دو ہزار آٹھ میں انسانی سمگلنگ عروج پر

- مصنف, عزیزاللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
وفاقی تحقیقاتی ادارے کے حکام کے مطابق پاکستان سے سن دو ہزار آٹھ میں سب سے زیادہ لوگوں نے غیر قانونی طور پر دوسرے ممالک کی سرحدیں عبور کی ہیں۔
ایف آئی اے کے ڈائریکٹر محمد منظور نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں ان سرگرمیوں سے سالانہ دس ملین ڈالر کی رقم حاصل کی جاتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ انسانوں کو ایک ملک سے دوسرے ملک لے جانے کے لیے نئے نئے راستے دریافت کیے جاتے ہیں۔
اسلام آباد میں پالیسی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے محمد منظور نے کہا کہ بیشتر لوگ ایران کے راستے ہی خلیجی اور یورپی ممالک جاتے ہیں اور گزشتہ سال سب سے زیادہ پاکستانی مسقط سے واپس بھیجے گئے ہیں۔
ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے ایف کے مطابق ایران جانے کے لیے بلوچستان میں تفتان اور مند بلو کے راستے استعمال کیے جاتے ہیں۔ ایران کےجنوب میں جیسک پورٹ سے لانچ کے ذریعے مسقط کے راستے خلیجی ممالک جاتے ہیں۔
یورپ جانے کے لیے سمگلر ترکی میں مرمرہ پورٹ استعمال کرتے ہیں اور یہاں سے سپیڈ بوٹ کے ذریعے یورپ جاتے ہیں اور یا پھر مشکلات برداشت کرتے ہوئے ترکی اور یونان کی سرحد کو پیدل چل کر عبور کرتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ اب ملائیشیا اور انڈونیشا کے راستے آسٹریلیا جانے کی کوششیں تیز ہوئی ہیں لیکن اب تک اس طرف سے کوئی پاکستانی واپس نہیں کیے گئے اس لیے ان کے پاس اس بارے میں محدود معلومات ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا میں انسانی سمگلنگ اب اسلحے اور منشیات کی سمگلنگ کے بعد سب سے بڑاغیر قانونی کاروبار بن گیا ہے اور اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کا باہر ممالک جانے کی بڑی وجوہات بے روزگاری، غربت اور زیادہ رقم کمانے کی ہوس ہے۔
اس سیمینار میں مقررین نے بتایا کہ یونان جانے والے بیشتر افراد کا تعلق گجرانوالہ اور ڈیرہ غازی خان ڈویژن سے ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بنگلہ دیش کے ڈپٹی سیکرٹری ذاکر حسین نے بتایا ہے کہ ان کے ملک میں بھی غربت ہے اور وہاں سے لوگ دیگر ممالک کی جانب رخ کرتے ہیں لیکن حکومت کے پاس اس بارے میں کوئی اعداد و شمار نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ عام طور پر حکومت ان لوگوں کو سہولت فراہم کرتی ہے جو لوگ قانونی طور پر باہر جانا چاہتے ہیں۔
نیشنل ایلینز رجسٹریشن اتھارٹی کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر محمد علی نے بتایا ہے کہ پاکستان میں دیگر ممالک کے تقریباً بائیس لاکھ افراد غیر قانونی طور پر آباد ہیں جن میں زیادہ تر بنگالی ہیں۔ افغانیوں کو پناہ گزینوں کا درجہ دینے کی وجہ سے ان اعداد و شمار میں وہ شامل نہیں ہیں ۔
محمد علی کے مطابق کراچی میں مچھر کالونی میں یہی غیرملکی رہ رہے ہیں جن کی رجسٹریشن کا کام حکومت نے شروع کیا اور اب تک ایک لاکھ چودہ ہزار افراد کو رجسٹرڈ کیا جا سکا ہے۔
اس سیمینار سے مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ انسانی سمگلنگ روکنے کے لیے قانون موجود ہے لیکن ایک تو اس پر عملدرآمد نہیں ہو پاتا اور اگر کہیں کوشش کی جائے تو جس کے ساتھ زیادتی ہوئی ہوتی ہے وہاں سمگلر مک مکا کر لیتے ہیں اس لیے ملزمان قانون کی گرفت سے نکل جاتے ہیں۔
انسانی سمگلنگ میں سمگلر انسانوں کو دوسرے ممالک پہنچانے کے لیے رقم وصول کرتے ہیں جبکہ انسانی ٹریفکنگ میں انسانوں کو لالچ یا دھمکی دے کر دوسرے ممالک لے جا کر ان سے کام کروایا جاتا ہے۔ دوسرے ممالک کے لوگ جو غیر قانونی طور پر یہاں آکر آباد ہوئے ہیں انھیں ایلینز کہا جاتا ہے۔







