چمن: سرحد پار گولہ باری کے بعد 500 متاثرہ خاندانوں کے لیے کیمپوں کا انتظام

سرحد

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنپاکستان اور افغانستان کے درمیان چمن پر سرحدی دروازہ

افغانستان سے متصل پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے سرحدی شہر چمن کے قریب گولہ باری اور فائرنگ کے بعد متاثرہ افراد کے لیے سرحد سے پانچ سے چھ کلومیٹر دور رہائش کے لیے حکومت کی طرف سے عارضی کیمپوں کا انتظام کیا گیا ہے۔

قدرتی آفات سے نمٹنے کے صوبائی ادارے کے افسر یونس عزیز نے بی بی سی کو بتایا کہ پانچ سو کے قریب متاثرہ خاندانوں کو ان کیمپوں میں جگہ دی جائے گی جہاں ان کے لیے پینے کے پانی، کھانے کے لیے راشن، صحت و صفائی اور دوسری ضروریات زندگی کے انتظامات کیے گئے ہیں۔

'جن علاقوں میں مارٹر گولوں سے فائرنگ ہوئی ہے ہم اس وقت وہاں نقصانات کا سروے کر رہے ہیں اور ان متاثرہ خاندانوں کے لیے معاوضے کے لیے بھی سروے کیا جا رہا ہے۔'

واضح رہے کہ پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں جمعے کی صبح سرحد پار سے گولہ باری کے بعد کم از کم 12 افراد ہلاک اور کم از کم 42 زخمی ہو گئے ہیں۔

پاکستانی دفتر خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق افغان ناظم الامور کو بتایا گیا ہے کہ 'افغانستان کی جانب سے چمن کے علاقے میں بلااشتعال فائرنگ کے نتیجے میں متعدد افراد مارے گئے جبکہ کئی زخمی بھی ہوئے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔'

پاکستانی فوجی کے شبعہ تعلقات عامہ کے ڈی جی میجر جنرل آصف غفور نے ٹویٹ میں کہا ہے کہ افغان سرحدی فورس نے چمن سرحد کے قریب ایک گاؤں میں مردم شماری کی سکیورٹی پر تعینات ایف سی کے اہلکاروں پر فائرنگ کی۔

چمن کوئٹہ شہر سے اندازاً 120 کلومیٹر کے فاصلے پر شمال میں واقع ہے۔

یہ پاکستان اور افغانستان کے دوسرے بڑے شہر قندہار اور دیگر جنوبی علاقوں کے درمیان اہم گزرگاہ ہے۔