جنرل باجوہ کا وزیراعظم کو ٹیلی فون،’دھرنے کے معاملے کو پرامن طریقے سے حل کیا جائے‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کو ٹیلی فون کیا ہے اور تجویز دی ہے کہ فیض آباد دھرنے سے متعلق دونوں جانب سے تشدد سے اجتناب کیا جائے اور اس معاملے کو پرامن طریقے سے حل کیا جائے۔
پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ آرمی چیف نے وزیر اعظم سے کہا ہے کہ پرتشدد کارروائیاں کسی طور پر بھی ملکی مفاد میں نہیں ہے۔
اس سے پہلے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے دھرنے سے متعلق اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ کی طرف سے عدالتی حکم پر عمل درآمد نہ کرنے کے بارے میں مقدمے کی سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس تاثر کو ختم ہونا چایے کہ دھرنے کے پیچھے خفیہ ایجنسیاں ہیں۔
پاکستانی فوج کے ترجمان نے کہا تھا کہ مظاہرین کا ایجنڈا سیاسی نہیں بلکہ مذہبی ہے اور حکومت اس دھرنے سے متعلق فوج کو جو بھی احکامات دے گی اس پر عمل کیا جائے گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
واضح کہ پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد اور راولپنڈی کے سنگم پر واقع فیض آباد انٹر چینج پر دو مذہبی جماعتوں کی جانب سے 20 روز سے جاری دھرنے کو ختم کرنے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کا آپریشن جاری ہے جس میں ایک سو سے زائد افراد زخمی ہو چکے ہیں۔
اس سے قبل اسلام آباد ہائی کورٹ نے فیض آباد پر احتجاجی دھرنا ختم کروانے سے متعلق عدالتی حکم نہ ماننے پر سیکریٹری داخلہ، اسلام آباد کی چیف کمشنر اور اسلام آباد پولیس کے سربراہ کو توہین عدالت کے مقدمے میں اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کیا تھا۔
اسی حوالے سے مسلم لیگ نون کے رہنما اور مظاہرین سے بات چیت کرنے والی حکومتی کمیٹی کے سربراہ راجہ ظفر الحق کا کہنا ہے کہ حکومت ہائی کورٹ کے حکم کے بعد آپریشن کرنے پر مجبور ہوئی.
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے راجہ ظفر الحق نے کہا کہ'عدالتی ڈیڈ لائن کے بعد آپریشن ناگزیر ہو گیا تھا، جمعے کی رات ساڑھے 12 بجے تک مظاہرین سے مختلف ذرائع سے رابطے کرنے کی کوشش کی گئی۔'
آپریشن میں اب تک سو سے زیادہ افراد زخمی ہو چکے ہیں جن میں متعدد سکیورٹی اہلکار بھی شامل ہیں۔
آپریشن کے آغاز کے بعد کراچی اور لاہور سمیت ملک کے مختلف شہروں میں چھوٹے چھوٹے احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پیمرا حکام کا کہنا ہے کہ پیمرا کے احکامات پر کیبل آپریٹرز نے لائیو کوریج کرنے پر زیادہ تر ٹی وی چینلز کی نشریات کو روک دیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ٹی وی چینلز کو لائیو کوریج کرنے پر تین پر تنبیہہ کی گئی تھی۔
آپریشن کے پیشِ نظر موٹر وے پولیس کے حکام نے اسلام آباد لاہور موٹروے پر چکری، پنڈی بھٹیاں سمیت متعدد مقامات پر رکاوٹیں کھڑی کی دی ہیں۔
ادھر راولپنڈی، اسلام آباد میٹرو بس سٹیشنز پر رینجرز کو تعینات کر دیا گیا ہے۔
جماعت لبیک یا رسول اللہ اور سنی تحریک سے تعلق رکھنے والے مظاہرین کا موقف ہے کہ انتخابی اصلاحات کے بل میں حلف نامے کے بارے میں جو ترمیم کی گئی تھی وہ ختم نبوت کے منافی تھی۔










