مشال خان کے قاتل کا عدالتی بیان میں اپنے جرم کا اعتراف

،تصویر کا ذریعہAFP
عبدالولی خان یونیورسٹی کے طالبعلم مشال خان کی ہلاکت کے الزام میں گرفتار عمران علی نے سنیچر کو مجسٹریٹ کے سامنے اپنے جرم کا اعتراف کر لیا ہے۔
خیبر پختونخوا کے ضلع مردان میں ملزم عمران علی کو سٹی مجسٹریٹ کے سامنے سخت حفاظتی انتظامات میں پیش کیا گیا جہاں انھوں نے اپنا بیان ریکارڈ کرایا۔ اس بیان میں انھوں نے تفصیل بتائی اور کہا کہ مشال خان مبینہ طور پر گستاخانہ گفتگو کرتا تھا ۔
اس بیان میں ان کا کہنا تھا کہ مشال خان سال 2014 سے ان کا ہم جماعت تھا اور اس کے خیالات سیکولر طرز کے تھے اور وہ مبینہ طور پر گستاخانہ گفتگو کرتا تھا جس وجہ سے اس نے مشال خان سے تعلقات ختم کر دیے تھے۔ عمران علی بھی عبدالولی خان یونیورسٹی میں شعبہ صحافت کا طالبعلم ہے۔
عمران علی کے اعترافی بیان کے مطابق وقوعہ کے روز ہزاروں کی تعداد میں طلباء اور دیگر عملہ مشتعل تھے۔ اس بیان میں عمران علی نے کہا کہ اس نے اپنا پستول لیا اور دیکھا کہ مشال ان لوگوں سے بھاگ رہا ہے تو اس نے فائر کیا اور پھر وہاں سے چلا گیا جس کے بعد دیگر طلباء نے مشال خان پر مزید تشدد کیا ۔

،تصویر کا ذریعہAFP
عمران علی کے بیان میں کہا گیا ہے کہ اس واقعہ میں یونیورسٹی انتظامیہ بھی قصور وار ہے۔
سٹی مجسٹریٹ کے سامنے بیان ریکارڈ کرانے کے بعد ملزم کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
عبدالولی خان یونیورسٹی مردان کے شعبہ صحافت کے طالبعلم مشال خان کو تیرہ اپریل کو یونیورسٹی کے اندر مشتعل افراد نے فائرنگ اور تشدد کرکے ہلاک کر دیا تھا۔ مشال خان کے قتل کے الزام میں 49 افراد کو نامزد کیا گیا جن میں سے پولیس کے مطابق 47 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے جبکہ دو افراد قبائلی علاقوں کی جانب فرار ہو گئے ہیں ۔
سپریم کورٹ نے مشال خان کے قتل کے واقعہ کا از خود نوٹس لیا جہاں خیبر پختونخوا پولیس نے اپنی رپورٹ جمع کرا دی ہے ۔
اس واقعہ کی تحقیقات کے لیے جوائنٹ انویسٹیگیشن ٹیم یعنی جے آئی ٹی قائم کی گئی ہے جس میں پولیس حکام کے مطابق قابل افسران شامل ہیں ۔











