’غیر ملکی اسلحہ رکھ سکتے ہیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سعودی عرب میں اس قانون میں ترمیم کی جا رہی ہے جس کے تحت غیر ملکی اپنے پاس اسلحہ نہیں رکھ سکتے تھے۔ اس قانون میں نرمی سعودی عرب میں غیر ملکیوں پر حالیہ حملوں کے تناظر میں کی جا رہی ہے۔ وزیر داخلہ نائف بن عبدالعزیز نے کہا جو غیر ملکی یہ سمجھتے ہیں کہ ان کی جان کو خطرہ ہے اسلحے کے لائسنس کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔ اتوار کے روز مغربی سفارتکار بھی سعودی حکام سے ملنے والے ہیں جہاں غیرملکیوں کی سلامتی کے طریقے بہتر بنانے کے امور زیرِ بحث آئیں گے۔ دریں اثناء سعودی حکام نے بتایا ہے کہ حالیہ عام معافی کے اعلان کے بعد پہلی دفعہ ایک مطلوب شدت پسند نے اپنے آپ کو قانون کے حوالے کر دیا ہے۔ پولیس کے مطابق شعبان الشھري نے اپنے آپ کو بدھ کے روز حکام کے حوالے کیا تھا۔ سعودی حکام کا کہنا ہے کہ وہ اپنی پوری کوشش کر رہے ہیں کہ اسلامی شدت پسندوں کے حملوں سے غیر ملکیوں کو تحفظ فراہم کریں۔ سعودی عرب میں پرائیویٹ سکیورٹی گارڈز سمیت کوئی غیر ملکی بھی اپنے پاس اسلحہ نہیں رکھ سکتا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||