بورے والا: ’بچے کو ہی نہیں ہمیں بھی جیتے جی مار دیا‘

- مصنف, ارم عباسی
- عہدہ, بی بی سی اردو، بورے والا، پنجاب
'اس نے صرف میرے بیٹے کو ہی قتل نہیں کیا بلکہ ہم سب کو مار دیا ہے۔ ہم اپنا پیٹ کاٹ کر اسے پڑھا رہے تھے تاکہ وہ وکیل بننے کا خواب پورا کر سکے، اپنی بہنوں کی شادیاں کروا سکے۔'
یہ الفاظ بورے والا سے تعلق رکھنے والی زبیدہ مسیح کے ہیں جن کے بیٹے شیرون کو تین ستمبر کو ان کے ہی ایک ہم جماعت نے جان سے مار دیا۔
16 سالہ شیرون گورنمنٹ ایم سی ماڈل سکول میں نویں جماعت کے طالبعلم تھے اور جس دن وہ ہلاک ہوئے وہ سکول میں ان کا تیسرا دن تھا۔
پہلا دن انھوں نے یونیفارم نہ ہونے کی وجہ سے کلاس سے باہر سزا کے طور پر کھڑا رہ کر گزارا تھا جبکہ دوسرے دن سکول گئے ہی نہیں تھے کیونکہ پہلے دن کے واقعے کے بعد انھوں نے سکول جانے سے انکار کر دیا تھا۔
زبیدہ مسیح نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا 'جب وہ واپس آیا تو اس نے کہا وہ سکول دوبارہ نہیں جانا چاہتا کیونکہ لڑکے اسے تنگ کرتے ہیں۔ اسے قتل کرنے والا بچہ اسے اپنے گلاس سے پانی نہیں پینے دیتا کیونکہ وہ مسیحی ہے۔ ہم اتنے شوق سے اسے پڑھا رہے تھے۔ تینوں وقت کی روٹی بھی کبھی کبھی نہیں کھاتے تھے تاکہ فیس ادا کر سکیں۔ اب سوچتی ہوں کاش اس دن اسے سکول نہ بھیجتی۔'
شیرون کا خاندان دو کمروں کے ایک چھوٹے سے مکان میں رہتا ہے۔ وہ چھ بہن بھائیوں میں سب سے بڑے تھے اور ان کے والد الیاس مسیح دیہاڑی دار مزدور ہیں اور روزانہ پانچ سے چھ سو روپے بمشکل کماتے ہیں۔
گھر سے دس منٹ کے فاصلے پر شیرون کا سکول ہے۔

68 بچوں کی جماعت میں شیرون کا صرف ایک ہی دوست تھا۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا 'شیرون کلاس سے باہر جانے کی کوشش کر رہا تھا کہ اس لڑکے نے سامنے ٹانگیں رکھ کر اس کا راستہ روکا جس کے بعد جھگڑا شروع ہو گیا۔'
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کمرۂ جماعت میں اس وقت کوئی استاد موجود نہیں تھا اور باقی بچے اس واقعے کو مذاق سمجھ کر ہنستے رہے ، کسی نے ملزم کو نہیں روکا۔ شیرون کے دوست نے اپنی سی کوشش کی مگر وہ ناکام رہا۔
ملزم آٹھ سے دس منٹ تک شیرون کو گھونسے اور لاتیں مارتا رہا جس کے بعد وہ بےہوش ہو کر زمین پر گر گیا۔ پانچ بچے خود ہی اسے ہسپتال لے کر گئے مگر وہاں پہنچنے سے پہلے ہی شیرون دم توڑ چکا تھا۔
شیرون کی والدہ نے بتایا کہ 'مجھے سکول سے فون آیا کہ شیرون کا ایکسیڈینٹ ہوا ہے۔ میں بھاگتی بھاگتی ہسپتال پہنچی تو میں نے اپنے بچے کا مرا ہوا منہ دیکھا۔ اتنا بڑا سکول ہے ٹیچرز کو کیسے پتہ نہیں چلا کہ بچے کا خون ہو گیا ہے؟ بچے اکیلے خود ہی میرے بیٹے کو ہسپتال بھی لے کر گئے۔'
اس واقعے کے بعد پولیس نے ملزم کو حراست میں لیا ہے اور تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 302 کے تحت قتلِ عمد کا پرچہ کاٹا گیا ہے جبکہ معاملے کی تحقیقات کے لیے تین کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں۔ ایک تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق شیرون کے جسم پر بظاہر کوئی نشانات نہیں تاہم ان کی موت گھونسے اور لاتیں لگنے سے ہوئی ہے۔

سکول کی انتظامیہ نے کوتاہی برتنے پر پانچ اساتذہ کو معطل بھی کیا ہے تاہم اس ہلاکت کے حوالے سے اس کی بےحسی واضح تھی۔
انتظامیہ کے ایک شخص نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 'دیکھیے میڈیم ہمارے بچے بڑے پرامن ہیں۔ اس سے پہلے کبھی ایسا واقعہ نہیں ہوا۔ 2600 طالبعلموں میں 35 بچے مسیحی ہیں۔ بچوں میں لڑائی جھگڑا ہوتا رہتا ہے۔ دراصل شیرون کمزور بہت تھا۔'
اس شخص کے برابر میں کھڑے ایک صاحب بولے 'ملزم کا بھی تو دانٹ ٹوٹا ہے۔ اس کے بارے میں کوئی بات کیوں نہیں کر رہا؟'
شیرون کی ہلاکت کے الزام میں گرفتار طالبعلم کا دعویٰ ہے کہ جھگڑا فون کی سکرین ٹوٹنے کی وجہ سے ہوا۔
وہاڑی کے ڈی پی او عمر سعید کا بھی کچھ ایسا ہی موقف تھا۔ انھوں نے کہا کہ 'فون کی سکرین ٹوٹنے پر جھگڑا ہوا اور یہ تاثر غلط ہے کہ ایک سے زیادہ بچوں نے شیرون پر حملہ کیا لیکن ہم اس بات کو نظرانداز نہیں کر سکتے کہ ملزم کے قتل کرنے کے پیچھے دیگر مقاصد بھی ہو سکتے ہیں۔'

مقتول شیرون کے والد اس خیال سے اتفاق نہیں کرتے کہ یہ ہلاکت ایک معمولی جھگڑے کا نتیجہ تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ قتل مذہب کی ہی بنیاد پر ہوا ہے۔
'آپ مجھے بتائیں دو دن میں ایسی کیا دشمنی پیدا ہو گئی تھی کہ ہمارے بچے کو اس نے جان سے ہی مار دیا۔ ہمیں تو اس نے جیتے جی ہی مار دیا ہے۔ میرا سب سے بڑا بیٹا، میرا سہارا ہی چھین لیا۔ ہمیں انصاف چاہیے۔'
مردان کی عبدالولی خان یونیورسٹی میں طلبا کے ہاتھوں توہینِ مذہب کا الزام لگا کر طالبعلم مشال خان کی ہلاکت کے بعد ایک اور درسگاہ میں طالبعلم کے کمرۂ جماعت کے اندر قتل کا واقعہ ایک لمحۂ فکریہ ہے اور مبصرین کا کہنا ہے کہ لازم ہے کہ شیرون کے والدین کو انصاف ملے تاکہ اس طرح کے خوفناک واقعات کو روکا جا سکے۔







