دہشتگردی میں اضافے کے پیچھے کون؟

،تصویر کا ذریعہEPA
- مصنف, ہارون رشید
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان میں 2017 کا پرتشدد واقعات کے اعتبار سے آغاز اب تک کچھ زیادہ حوصلہ افزا دکھائی نہیں دے رہا ہے۔
دہشت گردی کے واقعات میں جنوری میں 61 افراد اپنی جانوں سے گئے۔ فروری میں بھی یہ رجحان اب تک کوئی زیادہ مثبت نظر نہیں آ رہا ہے۔ اب تک کوئی 26 سے زائد افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ یہ اعداد و شمار گذشتہ برس کے تقریباً 150 افراد ہر ماہ کی ہلاکت سے بہتر ہیں لیکن تشویش کا باعث پھر بھی ہیں۔
پاکستان کی پچھلے 15 سالہ پرتشدد تاریخ میں اس طرز کے رجحانات پہلے بھی دیکھے گئے ہیں لیکن اس مرتبہ ان کی اہمیت حکومت کی جانب سے ضرب عضب کے نتیجے میں بہتری کے دعوے کرنے والے حکام کے لیے ایک بڑا چیلنج ہیں۔
امریکہ کے مطابق تو اس خطے میں 20 شدت پسند گروپ آج بھی سرگرم ہیں لیکن اس خونریز لڑائی میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور مہند ایجنسی سے آغاز پانے والی جماعت الحرار ابھی بھی پیش پیش ہیں۔ لشکر جھنگوی العالمی اور القاعدہ برے صغیر بھی اکا دوکا واقعات کی ذمہ داری لے رہی ہیں لیکن میڈیا سے مسلسل رابطے میں پہلی دو تنظیمیں ہی ہیں۔
کراچی میں ایک نجی ٹی وی کے صحافی کیمرہ مین کی ہلاکت کی ذمہ داری ٹی ٹی پی نے جبکہ لاہور کے دل ہلا دینے والی واقعے کی ذمہ داری جماعت الحرار اپنے سر لے چکی ہیں۔
تشدد میں بظاہر تیزی کی دو بڑی وجوہات دکھائی دیتی ہیں۔ ایک تحریک طالبان پاکستان میں گزشتہ دنوں ایک محسود گروپ کی واپسی اور دوسرا جماعت الحرار کی جانب سے غازی نامی کارروائی کے آغاز کا اعلان ہے۔ دونوں تنظیموں کی قیادت کے بارے میں خیال ہے کہ وہ افغانستان میں روپوش ہیں۔ کافی عرصے تک غیرمتحرک رہنے کے بعد غالباً وہ دوبارہ سر اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
پاکستان میں شدت پسندوں کی بڑی تنظیموں میں سے ایک، کالعدم تحریک طالبان پاکستان، نے گذشتہ دنوں ایک بیان میں محسود طالبان کی تنظیم میں دوبارہ شمولیت کا اعلان کیا تھا۔ عام تاثر یہی ہے کہ محسود جنگجو ہی اس تنظیم کا پہلے دن سے اہم ترین اثاثہ ہیں۔ ان کے بغیر تنظیم کی طاقت میں بظاہر کمی آئی تھی۔ خیال ہے کہ ان کی واپسی سے تنظیم دوبارہ متحرک ہونے کی کوشش کر رہی ہے۔

،تصویر کا ذریعہAP
تحریک کے مرکزی ترجمان محمد خراسانی نے دو فروری 2017 کو ایک بیان میں بیت اللہ محسود کے قائم کردہ حلقہ محسود نے دوبارہ تحریک طالبان سے اپنی وفاداری اور بیعت کا اعلان کر دیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کا کہنا تھا کہ یہ گروپ ’کچھ سازشی عناصرکے غیرشرعی افعال اور سیاست کی وجہ سے‘ تحریک طالبان پاکستان سے جدا ہوئے تھے۔ حلقہ محسود کی واپسی کا اصل سبب ان سازشی عناصر کا تحریک طالبان سے نکل کر مدمقابل صف میں چلے جانا ہے۔
لیکن بیان میں یہ وضاحت نہیں کی گئی تھی کہ ضم ہونے والا اور دوسرے گروپ میں چلے جانے والے گروپ کون سے ہیں۔ تحریک طالبان نے اعلان کیا کہ ضم ہونے والے گروہ کے سربراہ خالد محسود حلقہ محسود کی مسئولیت کے ساتھ تحریک طالبان کے مرکزی امیر فضل اللہ خراسانی کے نائب بھی ہوں گے۔
پاکستان طالبان کی تنظیم 2007 میں قائم ہوئی لیکن اس کے پہلے رہنما بیت اللہ محسود اور بعد میں حکم اللہ محسود کی ہلاکتوں کے بعد اختلافات ابھر کر سامنے آئے۔ فضل اللہ کی اس شدت پسند تنظیم کے پہلے غیرمحسود سربراہ کے طور پر انتخاب پر بھی کچھ لوگوں کو اختلاف تھا۔ نتیجتاً تنظیم کی محسود شاخ میں تقسیم پیدا ہوئی اور وہ سجنا اور شہریار گروپس کے ناموں سے سنہ 2014 میں سرگرم ہو گئیں۔ کافی عرصے تک یہ ایک دوسرے کے ساتھ بھی لڑتے رہے اور ایک دوسرے کو نقصان پہنچایا۔
خالد محسود سجنا گروپ کے رہنما ہیں اور فضل اللہ کے ساتھ اپنے اختلافات ختم کرکے شامل ہوگئے ہیں جس پھر اطلاعات ہیں کہ شہریار گروپ کو اعتراض ہے۔ شہریار گروپ کے کمانڈر قاری سیف اللہ کا کہنا ہے کہ وہ اس بابت کوئی فیصلہ جلد کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے فضل اللہ کے ساتھ اختلافات بدستور قائم ہیں اور وہ سجنا گروپ کے خالد محسود کو بھی تسلیم نہیں کرتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
جماعت الحرار نے گذشتہ دنوں ایک ویڈیو بھی جاری کی جس میں تنظیم کے ایک سینیئر کمانڈر اپنے اہداف کی فہرست پڑھتے ہیں اور اس تازہ کارروائی کو غازی کا نام دیا ہے۔ تاہم یہ نام لال مسجد، اسلام آباد کی شہداء فاؤنڈیشن کو پسند نہیں آیا اور کارروائی کو عبدالرشید غازی سے منسوب کرنے کی مذمت کی ہے۔ صحافتی گروپس میں شیئر کیے گئے اس بیان میں فاؤنڈیشن کے ترجمان حافظ احتشام احمد کا کہنا تھا کہ ’جماعت الاحرار اسلام اور ملک دشمن تنظیم ہے، اس کا اسلام اور پاکستان سے کوئی تعلق نہیں۔ جماعت الاحرار کی سرپرستی بھارتی ایجنسی را کر رہی ہے۔‘
اس بیان پر جماعت الحرار کے ترجمان اسد منصور نے کہا ہے کہ انہیں شہداء فاونڈیشن کی طرف سے لاہور کے حملے کی مذمت کی وجہ معلوم ہےـ ’ہمیں ان کی مجبوریوں اور مشکلات کا احساس ہے۔ ہم اس معاملے کی نزاکت کو سمجھ سکتے ہیں۔ اس لیے ان سے کوئی شکایت نہیں ہے۔‘
ان دونوں تنظیموں کے فعال رہنے کی واحد بڑی وجہ یقیناً پاکستان اور افغانستان کے درمیان شدت پسندی سے نمٹنے کے طریقہ کار پر اختلافات ہیں۔ پاکستان مشترکہ سرحد پر نگرانی کو بہتر بنانے کا مطالبہ بھی کر رہا ہے اور اس پر توجہ بھی دے رہا ہے اور اسے شاید احساس بھی ہے کہ تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی۔ کسی بڑے حادثے کے بعد ایک دوسرے ملک کے رہنماؤں کی تعزیتی ٹیلیفون کالز مسئلے کا حل نہیں ہیں۔ ایک دوسرے کے دشمن کو اپنا دشمن سمجھنا واحد حل ہے۔









