قومی احتساب بیورو بدعنوان عناصر کی معاونت کر رہا ہے: سپریم کورٹ

- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کی عدالت عظمیٰ نے کہا ہے کہ قومی احتساب بیورو ملک میں بدعنوان عناصر کا سہولت کار بنا ہوا ہے جس کی وجہ سے بدعنوانی کو جڑ سے اُکھاڑنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔
یہ ریمارکس سپریم کورٹ کے جج جسٹس شیخ عظمت سعید نے پیر کے روز قومی احستاب بیورو کے 'پلی بارگین' کے اختیار سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت کے دوران دیے۔
سماعت کے دوران اُنھوں نےکہا کہ 250 روپے لینے والے نچلے گریڈ کے اہلکار کو پکڑ کر جیل بھیج دیا جاتا ہے جبکہ اربوں روپے کی کرپشن کرنے والے شخص کو چھوڑ دیا جاتا ہے۔
جسٹس شیخ عظمت سعید نے نیب کے پراسیکیوٹر جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اُن کا ادارہ اخبارات میں 'کرپشن کر لو اور کرپشن کرالو کے اشتہارات' کیوں نہیں دیتا؟
اٹارنی جنرل اشتر اوصاف نے عدالت کو بتایا کہ نیب پلی بارگین سے متعلق اختیارات کے قانون کا غلط استعمال کر رہا ہے جس پر نیب کے پراسیکیوٹر جنرل وقاص ڈار کا کہنا تھا کہ ان کا ادارہ قانون کے مطابق ہی کام کررہا ہے اور یہ قانون نیب نے خود نہیں بنائے بلکہ پارلیمنٹ نے بنائے ہیں اس لیے نیب تو قانون کے مطابق ہی کام کرے گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
نیب کی پلی بارگین کے بارے میں از خود نوٹس کی سماعت کرنے والے بینچ کے سربراہ جسٹس امیر ہانی مسلم نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ قوانین نیب نے نہیں بنائے لیکن وہ اس قانون کا غلط استعمال ضرور کر رہا ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ کسی بااثر آدمی کو نہ پکڑنا اس کی واضح مثال ہے۔

نیب کے پراسیکیوٹر جنرل کا کہنا تھا کہ ماتحت عدالتوں کے حکم پر بھی ملزمان سے رقوم کی واپسی کے لیے پلی بارگین کی جاتی ہے جس پر بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ وہ ایسے عدالتی فیصلوں کو چیلنج کیوں نہیں کرتے۔
عدالت نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ وہ نیب کے قانون کی شق-25 کے بارے میں وفاق کا موقف ایک ہفتے میں پیش کریں جو پلی بارگین سے متعلق نیب کے چیئرمین کے اختیارات کی وضاحت کرتا ہے۔
عدالت کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ اس معاملے کو سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کے سامنے رکھنے کے لیے چیف جسٹس کو لکھیں گے۔
واضح رہے کہ سابق چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے بینچ نے پلی بارگین سے متعلق چیئرمین نیب کے اختیارات کو معطل کر رکھا ہے۔
بلوچستان کے سیکریٹری خزانہ مشتاق رئیسانی کی بدعنوانی کا مقدمہ نیب میں زیر سماعت تھا جس میں نیب نے اُن سے پلی بارگین کی تھی۔ مشتاق رئیسانی کی پلی بارگین پر ملک کے کئی حلقوں نے نیب کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔








