’فائر بندی:خلاف ورزی بھارت نے کی‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان نے الزام لگایا ہے کہ بھارت نے اکیس جنوری کو کنٹرول لائن پر جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔ پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان نے بی بی سی کو بتایا کہ جمعے کو کوٹلی- مینڈر ڈسٹرکٹ سیکٹر پرشام تین سے پانچ بجے کے درمیان بھارتی فوج نے پاکستانی فوج کی ایک چیک پوسٹ پرخودکار اسلحے سے فائرنگ کی اور کئی برسٹ مارے مگر پاکستانی فوج نے جوابی کارروائی نہیں کی اور برداشت سے کام لیا۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ میجرجنرل شوکت سلطان نے بتایا کہ اس واقعے کے بعد پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز نےاپنے بھارتی ہم منصب سے ہاٹ لائن پر رابطہ کیا اور پاکستانی چیک پوسٹ پر حملے پر احتجاج کیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی حکام نے اس واقعہ کی تحقیقات کرانے کا وعدہ کیا ہے۔ اس سے پہلے دفتر خارجہ کے ترجمان مسعود خان نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں بتایا تھا کہ دونوں ممالک نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ چودہ ماہ سے جاری اس جنگ بندی کے معاہدے کی پابندی کی جائے گی۔ اس سے پہلے بھارت نے پاکستان پر الزام عائد کیا تھا کہ 18 جنوری کو جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی کی گئی ہے اور بھارت کے علاقے میں کنٹرول لائن کی دوسری جانب سے مارٹر گولے فائر کئے گئے ہیں۔ پچھلے ہفتے بھی دونوں ممالک کے فوجی حکام نے دو دفعہ ہاٹ لائن پر رابطہ کیا تھا اور کنٹرول لائن پر کشیدگی کم کرنے کے حوالے سے بات چیت کی تھی۔ دفتر خارجہ کے ترجمان نے بھارتی الزامات کے جواب میں کہا ہے کہ یہ واقعے بھارتی علاقے میں ہوئے ہیں اور پاکستان نے کنٹرول لائن پر جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی نہیں کی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||