| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
دھماکے کو حادثہ قرار دیدیا گیا
بغداد میں امریکی فوجی حکام کا کہنا ہے کہ بدھ کو تیل کے ٹینکر میں ہونے والا دھماکہ حادثہ کا نتیجہ تھا۔ اس دھماکہ میں کم سے کم دس افراد ہلاک اور کئی زخمی ہوگئے تھے۔ یہ دھماکہ عراقی دارالحکومت کے مغربی ضلع بیا میں مقامی وقت کے مطابق صبح کے چھ بجے ہوا۔ ابتدائی طور پر عراقی حکام نے کہا تھا کہ ایک بس کے ٹکرانے سے ٹینکر میں لگا بم پھٹ گیا۔ دھماکے کے نتیجے میں آگ بھڑک اٹھی جس نے ایک منی بس اور ایک پک اپ ٹرک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اردگرد کی دیگر گاڑیاں بھی دھماکے سے متاثر ہوئی ہیں۔ ایک کار میں سوار چار افراد موقع پر ہی ہلاک ہوگئے۔ بغداد پولیس ڈائریکٹر حامد صبا فہد نے اس دھماکے کو دہشتگردانہ کارروائی قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ جائے وقوعہ کے نزدیکی علاقے میں کوئی فوجی تنصیب نہیں تھی جس کو نشانہ بنایا جاتا۔ غیر مصدقہ اطلاعات یہ بھی ہیں کہ بدھ ہی کے روز بغداد کے الیرموک ضلع میں ایک ریلوے سٹیشن کے نزدیک دوسرا دھماکہ ہوا ہے۔ بغداد میں گزشتہ چند ماہ کے دوران کار بم دھماکوں کا ایک سلسلہ چل نکلا ہے۔ پیر کے روز ایسے ہی ایک دھماکے میں آٹھ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||