امریکہ کا پاکستان کو ’نوٹس‘ کیا اور کتنا سنگین ہے؟

ٹرمپ

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشننائب امریکی صدر مائیک پینس نے گذشتہ دنوں افغانستان میں کہا کہ صدر ٹرمپ نے پاکستان کو نوٹس دیا ہوا ہے
    • مصنف, ہارون رشید
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹویٹ کے ذریعے اپنے ارادے تو ظاہر کر دیے ہیں لیکن ایسا کیا ہے جو امریکہ مسلسل پاکستان سے مانگ رہا ہے۔

اسلام آباد اور واشنگٹن میں سفارتی اور صحافتی ذرائع بتا رہے ہیں کہ امریکہ نے پاکستان کو واضح طور پر بتا دیا ہے کہ اگر اس کے مطلوبہ شدت پسندوں کے خلاف کارروائی نہ کی تو پھر امریکہ یہ کارروائی خود پاکستان میں کہیں بھی کرنے کا مصمّم ارادہ رکھتا ہے۔

اس بارے میں اگلے 24 سے 48 گھنٹوں کی بات امریکہ حکام نے کرکے صورتحال مزید واضح کر دی ہے۔

اسی بارے میں مزید پڑھیے

نائب امریکی صدر مائیک پینس نے گذشتہ دنوں افغانستان میں اس جانب ایک اشارہ یہ کہہ کر دیا کہ صدر ٹرمپ نے پاکستان کو نوٹس دیا ہوا ہے۔

یہ نوٹس کیا ہے اور کتنا سنگین ہے اس بارے میں نہ تو انھوں نے نہ ہی پاکستانیوں نے کوئی وضاحت کی لیکن پاکستان فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے ایک اخباری کانفرنس میں ایک تو نوٹس کی بات پر ناراضی کا اظہار کیا اور دوسرا کہا کہ امریکہ کو پاکستانی سرزمین پر کسی بھی یکطرفہ کارروائی سے پرہیز کرنا چاہیے۔

وزیر دفاع خرم دستگیر نے بھی ٹویٹ میں کہا کہ پاکستان اپنی حفاظت کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔ ان بیانات سے واضح ہے کہ امریکہ کیا چاہ رہا ہے یا کیا دھمکی دے رہا ہے۔

امریکی اور پاکستانی حکام کی اب تک کی گفتگو سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ شدت پسندوں کے خلاف خصوصاً افغانستان اور انڈیا میں سرگرم گروپوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کر رہا ہے اور ایسا نہ کرنے کی صورت میں اس نے یکطرفہ کارروائی کی دھمکی دے رکھی ہے۔

جماعت الدعوۃ

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنجماعت الدعوۃ کے کارکنوں نے امریکہ مخآلف ریلی بھی نکالی

سفارتی اور صحافتی حلقوں میں کہا جا رہا ہے کہ امریکہ نے واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ اگر اسے افغان طالبان کے رہنما ہبت اللہ اخوندزادہ اور سراج الحق حقانی پاکستان میں کہیں بھی دکھائی دیے تو وہ ان کے خلاف یکطرفہ کارروائی کرے گا۔ پاکستان کی سیاسی اور فوجی قیادت سے اس بارے میں وضاحت کے لیے رابطے بےسود ثابت ہوئے ہیں۔

ویسے یہ کوئی پہلی مرتبہ نہیں ہوگا کہ امریکہ پاکستان میں ’قانون کو اپنے ہاتھوں میں لے گا۔‘ امریکہ پہلے ہی القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن اور افغان طالبان کے امیر مولوی اختر منصور کو اسی قسم کی کارروائیوں میں نشانہ بنا چکا ہے۔ قبائلی علاقوں اور ہنگو جیسے بندوبستی علاقے میں بھی وہ یہ ان گنت مرتبہ کر چکا ہے۔ تو اس مرتبہ نیا کیا ہے؟

یہ بھی پڑھیے

اس مرتبہ نیا صدر ٹرمپ کا غیرمتوقع اور جارحانہ رویہ ہے جس سے امریکی انتظامیہ اب فائدہ اٹھا کر پاکستان پر دباؤ ڈال رہی ہے۔ صدر ٹرمپ کچھ بھی کر سکتے ہیں اور پاکستانی قیادت بھی جانتی ہے کہ اگر امریکیوں کو حقانی یا افغان طالبان کا کوئی بھی ہدف پاکستان میں کہیں بھی ملا تو وہ کر گزریں گے۔ پاکستان کے لیے ایسا اگر ہوا تو ندامت ہوگی۔ ماضی میں تو ایبٹ آباد اور بلوچستان میں حملے بغیر کسی پیشگی اطلاع کے ہوئے اس مرتبہ بظاہر ایک عمومی نوٹس کے بعد کر گزریں گے۔

پاکستان افغان طالبان کی قیادت سے بظاہر تو انکار کرتا ہے لیکن ان کی موجودگی اگر ہے تو اس کے لیے ذمہ دار پاکستان میں اب بھی موجود لاکھوں افغان پناہ گزینوں کو دیتا ہے۔ ایک وزیر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ سب افغانوں کو واپس بھیج دیں اگر اس کے بعد کوئی طالب یہاں ملا تو آپ ہمارا گریبان پکڑ لیجیے گا۔ یعنی پناہ گزینوں کی موجودگی تک ان کی موجودگی سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے۔ یہی بات پاکستان فوج کے ترجمان نے بھی گذشتہ دنوں دہرائی تھی۔

حافظ سعید

،تصویر کا ذریعہAFP

اب دیکھنا یہ بھی ہوگا کہ آیا امریکہ کی دھمکی محض افغان طالبان تک محدود ہے یا پھر انڈیا مخالف گروپس بھی اس میں شامل ہوں گے۔

امریکہ پہلے ہی جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید کو مطلوب شخصیت قرار دے کر ان کے سر کی قیمت بھی لگائے بیٹھا ہے۔ فروری میں صدر ٹرمپ کے اقتدار سنبھالنے کے فوری بعد پاکستان نے بغیر کسی نئے امریکہ مطالبے کے انہیں گھر پر نظربند کر دیا۔

پھر تازہ ٹویٹ کے ساتھ ہی حکومت کو جماعت الدعوۃ کی یاد ویسے تو نہیں آئی ہوگی اور تازہ پابندیوں کا کوئی پس منظر بھی یقیناً ہو گا۔ وزیر دفاع خرم دستگیر نے بی بی سی کو بتایا کہ جماعت الدعوۃ کے خلاف کارروائی امریکی دھمکی نہیں بلکہ ردالفساد کے تحت جاری ہے۔ اب کان کہیں سے بھی پکڑیں بات واضح ہے۔

سال نو کا آغاز اگر یہ ہے تو آگے کیا ہوگا سب کو کم از کم صدر ٹرمپ نے بتانے کی پوری کوشش کر دی ہے۔