’امن کی پتنگ حکومتوں کے رحم و کرم پر‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آج سے دس سال پہلے بھارت اور پاکستان کے درمیان امن کی کوششوں اور دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان رابطے بڑھانے کا کام شروع کرنے والے دانشوروں اور امن کے کارکنوں کا ایک چار روزہ اجلاس آج لاہور میں شروع ہوا۔ امن کارکنوں کی اس ملاقات میں اس بات پر غور کیا جا رہا ہے کہ اب تک جو امن کی تحریک ایک عمل (پراسیس) کی صورت میں چلی ہے اس کی دستاویز اور تاریخ مرتب کی جائے اور یہ دیکھا جائے کہ اس تحریک کو اب آگے کیسے بڑھانا ہے۔ امن کی تحریک کو آگے بڑھانے کے لیے دانشوروں نے مختلف خیالات پیش کیے جن کا خلاصہ یہ تھا کہ سیاسی جماعتوں کو امن کے عمل میں شامل کریں، لوگوں کی شہری آزادیوں کی جدوجہد کو امن کی تحریک سے جوڑیں، امن کی تحریک ایسی ہو جس سے عام لوگوں کو فائدہ ہو اور اس سے صرف امیروں کا فائدہ نہ ہو۔ ڈاکٹر مبشر حسن بھارت اور پاکستان میں غیر سرکاری سطح پر سفارت کاری کرتے رہے ہیں اور دونوں طرف کے عوام میں رابطے بڑھانے کے لیے پیپلز فورم برائے امن و جمہوریت کے بانیوں میں سے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امن کی باگ ڈور اس وقت عوام کے ہاتھ میں نہیں ہے۔ مبشر حسن نے ایک دلچسپ مثال دی کہ پتنگ ہوا میں اس لیے چڑھتی ہے کہ ہوا چل رہی ہوتی ہے، پتنگ اڑانے والے کو یہ نہیں سمجھ لینا چاہیے کہ ہوا اس نے چلائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسی طرح امن (پراسیس) کے عمل کی پتنگ بھی حکومتوں کے رحم و کرم پر ہے۔ مبشر حسن نے کہا کہ اس اجلاس کے لیے بہت سے لوگوں کو پاکستان آنے کے لیے ویزے نہیں دیے گئے جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ امن کی باگ ڈور عوام کے ہاتھ میں نہیں۔ انہوں نے کہا کہ امن کارکنوں کو اس قابل بنانا پڑے گا کہ اگر انہیں ویزے نہ ملیں تو وہ دونوں طرف کی حکومتوں کو مجبور کر سکیں کہ انہیں ویزے دیئے جائیں۔ مبشر حسن کا موقف تھا کہ اس وقت جو امن کا عمل چل رہا ہے اس میں بڑا کردار ایلیٹ ( امراء) کے ایک حصہ کا ہے جس کے خیال میں اس کا مفاد اس میں ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان امن قائم ہو۔ تاہم ایلیٹ کا دوسرا حصہ اس کے خلاف ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ اس طبقہ نے یہ سمجھا کہ پاکستان اور بھارت کی نفرت کی بنیاد پر وہ ووٹ نہیں لے سکتے اس لیے نواز شریف اور واجپئی کی ملاقات ہوئی اور کارگل جنگ، بھارتی پارلیمینٹ پر حملہ اور آگرہ کے مذاکرات کی ناکامی کے بعد بھی دونوں ملکوں کے درمیان بات چیت شروع ہوگئی۔ مبشر حسن کا کہنا تھا کہ امن کے کارکنوں کو امراء کے نعروں سے استحصال کا شکار نہیں ہونا چاہیے اور عوام کے مفاد میں امن کی تعبیر کرنی چاہیے۔ دانشور آئی اے رحمان نے امن کے عمل کو درپیش چیلنجز کا تجزیہ کیا اور کہا کہ امن کا نعرہ اب پرانا ہو گیا ہے اور اس میں وہ چمک نہیں رہی جو اس وقت تھی جب شروع میں یہ نعرہ لگایا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ امن کے نعرہ کی فرسودگی امن کے عمل کے لیے ایک چیلنج ہے کیونکہ عوام اب امن کے عمل سے کوئی ٹھوس نتیجہ چاہتے ہیں۔ آئی اے رحمان نے کہا کہ کچھ چیزیں دیومالا بن چکی ہیں جنہیں امن کا عمل آگے بڑھانے کے لیے توڑنے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک تو دیو مالا یہ ہے کہ پاکستان کے لوگ سمجھتے ہیں کہ بھارت نے پاکستان کی حقیقت کو تسلیم نہیں کیا۔ دوسرے ان کے خیال میں ایک دیو مالا سلامتی اور دفاع کی ہے جس کے لیے دونوں ملک بیرون ممالک سے ہتھیار خریدتے ہیں۔ ان کا موقف تھا کہ جب بیرون ملک سے کوئی ملک ہتھیار خریدتا ہے تو وہ دراصل اتنا ہی عدم تحفظ خریدتا ہے۔ آئی اے رحمان کا کہنا تھا کہ بھارت اور پاکستان کی تمام این جی اوز ملا کر بھی وہ کسی ایک سیاسی جماعت کے برابر نہیں۔ اس لیے ان کا موقف تھا کہ بڑی سیاسی جماعتوں کو امن کی تحریک میں لانا ہوگا اور این جی اوز کے موقف میں اور سیاسی جماعتوں کے موقف میں فاصلے کو کم کرنے کی کوشش کرنا پڑے گی۔ انسانی حقوق کمیشن پاکستان کی عاصمہ جہانگیر نے تجویز کیا کہ امن کے عمل کو بڑھانے کے لیے امن کے کارکن سنہ دو ہزار پانچ میں چار اہداف حاصل کرنے کا عزم کریں۔ ایک تو سیاچن سے فوجیں ہٹائی جائیں، دوسرے دونوں طرف کے کشمیر میں سے فوجیں نکالی جائیں، تیسرے دونوں طرف کے کشمیر میں آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کرائے جائیں اور چوتھے امن کو ایک فیشن اور مقبول عام بنانے کے لیے سال کا ایک دن امن کے دن کے طور پر منایا جائے۔ بھارت کی بحریہ کے سابق سربراہ ایڈمرل رام داس نے کہا کہ ہمارے نظام میں چار بڑے کھلاڑی ہیں۔ ریاست، سول سوسائٹی، عوام کی تحریکیں اور فوج۔ ان کا کہنا تھا کہ امن کے عمل کو آگے بڑھاتے ہوئے ان چاروں کھلاڑیوں کو ذہن میں رکھنا ضروری ہے۔ ایڈمرل رام داس کا کہنا تھا کہ امن کی تحریک کو اس وقت کئی چیلنج درپیش ہیں۔ ان میں دونوں ملکوں میں شدید غربت، مذہبی بنیاد پرستی، ملٹری کارپوریٹ کلچر، نیوکلیئر سوال، طرز فکر اور تعصبات اور بیرون ممالک اور خاص طور پر امریکہ کا اثر و نفوذ شامل ہیں۔ رام داس نے تجویز دی کہ امن کے عمل میں نوجوانوں کو شامل کیا جائے اور اس تحریک کا جائزہ لینے کے لیے سال میں ایک مرتبہ دونوں طرف کے لوگ مل بیٹھیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||