لاہور کے چڑیا گھر کی تنہا سوزی چل بسی

ہتھنی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور کے چڑیا گھر میں موجود واحد ہتھنی سوزی کا مختصر علالت کے بعد انتقال ہو گیا ہے۔

چڑیا گھر کے ڈائریکٹر شفقت علی نے بی بی سی کو بتایا کہ سوزی کی عمر 35 برس تھی اور وہ گذشتہ چند روز سے بیمار تھی اور چلنے پھرنے سے قاصر تھی۔

انھوں نے بتایا کہ ’عام طور پر ہاتھی اور ہتھنی 17 سے 19 سال چڑیا گھر میں گزارتے ہیں تاہم سوزی چھ برس کی عمر میں لاہور کے چڑیا گھر میں آئی اور 30 سال سے یہیں تھی۔‘

چڑیا گھر کے حکام کا کہنا ہے کہ اکیلے رہنے کی وجہ سے ذہنی دباؤ اور موٹاپا عموماً یہی دو وجوہات چڑیا گھر کے جانوروں کی موت کا سبب بنتی ہیں۔

سوزی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنچڑیا گھر میں بچوں کی بڑی تعداد سوزی کے گرد اکھٹی رہتی تھی۔

شفقت علی کے مطابق ’سوزی اپنے پاؤں اٹھانے کے قابل نہیں رہی تھی اور ان کا یورک ایسڈ بڑھ گیا تھا۔ اس سلسلے میں انتظامیہ دنیا میں موجود جانوروں کے ماہرین سے مسلسل رابطے میں تھی۔‘

شفقت علی نے مزید بتایا کہ افریقی نسل سے تعلق رکھنے والی سوزی کی تنہائی کی وجہ یہ تھی کہ جب وہ چڑیا گھر میں لائی گئی تو اس کے ساتھ رہنے کے لیے اس کی ہی عمر کے کسی ہاتھی کو نہیں لایا گیا۔ اگر بعد میں یہ کوشش کی بھی جاتی تو زیادہ کامیاب نہیں ہو سکتی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ چڑیا گھر میں اب کی بار ہاتھی کو جوڑے کی صورت میں ہی لایا جائے گا۔