اتنی شہادتوں کے بعد 26 ملزمان کیسے رہا ہوگئے: اقبال لالہ

،تصویر کا ذریعہBBC Urdu
- مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے ضلع مردان میں واقع عبدالولی خان یونیورسٹی میں توہین مذہب کے میبنہ الزام میں قتل کیے جانے والے مشال خان کے والد اقبال لالہ نے کہا ہے کہ یہ بات ان کی سمجھ سے بالاتر ہے کہ اتنے واضح ویڈیوز اور دیگر ثبوتوں کے باوجود 26 ملزمان کو کیسے رہا کردیا گیا۔
مشال خان کو گذشتہ برس طلبا اور یونیورسٹی کے کچھ ملازمین پر مشتمل ہجوم نے تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد ہلاک کر دیا تھا۔
بدھ کو عدالت نے جہاں اس مقدمے میں ایک مجرم کو سزائے موت اور 30 کو قید کی سزائیں دی ہیں وہیں 26 کو بری کر دیا گیا ہے۔
برطانیہ کے شہر برمنگھم سے بی بی سی اردو سے ٹیلی فون پر خصوصی گفتگو کرتے ہوئے اقبال لالہ نے کہا کہ 'لگتا ایسا ہے کہ ان کے ساتھ انصاف نہیں ہوا۔'
انہوں نے کہا کہ 'میں نے تمام تر دباؤ اور مشکلات کے باوجود یہ مقدمہ اور جنگ اکیلے لڑی اور مقصد یہ تھا کہ پاکستان کا چہرہ واضح اور روشن ہو جائے اور ملک کے مستقبل کے مشالوں کو تحفظ ملے لیکن فیصلے سے لگتا ہے کہ انصاف متزلزل ہوا ۔‘
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے کہا کہ عدالت کی طرف سے جن ملزمان کو رہا کیا گیا ان کے خلاف وہ ہائی کورٹ جائیں گے اور اپیل کا حق بھی محفوظ رکھتے ہیں۔
خیال رہے کہ عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ بری کیے جانے والے ملزمان نے مشال خان پر تشدد میں حصہ نہیں لیا تھا اور وہ یا تو صرف وہاں کھڑے تھے یا پھر ویڈیوز بنا رہے تھے۔
اقبال لالہ کے بقول ’یہ مقدمہ صرف میرے بیٹے کے قتل کا نہیں تھا بلکہ اس کیس میں حکومت کی عملداری کو چیلنج کیا گیا تھا تو ایک لحاظ سے یہ ریاست کی رٹ کی دھجیاں اڑائی گئی تھیں اور اگر ایسی صورت میں انصاف نہیں ملتا ہے تو اس سے ریاست کا بھی نقصان ہوا ہے۔‘
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ اچھا فیصلہ ہے کہ اگر صوبائی حکومت رہا ہونے افراد کے خلاف عدالت جاتی ہے۔ تاہم انھوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ ابتدا ہی صوبائی حکومت کی طرف کے ساتھ وہ مدد نہیں کی گئی جس کی وہ توقع کررہے تھے۔
مشال خان کے والد اقبال لالہ گزشتہ ماہ ایک تقریب میں شرکت کرنے کےلیے برطانیہ گئے تھے جہاں وہ بدستور مقیم ہیں۔










