| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدام: تفتیش سی آئی اے کے حوالے
امریکی وزیر دفاع ڈونلڈ رمزفیلڈ نے کہا ہے کہ عراق کے صدام حسین سے تفتیش کا عمل سی آئی اے کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صدام حسین سے کیے جانے والے سوالات، ان سے حاصل ہونے والی معلومات کا انتظام اور تفتیش کے سارے عمل کی نگرانی میں مرکزی کردار سینٹرل انٹیلیجنس ایجنسی یا سی آئی اے کا ہوگا۔ امریکہ محکمۂ دفاع پنٹاگن میں بی بی سی کے نامہ نگار نے اس فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس ظاہر ہوتا ہے کہ تفتیش کاروں کے سامنے عراق کے معزول اور زیرحراست صدر صدام حسین کے بیان پر عراق میں آئندہ رونما ہونے والے حالات کا کس قدر انحصار ہے۔ ڈونلڈ رمزفلیڈ نے یہ بتانے سے گریز کیا کہ اب تک صدام حسین سے کوئی کارآمد بات اگلوائی جا سکی ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ دوران تفتیس صدام حسین کا طرز عمل کیسا ہے تو انہوں نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ انہوں نے خود کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے۔ صدام حسین کی تصاویر اور ویڈیو جاری کرنے کا دفاع کرتے ہوئے ڈونلڈ رمزفیلڈ نے کہا کہ عراقیوں کو صدام کی گرفتاری کا یقین دلانے کے لئے ایسا کرنا ضروری تھا۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ صدام حسین سے جینیوا کنونشن کے مطابق سلوک کیا جا رہا ہے تاہم ان کی حتمی حیثیت کا تعین نہیں کیا گیا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||