چترال میں مفت بس سروس

،ویڈیو کیپشنچترال کے ایک شہری نے خواتین اور بچوں کےلیے ’مفت بس سروس‘ کا آغاز کیا ہے
    • مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، چترال

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کا پہاڑی ضلع چترال کا شمار ملک کے پسماندہ ترین مقامات میں ہوتا ہے جہاں عرصہ دراز سے بنیادی سہولیات کا شدید فقدان رہا ہے۔

قدرتی آفات سے بری طرح متاثرہ اس علاقے میں اگر ایک طرف صحت عامہ کے لاتعداد مسائل موجود ہیں تو دوسری طرف ضلع بھر میں پبلک ٹرانسپورٹ کا کوئی وجود ہی نہیں جس سے شہری پہاڑی اور دشوار گزار مقامات پر پہنچنے کےلیے پیدل چلنے پر مجبور ہیں۔

لیکن اب چترال کے ایک شہری نے خواتین اور بچوں کو سفری سہولت فراہم کرنے کےلیے ’مفت بس سروس‘ کا آغاز کرکے ایک نئی مثال قائم کردی ہے۔

چترال

’فری فیملی بس‘ کے نام سے بلامعاضہ پبلک ٹرانسپورٹ کو قائم ہوئے سات ماہ کا عرصہ ہوگیا ہے اور اس دوران اسے پورے علاقے میں خاصی مقبولیت حاصل ہوئی ہے۔ شہر میں یہ بس اتنی مشہور ہوگئی ہے کہ آج کل اس میں سواریوں کےلیے جگہ کم پڑنے لگی ہے۔

چترال شہر کے علاقے گین کورنی سے ہر صبح نو بجے یہ بس نکلتی ہے اور مختلف سٹاپوں سے بیمار خواتین، بچوں اور بوڑھوں کو اٹھاتے ہوئے انھیں مرکزی بازار اور ہسپتال لے جایا جاتا ہے اور پھر واپسی پر بھی ان کو فری سہولت فراہم کی جاتی ہے۔

چترال

بس کے مالک اور سابق فوجی آفیسر شہزادہ سراج الملک کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے چترال میں پبلک ٹرانسپورٹ کا کوئی وجود نہیں اور علاقہ بھی بیشتر پہاڑوں مقامات پر مشتمل ہے جس سے اکثر اوقات غریب افراد بالخصوص خواتین کو کئی قسم کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’میں ہر صبح گھر سے باہر نکلتا ہوں تو سڑک کے کنارے درجنوں بیمار خواتین اور بچے گھنٹوں تک گاڑیوں کے انتظار میں کھڑے ہوئے نظر آتے ہیں اور یہ سب وہ افراد ہیں جو ٹیکسی کا خرچہ برداشت نہیں کرسکتے۔‘ ان کے مطابق غریب اور لاچار افراد کی سہولت کےلیے یہ مفت بس سروس شروع کی گئی ہے جس میں فیملیز کے علاوہ اور کسی کو جانے کی اجازت نہیں۔

انھوں نے کہا کہ پہلے دو مہینے تک بس بغیر سواریوں کی چلتی رہی کیونکہ لوگوں کو معلوم نہیں تھا اور نہ انھیں بس کے آنے کا وقت کا اندازہ تھا لیکن آج کل یہ بس اتنی مقبول ہوچکی ہے کہ اس میں کھڑے ہونے کی جگہ بھی نہیں ملتی۔

اس فری بس سروس کی خاص بات یہ ہے کہ یہ مقررہ وقت پر چلتی ہے اور سٹاپ کے علاوہ اور کہیں نہیں رکتی۔ 18 سیٹوں پر مشتمل یہ بس جدید سہولیات سے آراستہ ہے جس میں ہیٹر اور ایئرکنڈیشنر کی سہولت بھی موجود ہے۔ اس بس کا روٹ ایک طرف سے تقریباً چھ کلومیٹر کے فاصلے پر مشتمل ہوتا ہے جو پہاڑوں سے شروع ہوکر بازار اور شہر کے دو ہسپتالوں پر جاکر ختم ہوجاتا ہے۔ اس طرح دو گھنٹے کے وقفے کے بعد بس کا ڈرائیور پھر انہی سواریوں کو لے کر واپس مطلوبہ مقامات پر چھوڑ دیتا ہے۔

چترال

چترال شہر کے اندر پبلک ٹرانسپورٹ کا کوئی تصور نہیں یعنی یہاں بڑی گاڑیوں کا رواج نہیں بلکہ مقامی لوگ سفر کرنے کےلیے ٹیکسی گاڑیوں کا استعمال کرتے ہیں جو عام طورپر مقامی افراد کی بس کی بات نہیں۔

شہزادہ سراج الملک کے مطابق ’میرے ساتھ کئی لوگ رابطے کررہے ہیں کہ چترال کے دوسرے علاقوں میں بھی اس طرح کی سروس شروع کی جائے لیکن میں مزید خرچ برداشت نہیں کرسکتا۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ان کا خیال تھا کہ شاید چترال کے کچھ مخیر حضرات بھی اس کار خیر میں اپنا حصہ ڈال دیں گے اور اس طرح کی سہولت دیگر علاقوں میں بھی شروع کی جائے گی لیکن ابھی تک کسی کی طرف سے کوئی اعلان سامنے نہیں آیا ہے۔

ان کے بقول حکومت کو اس جانب ضرور توجہ دینا چاہیے اور اگر مفت سروس فراہم نہیں کرسکتی تو کم سے کم کوئی اچھی اور سستی پبلک ٹرانسپورٹ کا آغاز ہی کیا جائے تاکہ غریب عوام کے مسائل کچھ تو کمی آئے۔