیں گے۔‘

جنازے میں اسلامک سینٹر آف گریٹر ہیوسٹن کے صدر مسرور جاوید خان بھی شامل تھے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا ’میرے اپنے بچے یہاں بڑے ہوئے۔ اب ان کے بچے سکول جاتے ہیں۔ ہم بچوں کو سکول بھیجتے ہوئے خوف کا شکار نہیں ہونا چاہتے۔ کوئی بھی کبھی سکول میں فائرنگ کر کے ہمارے بچوں کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ اگر امریکہ اپنے بچوں کو محفوظ نہیں رکھ سکتا تو پھر کون کر سکتا ہے؟ ہمیں گن کنڑول کو یقینی بنانا ہوگا تاکہ کوئی بھی ماں اپنے بچے کو سکول بھیجتے ہوئے خوفزدہ نہ ہو۔‘