’دیش رہیں، دیوار نہ رہے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آج صبح ہندوستانی ریاست ہریانہ کے وزیراعلی اوم پرکاش چوٹالہ واہگہ کے راستے تین روزہ دورہ پر لاہور پہنچے۔ انھیں عالمی پنجابی کانگریس نے پاکستان آنے کی دعوت دی ہے۔ واہگہ پر بی بی سی سے بات کرتے ہوۓ اوم پرکاش چوٹالہ نے کہا کہ دونوں ملکوں کے عوام ایمانداری سے چاہتے ہیں کہ ان کے تعلقات اچھے ہوں۔ انھوں نے کہا کہ اتنے لمبے عرصے تک دونوں طرف سے جھگڑے رہے ان کو سلجھانے میں وقت تو لگے گا لیکن اب جبکہ یورپ کے ملک جو سینکڑوں سال تک آپس میں لڑتے رہے آج ان کی کرنسی ایک ہے، ویزا نہیں ہے، ان کی تجارت پر پابندی نہیں ہے ، آمدو رفت کی رکاوٹ نہیں ہے تو پھر ہندوستان اور پاکستان کے عوام کے درمیان دیوار کیوں رہے؟ ایک سوال کے جواب میں ہریانہ کے وزیراعلی نے کہا کہ دو ملک ، پاکستان اور ہندوستان، اب جب بن گۓ ہیں اب کوئی یہ سوچے کہ کسی ملک کو توڑ دیا جائے تو یہ ناممکن ہے ملک تو اپنی جگہ رہیں گے۔ اوم پرکاش چوٹالہ کے ساتھ ہریانہ کے پانچ وزیروں سمیت اڑتیس افراد کا وفد آیا ہے جس میں دو خواتین شامل ہیں۔ عالمی پنجابی کانگریس کے ارکان کے علاوہ لاہور کے ضلعی ناظم میاں عامر محمود اور دو صوبائی وزراء نے وفد کا واہگہ پر استقبال کیا جس کے بعد چوٹالہ عالمی پنجابی کانگریس کے چیرمین فخر زمان کے گھر ان کی اہلیہ کی وفات پر تعزیت کے لیے گۓ۔ پنجاب کے وزیراعلی پرویز الہی ان کے لیے عشائیہ دیں گے۔ وہ کل وزیرآباد کے نزدیک سوہدرا میں ہندو جوگی سے ملنے جائیں گے اور لاہور کے تاریخی مقامات کی سیر کریں گے اور شیخوپورہ میں وارث شاہ کے مقبرہ پر حاضری دیں گے اور ننکانہ صاحب میں گورو نانک کے جنم استھان پر جائیں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||