BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 17 December, 2003, 00:55 GMT 05:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
صدام: تفتیش سی آئی اے کے حوالے
رمزفیلڈ
ڈونلڈ رمزفیلڈ کہتے ہیں کہ عراقیوں کو صدام کی گرفتاری کا یقین دلانے کے لئے ان کی تصاویر دکھانا ضروری تھا۔

امریکی وزیر دفاع ڈونلڈ رمزفیلڈ نے کہا ہے کہ عراق کے صدام حسین سے تفتیش کا عمل سی آئی اے کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ صدام حسین سے کیے جانے والے سوالات، ان سے حاصل ہونے والی معلومات کا انتظام اور تفتیش کے سارے عمل کی نگرانی میں مرکزی کردار سینٹرل انٹیلیجنس ایجنسی یا سی آئی اے کا ہوگا۔

امریکہ محکمۂ دفاع پنٹاگن میں بی بی سی کے نامہ نگار نے اس فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس ظاہر ہوتا ہے کہ تفتیش کاروں کے سامنے عراق کے معزول اور زیرحراست صدر صدام حسین کے بیان پر عراق میں آئندہ رونما ہونے والے حالات کا کس قدر انحصار ہے۔

ڈونلڈ رمزفلیڈ نے یہ بتانے سے گریز کیا کہ اب تک صدام حسین سے کوئی کارآمد بات اگلوائی جا سکی ہے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ دوران تفتیس صدام حسین کا طرز عمل کیسا ہے تو انہوں نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ انہوں نے خود کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے۔

صدام حسین کی تصاویر اور ویڈیو جاری کرنے کا دفاع کرتے ہوئے ڈونلڈ رمزفیلڈ نے کہا کہ عراقیوں کو صدام کی گرفتاری کا یقین دلانے کے لئے ایسا کرنا ضروری تھا۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ صدام حسین سے جینیوا کنونشن کے مطابق سلوک کیا جا رہا ہے تاہم ان کی حتمی حیثیت کا تعین نہیں کیا گیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد