اسلام آباد ہائی کورٹ کا دھرنا 24 گھنٹوں میں ختم کرنے کا حکم، مظاہرین پھر انکاری

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم کے بعد پاکستان کی حکومت نے کسی تصادم سے بچنے کے لیے ایک بار پھر مذہبی جماعتوں کے دھرنے میں شامل شرکا کو پرامن طور پر منتشر ہونے کا حکم دیا ہے۔
جمعے کو اسلام آباد میں وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے پریس کانفرنس میں کہا کہ پارلیمان نے قانون میں ختمِ نبوت کی شقوں کو اصل حالت میں بحال کر دیا گیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’ہم سب کا ختمِ نبوت پر ایمان ہے اور پاکستان کی عوام کی نبی سے محبت بہت زیادہ ہے۔‘
احسن اقبال نے کہا کہ مذہبی جماعتوں کا احتجاج ریکارڈ ہو گیا ہے اور دین کے معاملے پر کسی کو تشدد پر اکسانا مناسب نہیں ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ نے دھرنے کے شرکا کو پیار اور دھونس سے حکومتی موقف سمجھانے کی کوشش کی۔
انھوں نے کہا کہ ’شرکا سے آخری بار اپیل کرتا ہوں کہ یہ مسئلہ پر امن طریقے سے حل ہو اور مذاکرت کرنا چاہتے ہیں تو ہم سے مذاکرات کریں لیکن راستوں کو کھولیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وزیر داخلہ نے کہا کہ عوام کے صبر کا امتحان نہ لیں اور ہائی کورٹ کا حکم مانتے ہوئے دھرنے ختم کریں۔
یاد رہے کہ اس سے قبل اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاقی دارالحکومت کی ضلعی انتظامیہ کو فیض آباد میں مذہبی جماعتوں کے گذشتہ دس روز سے جاری دھرنے کو اگلے 24 گھنٹوں میں ہر حال میں ختم کروانے کا حکم دیا تھا۔
عدالت کا کہنا ہے کہ تھا کہ پہلے مظاہرین کے ساتھ مذاکرات کیے جائیں اور اگر اس میں کامیابی نہیں ملتی تو پھر طاقت کا استعمال کیا جائے۔
عدالت نے ضلعی انتظامیہ کو حکم دیا کہ اس ضمن میں فرنٹیئر کانسٹیبلری اور رینجرز کی بھی مدد لی جاسکتی ہے۔
دوسری طرف فیض آباد کے مقام پر دھرنا دینے والی جماعتوں نے کہا ہے کہ حکومت کی طرف سے کیے جانے والے کسی بھی اقدام کے نتیجے میں مظاہرین کو کوئی نقصان پہنچا تو اس کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کی طرف سے جاری ہونے والے حکم کے بعد مظاہرین کی مجلس عاملہ کے اجلاس میں کہا گیا کہ عدالت عالیہ نے صرف ایک فریق کو سن کر حکم جاری کیا ہے۔ مظاہرین نے پاکستان کے چیف جسٹس سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے کا از خود نوٹس لیں۔
نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے جمعرات کو راولپنڈی اور اسلام آباد کے سنگم پر واقع فیض آباد پر دھرنا دینے والی مذہی جماعتوں کو دھرنا ختم کرنے کا حکم دیا تھا تاہم مظاہرین نے عدالت عالیہ کا یہ حکم ماننے سے انکار کردیا تھا۔
لبیک یا رسول اللہ اور سنی تحریک سے تعلق رکھنے والے افراد انتخابی اصلاحاتی بل کے مسودے میں ارکان پارلیمان کے لیے حلف میں ختم نبوت سے متعلق مبینہ طور پر ہونے والے ردبدل کے خلاف مظاہرہ کر رہے ہیں۔
جمعے کو عدالتی حکم پر عمل درآمد نہ ہونے پر جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ڈپٹی کمشنر اور اسلام آباد پولیس کے ڈی آئی جی آپریشن کو طلب کیا۔
ڈپٹی کمشنر نے عدالت کو بتایا کہ دھرنا ختم کرنے سے متعلق ضلعی انتظامیہ اس دھرنے کے مرکزی رہنما خادم حسین رضوی کو تین خطوط لکھ چکی ہے لیکن اُنھوں نے اس پر عمل درآمد نہیں کیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ضلعی انتظامیہ پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مظاہرین کو پریڈ ایونیو پر دھرنا دینے کو کیوں نہیں کہا گیا؟
عدالت کا کہنا ہے کہ ضلعی انتظامیہ کی نااہلی ہے کہ اُنھوں نے دھرنا ختم کروانے کے لیے اپنے اختیارات کا استعمال نہیں کیا۔
اُنھوں نے کہا کہ سڑکیں بلاک ہونے کی وجہ سے لاکھوں افراد کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ریمارکس دیے کہ اظہار رائے کی آزادی کا مطلب یہ نہیں کہ دوسروں کے حقوق سلب کیے جائیں۔
اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر کیپٹن ریٹائرڈ محمد مشتاق نے عدالت کو بتایا کہ پولیس کے محکمے سپیشل برانچ کی رپورٹ کے مطابق مظاہرین کی تعداد 1800 سے 2000 تک ہے ۔
اُنھوں نے کہا کہ مظاہرین نے اپنے پاس پتھر اکھٹے کیے ہوئے ہیں جبکہ ان میں سے متعد افراد کے پاس اسلحہ بھی موجود ہے جس پر جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریاست سے طاقت ور کوئی نہیں ہے۔

عدالت نے ضلعی انتظامیہ کو فوری طور پر دھرنا ختم کروانے کا حکم دیا تاہم ضلعی انتظامیہ کے افسران کا کہنا تھا کہ چونکہ آج جمعہ ہے اور مظاہرین نے احتجاج کی کال بھی دے رکھی ہے اور لوگوں کی تعداد بڑھنے کا بھی امکان ہےاس لیے بہتر ہے کہ اُنھیں 24 گھنٹوں کا وقت دیا جائے۔ اس پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے ضلعی انتظامیہ کو سنیچر کے روز مقامی وقت کے مطابق صبح دس بجے تک دھر نا ختم کروانے کا حکم دیا۔










