چھٹی مردم شماری: پہلا مرحلہ 15 مارچ سے 15 اپریل تک

،تصویر کا ذریعہPID
پاکستان کی وفاقی وزیر مملکت برائے اطلاعات مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں مردم شماری کا پہلا مرحلہ 15 مارچ کو شروع ہوگا اور 15 اپریل کو مکمل کر لیا جائے گا۔
خیال رہے کہ یہ پاکستان کی 70 سالہ تاریخ کی چٹھی مردم شماری ہوگی جو 19 سال کے وقفے کے بعد ہو رہی ہے۔
وفاقی وزیرِ مملکت نے ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کے ہمراہ اسلام آباد میں اتوار کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہویے بتایا کہ ’مردم شماری کا بجٹ ساڑھے اٹھارہ ارب ہے۔ چھ ارب افواج پاکستان، ساڑھے چھ ارب ٹرانسپورٹ اور چھ بلین سولیلین بجٹ کا حصہ ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ مردم شماری کا 15 مارچ سے 15 اپریل تک پہلا مرحلہ مکمل ہوگا، دس دن کے وقفے کے بعد دوسرا مرحلہ 25 اپریل سے 25 مئی تک چلنے کے بعد ختم ہوگا۔‘
مریم اورنگزیب نے بتایا کہ مردم شماری کے عمل میں سکیورٹی کے لیے فوج کی معاونت بھی موجود ہوگی اور تمام صوبوں میں ایک ہی وقت میں مردم شماری کا عمل ہوگا۔
مردم شماری میں ایک لاکھ 18 ہزار نو سو 1اٹھارہ تربیت یافتہ سرکاری ملازمین حصہ لیں گے اور اس کے لیے تمام تیاریاں مکمل ہیں۔
مردم شماری میں شامل پاکستانیوں کے بارے میں بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’ہر بندہ جو پاکستان کا شہری ہے اسے اس میں شامل کیا جائے گا، دوہری شہریت والے جو لوگ اس دوران پاکستان میں موجود ہوں گے انھیں بھی شامل کیا جائے گا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے مزید بتایا کہ سفارتکاروں کا ڈیٹا بھی وزارتِ خارجہ سے لیا جائے گا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
’بے گھر افراد کا ڈیٹا بھی حاصل کیا جائے گا۔ اور ملک میں پہلی مرتبہ خواجہ سراؤں کو بھی مردم شماری میں شامل کیا جائے گا۔‘
وزیرِ مملکت نے بتایا کہ کسی بھی قسم کی مزید معلومات کے لیے ہیلپ لائن کے نمبر 080057574 پر کال کر سکتے ہیں۔
اس موقع پر آئی ایس پی آر کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ 1998 میں مردم شماری ایک مرحلے میں ہوئی تھی اور 19 دن تک جاری رہی تھی تاہم سکیورٹی کی صورتحال دیکھتے ہوئے اس مرتبہ دو مرحلوں میں کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
’دو لاکھ سپیاہوں کی تعیناتی کے ساتھ ہم نے سپورٹ پروگرام مرتب کیا ہے، جب یہ فیصلہ ہوا تو آرمی چیف نے کہا کہ ہر قسم کی معاونت دی جائے۔‘
انھوں نے بتایا کہ’ فوج کی تیاری ہے اور قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی تیار ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ عوام جو بھی سویلین نمائندے اور سپاہی کو معلومات دے رہی ہے اگر وہ غلط ہوا تو اس اقدام کو جرم سمجھا جائے گا۔
آئی ڈی پیز کے بارے میں بتاتے ہوئے فوج کے ترجمان کا کہنا تھا کہ 84 فیصد سے زیادہ واپس اپنے علاقوں میں جا چکے ہیں اور جو بھی اپنے علاقے چھوڑ کر باہر گئے تھے وہ تمام آئی ڈی پیز رجسٹرڈ ہیں اور اس لیے ان کے اپنے علاقوں سے باہر ہونے کی وجہ سے کوئی مسئلہ نہیں گا۔








