فیض آباد دھرنا: ’مظاہرین کو راستہ چھوڑنا ہوگا‘

- مصنف, حمیرا کنول
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام اسلام آباد
پاکستان کی وفاقی حکومت نے کہا ہے کہ وہ فیض آباد کے مقام پر دھرنا دینے والی جماعتوں کے ابتدا سے ہی مذاکرات کر رہی ہے تاہم معاملات مذاکرات سے حل نہ ہوئے تب بھی دھرنے والوں کو شہریوں کا راستہ چھوڑنا ہو گا۔
خیال رہے کہ دھرنے میں شامل جماعت لبیک یا رسول اللہ اور سنی تحریک سے تعلق رکھنے والے مظاہرین کا موقف ہے کہ انتخابی اصلاحات کے بل میں حلف نامے کے بارے میں جو ترمیم کی گئی تھی وہ ختم نبوت کے منافی تھی۔
حکومت نے حلف نامے کو پرانی حالت میں بحال کر دیا تاہم مظاہرین وفاقی وزیر قانون زاہد حامد کے استعفے پر مُصر ہیں۔
منگل کی صبح یہ خبریں گردش کر رہی تھیں کہ آج فیض آباد پر سکیورٹی آپریشن کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔
وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے منگل کی شام پریس کانفرنس میں بتایا کہ حکومت قانون اور آئین کے منافی کوئی مطالبہ منظور نہیں کر سکتی۔ ’دھرنا دینے والی جماعتوں نے 12 مطالبات کیے، جن میں سے صرف ایک ختم نبوت سے متعلق۔‘
انھوں نے بتایا کہ ’مظاہرین نے وعدہ کیا تھا کہ وہ کوئی روڈ بلاک نہیں کریں گے جس سے کسی کو تکلیف ہو۔ وہ ایسی جگہ بیٹھیں گے جہاں وہ انتظامیہ سے بات کی جا سکے۔‘
وزیر مملکت نے کہا کہ کوشش کی جائے گی کہ آئندہ چند روز میں معاملہ حل ہو جائے لیکن اگر ایسا نہ بھی ہو سکا تو بھی دھرنے والوں کو راستہ تو چھوڑنا ہوگا۔
ایس ایچ او زخمی، پولیس کا گھیراؤ
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق فیض آباد میں دھرنے کے شرکا نے تھانہ آئی نائن کے ایس ایچ او کو زخمی کیا جس کے بعد دھرنے کے مقام کو حصار میں لے لیا گیا ہے۔
نامہ نگار عبداللہ فاروقی کے مطابق فیض آباد پر پولیس کی بھاری نفری موجود ہے جو آنسو گیس، لاٹھیوں اور حفاظتی سکرینز سے لیس ہیں۔
’آج آٹھویں روز بھی دھرنے کے شرکا پیدل اور موٹر سائیکلوں پر سوار شہریوں کو بھی فیض آباد سے گزرنے کی اجازت نہیں دے رہے۔‘
ایک شہری معین احمد نے بتایا کہ ’راولپنڈی میں ہر جگہ شدید ٹریفک جام تھا، ہم نے سائیکل کے ذریعے فیض آباد کے لنک روڈ پر جانے کی کوشش کی،دھرنے والوں نے ہمیں زبردستی روکا اور کہا کہ آئی ایٹ والا راستہ استعمال کریں۔‘
تحریک لبیک یا رسول اللہ کے رہنما عنایت الحق نے بی بی سی کو بتایا کہ ’پولیس نے ہمارے بہت سے لوگوں کو گرفتار کیا ہے جو ناشتہ کرنے یا وضو کرنے کے لیے دھرنے کے اردگرد کے مقامات پر گئے تھے۔‘
انھوں نے مزید بتایا کہ ’پولیس ہمارے خلاف آپریشن کی تیاری کر رہی ہے اور ہم سے ایک سے ڈیڑھ فرلانگ کی دوری پر دونوں اطراف میں 200 سے 300 پولیس اہلکار موجود ہیں۔‘

یہ بھی پڑھیے
پولیس ذائع کے مطابق ’فی الحال فوری طور پر کوئی آپریشن کرنے کا پلان نہیں ہے۔ تاہم میٹنگز ہو رہی ہیں۔‘
مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ وزیر قانون زاہد حامد مستعفی ہوں، سیون سی اورسیون بی کی پہلی حالت میں بحالی ہو، چاروں طرف اذان کے لیے لاؤڈ سپیکر لگانے کی اجازت ملے اور آسیہ بی بی کے خلاف سپریم کورٹ میں کیس کو تیزی سے چلایا جائے۔
مطالبات تسلیم نہ ہونے پر 12 ربیع الاول کو اسلام آباد میں داخل ہونے کی دھمکی دی گئی ہے۔
خیال رہے کہ 1974 میں ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں پاکستانی آئین میں ترمیم ہوئی تھی اور ختم نبوت پر ایمان نہ رکھنے والوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا تھا۔







