کلبھوشن کی اہل خانہ سے ملاقات 25 دسمبر ہو گی : پاکستانی دفتر خارجہ

انڈیا، جاسوس، کلبھوشن

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

حکومتِ پاکستان نے جاسوسی کے جرم میں گرفتار ہونے والے انڈین جاسوس کلبھوشن جادھو سے ان کی بیوی اور والدہ کی ملاقات کروانے کے لیے 25دسمبر کی تاریخ مقرر کی ہے۔ تاہم یہ نہیں بتایا گیا کہ ملاقات کس مقام پر ہو گی۔

دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر فیصل نے ہفتہ وار بریفنگ میں بتایا کہ اس ملاقات میں پاکستان میں انڈین ہائی کمیشن کا ایک نمائندہ بھی شامل ہوگا۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ مجرم کلبھوشن جادھو سے ان کی بیوی اور والدہ کی ملاقات کروانے کا فیصلہ انسانی بنیادوں پر کیا ہے۔

مزید پڑھیے

line

،تصویر کا ذریعہNot Specified

پاکستان نے انڈیا کو یقین دہانی کروائی ہے کہ کلبھوشن کی بیوی اور ان کی والدہ کو مکمل سکیورٹی فراہم کی جائے گی۔

دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ انڈیا میں پاکستانی ہائی کمیشن کو مجرم کی بیوی اور والدہ کو پاکستانی ویزہ جاری کرنے سے متعلق پہلے ہی ہدایات جاری کی جاچکی ہیں۔

کلبھوشن جادھو کو پاکستان کے صوبہ بلوچستان سے گرفتار کیا گیا تھا اور اُنھوں نے پاکستان کے علاقوں کراچی اور بلوچستان میں دہشت گردی کی متعدد وارداتوں کا اعتراف بھی کیا تھا۔

انڈین جاسوس کے خلاف مقدمہ فوجی عدالت میں چلایا گیا جہاں سے انھیں اس سال اپریل میں موت کی سزا سنائی گئی تھی۔ تاہم عالمی عدالت انصاف نے بھارتی جاسوس کی سزا پر عمل درآمد روک دیا تھا۔

دفتر خارجہ نے پاکستانی شہریوں کو افغانستان کا دورہ کرنے سے متعلق ایک ایڈوائزری بھی جاری کی ہے کہ وہ افغانستان کے دورے کے دوران فوری طورپر پاکستانی سفارت خانے میں اپنی رجسٹریشن کروائیں۔

یہ اقدام افغانستان میں پاکستانیوں کے اغوا کی بڑھتی ہوئی وارداتوں کے پیش نظر کیا گیا ہے۔

مظاہرہ، کلبھوشن

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنکلبھوشن جادھو نے پاکستان کے علاقوں کراچی اور بلوچستان میں دہشت گردی کی متعدد وارداتوں کا اعتراف بھی کیا تھا

امریکی سی آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل کی طرف سے پاکستان میں شدت پسندوں کی پناہ گاہوں کے بارے میں دیے گئے بیان پر دفتر خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ سکیورٹی فورسز نے شدت پسندوں کے تمام ٹھکانے تباہ کردیے ہیں۔

ڈاکٹر فیصل کا کہنا تھا کہ امریکی وزیر دفاع کے دورہ پاکستان کے دوران اُنھوں نے پاکستانی افواج کی پیشہ وارنہ کارکردگی کو سراہا تھا۔

امریکہ کے صدر کی طرف سے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے اور امریکہ کا سفارت خانہ یروشلم منتقل کرنے کے بارے میں دفتر خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے خطے کا امن خطرے میں پڑ جائے گا اور امریکہ کا یہ اقدام بین الاقوامی قوانین کی بھی خلاف ورزی ہے۔