جے آئی ٹی: سٹیٹ بینک اور سکیورٹی کمیشن کے نام مسترد

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کی سپریم کورٹ کے خصوصی بینچ نے پاناما لیکس کی مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی کے لیے سکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن اور سٹیٹ بینک کی جانب سے دیے گئے ناموں کو مسترد کر دیا ہے۔
بدھ کو جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں تین رکنی خصوصی بینچ نے پاناما کیس کے فیصلے پر عمل درآمد سے متعلق سماعت کی۔
نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق سماعت کے موقع پر قومی احتساب بیورو، فوج کے خفیہ اداروں انٹر سروسز انٹیلیجنس اور ملٹری انٹیلیجنس کی جانب سے تحقیقاتی کمیٹی کے لیے دیے گئے ناموں کے بارے میں سپریم کورٹ کے اس بینچ نے کوئی آبزرویشن نہیں دی جس کے بارےمیں قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ بظاہر عدالت عظمی نے ان افسران کے نام منظور کر لیے ہیں۔
اس تحقیقاتی ٹیم میں شمولیت کے لیے سٹیٹ بینک آف پاکستان، سکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن کی جانب سے دیے جانے والے ایک ایک نام بھیجے گئے تھے جسے سپریم کورٹ کے خصوصی بینچ نے مسترد کر دیا ہے۔
عدالت نے دونوں اداروں کے سربراہان کو جمعہ پانچ مئی کو عدالت میں ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے اور اس کے ساتھ انھیں اپنے اپنے ادارے میں گریڈ اٹھارہ اور اس سے اعلیٰ درجے پر فائز تمام افسران کے ناموں کی فہرست پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔
بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ’ہمیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کونسا افسر کس محکمے میں کام کرتا ہے۔‘
اٹارنی جنرل اشتر اوصاف نے عدالت کو بتایا کہ ان کی معلومات کے مطابق سٹیب بینک کے گورنر پاکستان میں نہیں ہیں جس پر بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ اُن کی جگہ ڈپٹی گورنر سٹیٹ بینک بھی عدالت میں پیش ہوسکتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جسٹس اعجاز افضل کا کہنا ہے کہ عدالت پیش کی جانے والی فہرست میں سے خود تحقیقاتی کمیٹی کے لیے نمائندوں کا انتخاب کرے گی۔
سماعت میں جسٹس عظمت سعید نے ریماکس دیتے ہوئے کہا کہ’عدالت کے ساتھ اس معاملے میں گیم کھیلنے کی کوشش نہ کی جائے۔‘
جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پہلے ہی اس معاملے میں بہت تاخیر ہو چکی ہے اور اب مزید تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔'
ایک دن پہلے منگل کو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے پاناما لیکس کی تحقیقات کی نگرانی کے لیے تین رکنی خصوصی بینچ تشکیل دیا تھا۔
یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے 20 اپریل کو پاناما لیکس کے معاملے پر اپنے اکثریتی فیصلے میں سات دن میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی تشکیل کا حکم دیتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف اور ان کے بیٹوں کو تحقیقاتی عمل کا حصہ بننے کو کہا تھا۔

،تصویر کا ذریعہReuters
ایف آئی اے کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل کی سربراہی میں بننے والی چھ رکنی تحقیقاتی ٹیم میں قومی احتساب بیورو، سٹیٹ بینک آف پاکستان، سکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن کے نمائندوں کے علاوہ فوج کے خفیہ اداروں انٹر سروسز انٹیلیجنس اور ملٹری انٹیلیجنس کا بھی ایک ایک افسر شامل ہو گا۔
اس کمیٹی کی تشکیل کے بعد پاناما کی تحقیقات مکمل کرنے کے لیے 60 دن کا وقت دیا گیا ہے جس کے دوران وہ ہر دو ہفتے بعد اپنی کارگزاری کے بارے میں رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کرے گی۔ پاناما لیکس سے متعلق تحقیقاتی رپورٹ دو ہفتے بعد بدھ کو تشکیل کردہ بینچ کے سامنے پیش کی جائے گی۔
خیال رہے کہ جن تین ججز نے پاناما لیکس کی مزید تحقیقات کا کہا تھا سپریم کورٹ کے نئے بینچ میں وہی تین ججز شامل ہیں۔








