ن لیگی اراکین کے استعفے، دباؤ یا ذاتی فیصلہ

،تصویر کا ذریعہAASTANA ALIA SIAL SHARIF
- مصنف, حمیرا کنول
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام آسلام آباد
پاکستان کی سیاست میں اس وقت پنجاب پر سب کی نظریں لگی ہیں جہاں عام انتخابات سے صرف چھ سے آٹھ ماہ قبل ایک بڑا سیاسی دنگل ہو رہا اور ملکی سیاست کے سب سے بڑے اور پختہ کار پہلوان کو ہر بڑا چھوٹا پہلون چت کرنے پر تلہ ہوا ہے اور سمجھ رہا ہے کہ اس پہلوان کے پاوں اکھڑ چکے ہیں اور بس ایک اور دھکا دینے کی دیر ہے یہ دھڑام سے زمین پر ڈھیر ہونے ہی والا ہے۔
ایک جانب ختم نبوت کے نام پر مذہبی گروہ سرگرم نظر آرہے ہیں تو دوسری جانب ماڈل ٹاؤن رپورٹ کے ایک اہم کارڈ کے ساتھ مسلم لیگ ن کی رہی سہی ساکھ اور ووٹ بینک کو توڑنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
اتوار کو فیصل آباد میں دھوبی گھاٹ گراؤنڈ میں مسلم لیگ ن کے دو اراکین نے قومی اسمبلی اور تین نے صوبائی اسمبلی سے استعفوں کا اعلان کیا۔
یہ بھی پڑھیے
یہاں ختم نبوت کے نعرے لگا کر استعفے کا مطالبہ کرنے والوں کی قیادت خادم حسین رضوی نہیں بلکہ ان سے بھی سینئیر شخصیت پیر حمید الدین سیالوی نے کی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سرگودھا سے تعلق رکھنے والی روحانی شخصیت پیر حمید الدین سیالوی نے اس سے قبل یہ دعویٰ کیا تھا کہ پنجاب سے تعلق رکھنے والے 14 ارکانِ پارلیمان نے اپنے استعفے ان کے پاس جمع کروا دیے ہیں۔
پیر سیالوی نے مطالبہ کیا تھا کہ 'صوبہ پنجاب کے وزیر قانون رانا ثنا اللہ نہ صرف مستعفی ہوں بلکہ وہ ٹی وی پر آ کر یہ وضاحت بھی کریں کہ وہ احمدیوں کو مسلمان تسلیم نہیں کرتے، جس کے بعد وہ بحیثیتِ مسلمان اپنے ایمان کی تجدید بھی کریں۔'
لیکن ان کا مطالبہ پورا نہیں ہو سکا اور وفاقی وزیر قانون کے بعد صوبائی وزیر قانون کا مستعفی ہونا ابھی ناممکن دکھائی دے رہا ہے مگر اب پیر صاحب کہتے ہیں کہ بات اب وزیر قانون کے استعفے سے آگے نکل چکی ہے۔
ڈاکٹر نثار احمد جٹ نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 81 سے جبکہ غلام بی بی بھروانہ نے ضلع جھنگ کے حلقہ این اے 88 سے استعفیٰ دیا۔ اسی طرح مولانا رحمتہ اللہ اور پیر نظام الدین سیالوی اور خان محمد بلوچ مستعفی ہونے کا اعلان کرنے والوں میں شامل ہیں۔
ان اراکین کا تعلق فیصل آباد، چنیوٹ، جھنگ اور سرگودھا سے ہے۔

،تصویر کا ذریعہFACEBOOK
مقامی صحافیوں کا کہنا ہے کہ مقامی سطح کے اسی میدان میں بہت جلسے ہوئے ہیں۔ پچھلے سات سالوں میں یہ سب سے بڑا جلسئہ تھا۔
لیکن پیر حمید الدین کی طرف سے پہلے 14 اور پھر پچاس استعفوں کا دعویٰ کیا اب یہ تعداد گھٹ کر پانچ تک کیوں آگئی ہے؟
اس سوال کا جواب ہمیں پیر صاحب سے براہ راست تو نہیں مل سکا۔ رابطہ کرنے پر ہمیں مسلسل یہی جواب دیا گیا کہ وہ میٹنگ میں مصروف ہیں۔
صبح دس بجے سے شام چار بجے تک جاری رہنے والی ختم نبوت کانفرنس کے بعد نہ تو اس جماعت اور نہ ہی مستعفی ہونے والے اراکین بات کرنے کے لیے تیار دکھائی دے۔ دھوبی گھاٹ میں جاری کانفرنس کے دوران سٹیج پر آکر انھوں نے سیالوی صاحب کی حمایت کرنے اور ختم نبوت کے لیے جان تک قربان کرنے کا دعویٰ کیا۔
اس علاقے کی سیاست پر نظر رکھنے والے سینیئر صحافیوں کے مطابق مستعفی ہونے والے اراکین اگر استعفے نہ دیتے تو پھر انھیں آئندہ انتخابات میں اپنی نشستوں سے بھی ہاتھ دھونے پڑتے کیونکہ ان کے وٹرووں کی بڑی تعداد پیر سیالوی کے حامیوں اور مریدوں میں سے ہے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ بہت سے لوگ ہوا کا رخ دیکھ کر جماعت بدلتے ہیں اور اب یہ رخ کم ازکم مسلم لیگ ن کے حق میں نہیں لگتا۔

،تصویر کا ذریعہNATIONAL ASSEMBLY
ڈاکٹر نثار احمد جٹ نے اپنی گفتگو میں اسی صورتحال کی تصدیق بھی کی۔
بی بی سی اردو کے ریڈیو پروگرام سیئربین میں گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ وہ علمائے اکرام اور علاقے کے معززین کے دباؤ کا سامنا نہیں کر سکتے تھے اس لیے استعفے کا اعلان کیا۔
’ اگر فیصلہ میری ذات کا ہوتا تو شاید میں استعفیٰ نہ دیتا ، سیالوی صاحب نے نہ تو براہ راست میری کوئی ملاقات تھی اور نہ ہی جان پہچان تھی لیکن پیر صاحب کے آنے سے پہلےگدی نشینوں اور علماء اکرام کا ایک وفد آیا اور انھوں نے بہت مجبور کیا مجھے کہ آپ کی شرکت باعث فخر ہے اور سیدھی سی بات ہے کہ میں انھیں انکار نہ کر سکا۔ میں وہاں یہ اعلان کر کے آیا ہوں کہ جب سیالوی صاحب جب کہیں گے ہم استعفیٰ دے دیں گے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ میرے استعفے رانا ثنا اللہ کا استعفیٰ یا وضاحت سے مشروط نہیں ’میرا مطالبہ حکومت وقت سے یہ ہے کہ جو وفاق میں اس قانون کی تبدیلی کے محرکات تھے ان کا پتہ لگایا جائے۔‘
ماڈل ٹاؤن کو سماجی اور قانونی جبکہ ختم نبوت کو مذہبی معاملہ کہہ کر دونوں فریقین کی جانب سے حکومت وقت کو یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ جانے کا وقت آ گیا ہے۔








