افغان خاتون شربت گلہ کی ضمانت کی درخواست مسترد

شربت گلہ

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنشربت گلہ کو 26 اکتوبر کو پاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے نے حراست میں لیا تھا
    • مصنف, عزیز اللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

افغان جنگ کے دوران نیشنل جیو گرافک میگزین کے سر ورق پر تصویر کی اشاعت سے شہرت پانے والی افغان خاتون شربت گلہ کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی گئی ہے۔

پشاور کے علاقے حیات آباد میں قائم خصوصی عدالت کی جج نے بدھ کی صبح ضمانت کی درخواست پر فیصلہ سنایا ہے۔

شربت گلہ کی جانب سے ضمانت کی درخواست جمعے کے روز پیش کی گئی تھی جس پر گذشتہ روز وکیل صفائی اور استغاثہ نے اپنے اپنے دلائل دیے تھے۔ خصوصی عدالت کی جج نے فیصلے کے لیے آج کی تاریخ مقرر کی تھی۔

شربت گلہ کو پاکستان کا جعلی شناختی کارڈ رکھنے کے جرم میں گرفتار کیا گیا ہے جبکہ جعلی شناختی کارڈ بنانے کے جرم میں نادرا کے دو افسران کو پہلے سے گرفتار کیا جا چکا ہے ۔ شربت گلہ کی رہائی کے لیے اسلام آباد میں افغان سفارتخانے کی جانب سے بھرپور کوششیں کی جا رہی ہیں ۔

شربت گلہ نے 1980 کی دہائی میں نیشنل جیوگرافک میگزین کے سرورق پر اپنی تصویر کی اشاعت کے بعد عالمی شہرت پائی تھی۔ افغان سفارتخانے کے حکام کے مطابق اس تصویر سے شہرت پانے والی شربت گلہ اب عالمی سطح پر افغانستان کی شناخت بن چکی ہیں۔

شربت گلہ کے وکیل افغان سفارتخانے کے قانونی مشیر مبشر نذر ایڈووکیٹ خصوصی طور پر اسلام آباد سے پشاور پہنچے تھے۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ تفصیلی فیصلہ موصول ہونے کے بعد وہ اس بارے میں کچھ بات کر سکیں گے۔

شربت گلہ کو 26 اکتوبر کو پاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے نے حراست میں لیا تھا جس کے بعد عدالت نے شربت گلہ کو جیل بھیج دیا تھا۔

شربت گلہ کی گرفتاری سے پہلے شناختی کارڈ بنانے والے وفاقی ادارے نادرا کے اہم اہلکاروں کو بھی شربت گلہ کے لیے جعلی شناختی کارڈ بنانے کے الزام میں گرفتار کیا جا چکا ہے۔

شربت گلہ

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنشربت گلہ نے 1980 کی دہائی میں نیشنل جیوگرافک میگزین کے سرورق پر اپنی تصویر کی اشاعت کے بعد عالمی شہرت پائی تھی۔

اتوار کی شام اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کے دوران جب وزیرِ داخلہ چوہدری نثار کی توجہ اس معاملے پر مبذول کروائی گئی تو انھوں نے موقع پر ہی اپنے عملے کو شربت گلہ کی ضمانت یقینی بنانے کی ہدایات جاری کی تھی۔

چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ ’مجھے اس کیس کو خود دیکھنا ہوگا کیونکہ شربت گلہ ایک خاتون ہیں اور اس مقدمے کو انسانی بنیادوں پر دیکھا جانا چاہیے۔‘

انھوں نے کہا کہ اگر شربت گلہ کے خلاف الزامات واپس لیے جائیں یا انھیں ملک بدر کر دیا جائے تو ہمیں ان افسران کے خلاف بھی کیسز واپس لینے پڑیں گے جنھوں نے شربت گلہ کو جعلی قومی شناختی کارڈ جاری کیا۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ ’میں ان افسران کو چھوڑنا نہیں چاہتا۔‘

اس سے قبل افغان حکام نے بھی شربت گلہ کی رہائی کے لیے کوششیں کی تھیں اور ان کی گرفتاری کی خبر سامنے آنے کے بعد انھیں قانونی مدد فراہم کی گئی ہے۔

اسلام آباد میں افغان سفیر حضرت عمر زاخیلوال کے مطابق افغان سفارت خانے کے قونصلرز اور وکلا کو پشاور بھیجا گیا تاکہ وہ شربت گلہ کی رہائی کے لیے ہر ممکن قانونی کوششیں کریں۔