اسلام آباد: ’احتجاج کرنے والوں کی وجہ سے بچہ ہلاک ہوا‘

،تصویر کا ذریعہAFP
اسلام آباد کی پولیس نے سیاسی جماعت تحریک لبیک یا رسول اللہ کے سربراہ اور دیگر کارکنوں کے خلاف کمسن بچے کے قتل کا مقدمہ درج کرلیا ہے تاہم پولیس نے ملزمان کو ابھی تک گرفتار نہیں کیا ہے۔
تحریک لبیک یا رسول اللہ اور سنی تحریک جسے پاکستان کی وزارت داخلہ نے کالعدم جماعت قرار دیا ہوا ہے، ان دنوں دونوں جماعتوں کے کارکن راولپنڈی اور اسلام آباد کو ملانے والی مرکزی شاہراہ پر دھرنا دے رہے ہیں جس کی وجہ سے جڑواں شہروں کے افراد کو سفر کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
کورال سرکل کے سب ڈویژنل پولیس افسر چوہدری عبدالمجید نے بی بی سی کو بتایا کہ پنجاب کے شہر سرگودھا کے رہائشی محمد بلال نے تھانہ کورال میں درخواست دی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ وہ اپنے آٹھ ماہ کے شیر خوار بچے کو لے کر ہسپتال جارہے تھے کہ فیض آباد کے قریب ہزاروں لوگ احتجاج کرر ہے تھے جس کی وجہ سے سڑک کو بلاک کیا ہوا تھا۔
ایس ڈی پی او کے مطابق درخواست گزار کا کہنا تھا کہ اس نے احتجاج کرنے والوں کی منت سماجت کی کہ ان کے بچے کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے لہذا ان کو ہسپتال جانے کے لیے راستہ دیا جائے لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔
بلال کا کہنا تھا کہ وہ اپنے بچے کو لے کر نجی ہسپتال پہنچے لیکن اس وقت تک بہت دیر ہوچکی تھی اور ان کا بیٹا جاں بر نہ ہو سکا۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

چوہدری عبدالمجید کے مطابق درخواست پر کارروائی کرتے ہوئے تحریک لبیک یا رسول اللہ کے سربراہ خادم حسین رضوی اور دیگر مظاہرین کے خلاف ضابطہ فوجداری کی دفعہ 322 کے تحت قتل بالسبب کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ تعزیرات پاکستان کے تحت یہ ناقابل ضمانت جرم ہے اور جرم ثابت ہونے پر اس کی سزا عمر قید ہے۔
ان جماعتوں سے تعلق رکھنے والے مظاہرین کا موقف ہے کہ انتخابی اصلاحات کے بل میں حلف کے بارے میں جو ترمیم کی گئی تھی اس کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔ مظاہرین وفاقی وزیر قانون زاہد حامد کے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حکومت نے اس ترمیم میں ہونے والی غلطی کو درست کرتے ہوئے حلف نامے کو اس کی پرانی حالت میں بحال کردیا ہے۔








