’راستے بند کر کے نواز شریف ملک کو داؤ پر لگا رہے ہیں‘

عمران حان

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنعمران خان نے دو نومبر کو اسلام آباد بند کرنے کی کال دے رکھی ہے

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے حکومت کی جانب سے احتجاجی دھرنے کو روکنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس وقت وزیراعظم نواز شریف پاکستان کے لیے سب سے بڑا سکیورٹی رسک بن گئے ہیں۔

سنیچر کو اسلام آباد میں بنی گالہ میں اپنی رہائش گاہ کے باہر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ ’نواز شریف اپنی چوری چھپانے کے لیے پورے ملک کو داؤ پر لگا رہے ہیں۔‘

عمران خان نے کہا کہ ’خیبرپختونخوا میں یہ تاثر پھیلے گا کہ نہ تو انھیں حقوق دیے جا رہے ہیں، نہ پوری بجلی دی جا رہی ہے اور اب ان کا راستہ بھی بند کر دیا گیا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ہم سے کہا جا رہا تھا کہ اگر آپ نے شہر کو بند کر دیا تو تمام سکول کالج اور دفاتر وغیرہ بھی بند ہو جائیں گے لیکن اب حکومت نے خود ہی سب کچھ بند کر دیا ہے۔‘

عمران خان نے اپنے کارکنوں کے بارے میں کہا کہ وہ دو نومبر تک نہ پکڑے جائیں دو کے بعد انھیں کوئی نہیں پکڑ پائے گا۔

جب ان سے سوال کیا گیا کہ تمام راستے بند ہیں تو ان کا دس لاکھ لوگ جمع کرنے کا دعویٰ کیسے پورا ہو سکے گا؟ اس کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ’دس لاکھ لوگوں کی سونامی چاروں جانب سے آئے گی۔‘

اس سے قبل پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا تھا کہ وہ تمام رکاوٹوں کو عبور کرتے ہوئے دو نومبر کو اسلام آباد ضرور جائیں گے اس سلسلے میں انھوں نے اپنی جماعت کے کارکنان کو ہدایت کی کہ وہ دو نومبر تک گرفتاریوں سے بچیں۔

خیال رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کا مطالبہ ہے کہ وزیراعظم نواز شریف کرپشن کے الزامات کا جواب دیں یا مستعفی ہوں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ دو نومبر کو اسلام آباد کو لاک ڈآون کریں گے اور ڈی چوک میں دھرنا دیں گے۔

راولپنڈی

،تصویر کا ذریعہAFP

پاکستان کی سپریم کورٹ نے پاناما لیکس سے متعلق معاملے کی سماعت کے لیے پانچ رکنی لارجر بینچ تشکیل دے دیا ہے جو یکم نومبر سے اس کی سماعت کرے گا۔

ہائی کورٹ کا فل بینچ پیر کو دو نومبر کو اسلام آباد بند کرنے کے اعلان کے پیش نظر تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے کارکنوں کی گرفتاریوں کے خدشات پر مبنی درخواست کی سماعت کر گا۔

ہائیکورٹ کا تین رکنی فل بنچ 31 اکتوبر سے درخواست پر کارروائی شروع کرے گا۔

عمران خان نے راولپنڈی میں عوامی مسلم لیگ کے احتجاجی جلسے میں شرکت کرنا تھی لیکن جمعے کی شام بنی گالہ میں اپنی رہائش گاہ کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے عمران حان نے کہا کہ ’آج حکومت سے ٹکر لینے کی ضرورت نہیں اور اب وہ دو تاریخ کو ہی ہر صورت نکلیں گے۔‘

سنیچر کی صبح اسلام آباد کے نواحی علاقے بنی گالا میں اپنی رہائش گاہ کے باہر موجود کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ وہ دو نومبر کو اسلام آباد ضرور جائیں گے۔

عمران حان

،تصویر کا ذریعہAFP

اپنے مختصر بیان میں عمران خان نے کہا کہ ہائی کورٹ کا حکم ہے کہ کوئی پی ٹی آئی کے کارکنوں کو گرفتار نہ کرے۔

وزیراعظم کے نام پیغام میں انھوں نے کہا کہ وہ دو نومبر کو بتائیں گے کہ جہموریت کیا ہوتی ہے؟ جبکہ اپنے کارکنان کے نام پیغام میں عمران خان نے کہا کہ وہ دو نومبر تک گرفتاری سے بچیں۔

ادھر راولپنڈی میں پاکستان عوامی مسلم لیگ کے جلوس کے باعث شہر بھر میں لگی رکاوٹوں کو ہٹایا جا رہا ہے اور معمولات زندگی بحال ہو رہے ہیں۔

پی ٹی آئی کے رہنما چوہدری سرور نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پی ٹی آئی کے زیرِ حراست کارکنوں کو فوری طور پر رہا کر دیں۔

ان کا کہنا تھا کہ لاک ڈاون کا مطلب یہ نہیں کہ سڑکیں بند کر دی جائیں گے۔

خیال رہے کہ جمعے کو اسلام آباد اور راولپنڈی کی انتظامیہ نے شہر میں دفعہ 144 نافذ کی تھی جس کے تحت پانچ سے زیادہ افراد کے اجتماع کے علاوہ لاؤڈسپیکر کے استعمال پر پابندی عائد تھی۔

اس سے قبل اسلام آباد ہائی کورٹ نے ضلعی انتظامیہ کو پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں کو ہراساں کرنے اور انھیں بلاجواز گرفتار کرنے سے روک دیا تھا۔

عمران خان کا کہنا ہے کہ عدالتی حکم کے باوجود انتظامیہ پی ٹی آئی کے کارکنان کو گرفتار کر رہی ہے۔