’عشرت سلطانہ کا ویزا بڑھ گیا‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارتی شہری کی اہلیہ کراچی کی عشرت سلطانہ کے لیے امید کی ایک کرن پیدا ہوئی ہے۔وہ گزشتہ ایک ماہ سے بھارت کی جنوبی ریاست آندھرا پردیش کی جیل میں ہیں۔ ان کے سسرال والوں نے بتایا ہے کہ بھارتی وزارتِ خارجہ نے ان کے ویزے میں مزید چھ ماہ کی توسیع کر دی ہے۔ عشرت سلطانہ کی شادی ان کے کزن ظہیرالحق سے گزشتہ جون میں ہوئی تھی۔ تاہم جب ان کا ویزا ختم ہو گیا تو انہیں گرفتار کر لیاگیا، جس کے بعد ان کے شوہر نے جو ایکسرے ٹیکنیشن کا کام کرتے ہیں ان کی رہائی کی کوششیں شروع کیں۔ ان کی ان کوششوں نے اثر تب دکھایا جو بھارتی ایوانِ زیریں کے ایک رکن ونود کمار ان کا کیس دلی لے گئے اور وزارتِ خارجہ سے عشرت کے ویزے میں چھ ماہ کی توسیع کرانے میں کامیاب ہو گئے۔ عشرت کی سسرال کا کہنا ہے کہ عشرت کی رہائی کا عمل تب شروع ہو گا جب عشرت کے ویزے میں توسیع کے احکامات دلی سے ریاستی حکومت تک اور پھر اس سے ضلعی انتظامیہ تک رسائی حاصل کریں گے۔ عشرت کو 12 اگست کو گرفتار کر کے ایک عدالت میں پیش کیا گیا تھا جس نے اسے پندرہ دن کے لیے عدالتی حراست کے تحت جیل بھیج دیا لیکن جب یہ پندرہ دن ختم ہوئے تو اس مدت میں مزید پندرہ دن کی توسیع کر دی گئی۔ عشرت کو 17 مئی کو پاکستان سے بھارت لایا گیا اور اس کے ویزے کا سبب اس خالہ سے ملاقات بتایا گیا جو 1947 کی تقسیم کے دوران اپنے خاندان سے بچھڑ گئی تھیں۔ اسی دوران ہی خاندان نے عشرت اور ظہیر کی شادی کرانے کا فیصلہ کر لیا اور 24 جون کو ان دونوں کی شادی کرا دی گئی۔ لیکن 30 مئی کو جب عشرت کا ویزا ختم ہو گیا اور انہیں مزید قیام کی اجازت نہ ملی تو تو پولیس نے انہیں بھارت چھوڑ کر پاکستان جانے کا نوٹس دے دیا اور اس نوٹس کا وقت ختم ہونے پر انہیں گرفتار کر کے عدالت میں پیش کر دیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||