’ورلڈ بینک سندھ طاس معاہدے پر عملدرآمد کرائے ‘

پاکستان نے ورلڈ بینک کی جانب سے سندھ طاس معاہدے پر آبی تنازعے کے حل کے لیے غیر جانبدار ماہر یا چیئرمین عالمی ثالثی عدالت کی تقرری روکنے کے اقدام کو پاکستانی مفاد کے منافی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ معاہدہ کسی فریق کو معاہدے پر عمل درآمد کو روکنے کا اختیار نہیں دیتا۔
سنیچر کو پاکستان کے وفاقی وزیر حزانہ اسحاق ڈار کی جانب سے ورلڈ بینک صدر کو بھجوایے کے خط کی کاپی وزیراعظم نواز شریف کے دفتر سے جاری کی گئی ہے۔
خیال رہے کہ ورلڈ بینک کے صدر جم یانگ کنگ نے 12 دسمبر کو سندھ طاس معاہدے پر آبی تنازعے کے حل کے لیے غیر جانبدار ماہر یا چیئرمین عالمی ثالثی عدالت کی تقرری روکتے ہوئے پاکستان اور انڈیا کو جنوری تک کی مہلت دی تھی۔
1960 میں طے پانے والے اس معاہدے کے تحت انڈیا کو مشرقی دریاؤں یعنی ستلج، راوی اور بیاس جبکہ پاکستان کو مغربی دریاؤں جہلم، چناب اور سندھ کو استعمال کرنے کے حقوق دیے گئے تھے۔
انڈیا دریائے نیلم کے پانی پر 330 میگاواٹ کشن گنگا اور دریائے چناب کے پانی پر 850 میگا واٹ رتلے پن بجلی منصوبہ تعمیر کر رہا ہے۔
انڈیا اور پاکستان کے درمیان متعدد بار سیاسی کشیدگی کے باوجود بھی کسی ملک نے اس معاہدے کو منسوخ نہیں کیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس تنازعے کے حل کے لیے انڈیا نے ورلڈ بینک سے غیر جانبدار ماہر کا تقرر کرنے کی درخواست کی گئی تھی جبکہ پاکستان نے بھی چیئرمین عالمی ثالثی عدالت کے تقرر کی درخواست کی تھی۔
پاکستان کے وفاقی وزیرِ خزانہ نے اپنے خط میں اس بات پر زور دیا ہے کہ ورلڈ بینک کا یہ فیصلہ پاکستانی مفاد کے منافی ہے۔

،تصویر کا ذریعہENVIRONMENTAL JUSTICE ATLAS
یہ خط بارہ دسمبر کو ورلڈ بینک کے صدر کی جانب سے پاکستان اور انڈیا کے حکام کو اپنے فیصلے سے آگاہ کرنے کے خط کے جواب میں لکھا گیا ہے۔
پاکستان کا کہنا ہے کہ ورلڈ بینک کے صدر کو یہ خط تمام سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد لکھا جا رہا ہے جن کا یہ کہنا ہے کہ ثالثی عدالت میں چئیرمین کی تقرری کا روکا جانا خلافِ دستور ہے اور ورلڈ بینک پر زور دیا جاتا ہے کہ وہ سندھ طاس معاہدے پر عمل کرے اور چیئرمین کی تقرری جلد کی جائے۔
وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی جانب سے لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ ورلڈ بینک کی جانب سے آبی تنازعے کے حل کے لیے غیر جانبدار ماہر یا چیئرمین عالمی ثالثی عدالت کی تقرری روکنے کے عمل سے یقینی طور پر پاکستان کو ایک قابل اور موزوں فورم تک رسائی سے روک دیا گیا ہے۔
'1960 کا سندھ طاس معاہدہ یہ نہیں کہتا کہ کوئی فریق اپنی ذمہ داری ادا کرنے کے بجائے اس اقدام کو روک دے۔‘
پاکستانی وفاقی وزیرِ کے خط کے متن کے مطابق 12 دسمبر کے خط میں ورلڈ بینک نے 18 اکتوبر کو لکھے گئے خط میں لی گئی پوزیشن چھوڑ دی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ 'چارٹر میں بینک کا کردار محدود ہے اور اس کا تعلق صرف قاعدے کے مطابق امور سرانجام دینا ہے جو کہ متنازع امور پر قانونی شواہد کو نہیں دیکھتا۔'
انھوں نے کہا کہ ورلڈ بینک کا کردار کیا ہے اس کی وضاحت موجود ہے اور اسے معاہدے کی شرائط پر عمل کرنا چاہیے۔









