15 افراد کے قتل میں ملوث، کالعدم تنظیم کا کمانڈر ہلاک کرنے کا دعویٰ

،تصویر کا ذریعہISPR
پاکستان کی فوج کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے علاقے تربت میں پندرہ افراد کے قتل میں ملوث مبینہ دہشت گرد کو ہلاک کر دیا ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ایف سی نے تربت کے علاقے ایلندر عبدالرحمن میں خفیہ اطلاعات پر آپریشن کیا۔
کارروائی کے دوران جب علاقے کا محاصرہ کیا گیا تو کالعدم تنظیم بلوچستان لبریشن فرنٹ کے جنگجوؤں نے فائرنگ شروع کر دی۔
بیان کے مطابق جوابی کارروائی میں بی ایل اے کا کمانڈر یونس توکلی مارے گئے ہیں۔
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ مبینہ دہشت گرد یونس توکلی کو بلیدا سے 25 کلو میٹر دور مارا گیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یاد رہے کہ اس مقام سے شمال کی جانب ضلع کیچ سے دو روز قبل پندرہ افراد کی لاشیں ملی تھیں۔
پنجاب کے مختلف شہروں سے تعلق رکھنے والے یہ 15 افراد بہتر زندگی کی تلاش میں غیر قانونی طور پر یورپ جانا چاہتے تھے۔
ان افراد کو ضلع کیچ کی تحصیل تربت کے علاقے گروک میں گاڑی سے اتار کر فائرنگ کر کے ہلاک کیا گیا۔
بلوچستان لبریشن فرنٹ نے بھی ایک بیان میں ان افراد کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
تنظیم کے ترجمان نے دعویٰ کیا تھا کہ مارے جانے والے افراد عسکری تعمیراتی کمپنی فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن کے ملازمین تھے اور ضلع کیچ میں چین پاکستان اقتصادی راہداری کے منصوبے پر کام کر رہے تھے۔
ہلاک ہونے والے 15 میں گیارہ افراد کی لاشوں کو اُن کے لواحقین کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب وفاقی تحقیقاتی ایجنسی ایف آئی اے نے انسانی اسمگلنگ میں ملوث تین افراد کو گرفتار کیا ہے۔
وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ تربت واقعے میں ہلاک ہونے والے افراد کے لواحقین کی معاونت سے ان ایجنٹس کو گرفتار کیا گیا۔
خیال رہے کہ بلوچستان کے سرحدی شہروں مند اور تفتان کے راستے ہر سال ہزاروں کی تعداد میں پاکستان سے غیر قانونی طور پر یورپ اور خلیجی ممالک جانے والے ایران میں داخل ہوتے ہیں۔








