چمن کے سرحدی گاؤں پر گولہ باری

افغانستان سے متصل سرحدی شہر چمن کے قریب گولہ باری سے 12 افراد ہلاک اور کم از کم 42 زخمی ہو گئے ہیں جس کے بعد چمن سرحد کو بند کر دیا گیا ہے۔ (تصاویر: خیر محمد)

چمن
،تصویر کا کیپشنپاکستان کے صوبہ بلوچستان میں حکام کا کہنا ہے کہ افغانستان سے متصل سرحدی شہر چمن کے قریب گولہ باری سے 12 افراد ہلاک اور کم از کم 42 زخمی ہو گئے ہیں جس کے بعد چمن سرحد کو بند کر دیا گیا ہے۔
چمن
،تصویر کا کیپشنپاکستان فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کی ایک پریس ریلیز کے مطابق پاکستان اور افغانستان کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشن کے درمیان رابطہ ہوا اور پاکستان کے ڈی جی ایم او میجر جنرل شیر شمشاد مرزا نے پاکستانی دیہات اور سکیورٹی فورسز پر بلا اشتعال فائرنگ کی شدید مذمت کی ہے۔
چمن
،تصویر کا کیپشناس واقعے کے بعد پاکستانی دفتر خارجہ نے افغان ناظم الامور کو طلب کیا اور شدید احتجاج ریکارڈ کروایا۔
چمن
،تصویر کا کیپشنپاکستانی دفتر خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق افغان ناظم الامور کو بتایا گیا ہے کہ ’افغانستان کی جانب سے چمن کے علاقے میں بلااشتعال فائرنگ کے نتیجے میں متعدد افراد مارے گئے جبکہ کئی زخمی بھی ہوئے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔‘
چمن
،تصویر کا کیپشنپاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈی جی میجر جنرل آصف غفور نے ٹویٹ میں کہا ہے کہ افغان سرحدی فورس نے چمن سرحد کے قریب ایک گاؤں میں مردم شماری کی سکیورٹی پر تعینات ایف سی کے اہلکاروں پر فائرنگ کی۔
چمن
،تصویر کا کیپشنکلی لقمان اور کلی جہانگیر منقسم دیہات ہیں جو کہ سرحد کے دونوں جانب واقع ہیں۔
چمن
،تصویر کا کیپشنانتظامیہ کے افسر کے بقول یہ گولے جمعہ کو علی الصبح فائر کیے گئے جو کہ پاکستانی سرحد کے حدود میں واقع دیہاتوں میں گرے۔
چمن
،تصویر کا کیپشنچمن پاکستان اور افغانستان کے دوسرے بڑے شہر قندہار اور دیگر جنوبی علاقوں کے درمیان اہم گزرگاہ ہے۔