افغان خاتون شربت گلہ کا اعتراف جرم، 15 دن کی سزا

شربت گلہ

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنشربت گلہ کو قید سے رہائی کے بعد افغانستان ڈی پورٹ کر دیا جائے گا
    • مصنف, عزیز اللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

افغان جنگ کے دوران نیشنل جیو گرافک میگزین کے سر ورق پر تصویر کی اشاعت سے شہرت پانے والی افغان خاتون شربت گلہ کو جعلی پاکستانی شناختی کارڈ بنوانے کے معاملے میں 15 دن قید اور جرمانے کی سزا سنائی گئی ہے۔

شربت گلہ کے وکیل مبشر نظر ایڈووکیٹ نے پشاور کے علاقے حیات آباد میں قائم خصوصی عدالت کے باہر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ شربت گلہ نے جمعے کو عدالت میں اقبالِ جرم کیا ہے ۔

اُن کا کہنا تھا کہ عدالت نے شربت کو 15 دن قید اور ایک لاکھ 10 ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی ہے۔

شربت گلہ کے وکیل نے بتایا کہ'جس دن سے انھیں گرفتار کیا گیا ہے اب تک وہ 11 دن جیل میں گزار چکی ہیں اور وہ چار دن مزید جیل میں گزاریں گی اور جرمانے کی ادائیگی کے بعد رہا ہو جائیں گی۔

شربت گلہ کو رہائی کے بعد افغانستان ڈی پورٹ کر دیا جائے گا۔

اس سے پہلے بدھ کو ہونے والی گذشتہ سماعت میں عدالت نے شربت گلہ کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی تھی۔

شربت گلہ
،تصویر کا کیپشنشربت گلہ کی عدالت میں پیشی کے موقع پر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں نے انھیں گھیر لیا

شربت گلہ کی جانب سے ضمانت کی درخواست گذشتہ جمعے کے روز پیش کی گئی تھی جس پر وکیل صفائی اور استغاثہ کے دلائل مکمل ہونے کے بعد خصوصی عدالت کے جج نے فیصلے کے لیے آج جمعے کی تاریخ مقرر کی تھی۔

شربت گلہ کو پاکستان کا جعلی شناختی کارڈ رکھنے کے جرم میں گرفتار کیا گیا ہے جبکہ جعلی شناختی کارڈ بنانے کے جرم میں نادرا کے دو افسران کو پہلے سے گرفتار کیا جا چکا ہے۔

شربت گلہ کی رہائی کے لیے اسلام آباد میں افغان سفارتخانے کی جانب سے بھرپور کوششیں کی جا رہی ہیں۔

شربت گلہ نے 1980 کی دہائی میں نیشنل جیوگرافک میگزین کے سرورق پر اپنی تصویر کی اشاعت کے بعد عالمی شہرت پائی تھی۔ افغان سفارتخانے کے حکام کے مطابق اس تصویر سے شہرت پانے والی شربت گلہ اب عالمی سطح پر افغانستان کی شناخت بن چکی ہیں۔

شربت گلہ کو 26 اکتوبر کو پاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے نے حراست میں لیا تھا جس کے بعد عدالت نے شربت گلہ کو جیل بھیج دیا تھا۔

شربت گلہ کی گرفتاری سے پہلے شناختی کارڈ بنانے والے وفاقی ادارے نادرا کے اہم اہلکاروں کو بھی شربت گلہ کے لیے جعلی شناختی کارڈ بنانے کے الزام میں گرفتار کیا جا چکا ہے۔

شربت گلہ

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنشربت گلہ نے 1980 کی دہائی میں نیشنل جیوگرافک میگزین کے سرورق پر اپنی تصویر کی اشاعت کے بعد عالمی شہرت پائی تھی۔

گذشتہ اتوار کو اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کے دوران جب وزیرِ داخلہ چوہدری نثار کی توجہ اس معاملے پر مبذول کروائی گئی تو انھوں نے موقع پر ہی اپنے عملے کو شربت گلہ کی ضمانت یقینی بنانے کی ہدایات جاری کی تھی۔

چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ ’مجھے اس کیس کو خود دیکھنا ہوگا کیونکہ شربت گلہ ایک خاتون ہیں اور اس مقدمے کو انسانی بنیادوں پر دیکھا جانا چاہیے۔‘