آج سولہ نومبر ہے ! | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بغداد میں کم ازکم آج کوئی کار بم نہیں پھٹنا چاہئیے ۔غربِ اردن میں کسی اسرائیلی فوجی کی رائفل سے شعلہ نہ نکلنے پائے۔سوڈان میں جنجاوید ملیشیا کےمسلح گھڑ سوار کسی مخالف قبائلی کا گھر جلانے کا نہ سوچیں۔ افغانستان میں آج کسی بارات کو یہ خوف نہ ہو کہ کوئی نیٹو طیارہ غلطی سے اس پر بم گرادےگا۔سی آئی اے کے کسی عقوبت خانے میں کسی کے ناخن نہ کھینچے جائیں۔ آج ریاست اڑیسہ میں کسی بھارتی عیسائی شہری کو اپنے کسی ہندو ہمسائے کے غیض و غضب کا نشانہ نہیں بننا چاہیئے۔کشمیر میں کسی ریلی کو آنسوگیس کے شیل یا گولیوں کا سامنا نہ ہو۔ پاکستان کے کسی بھی قبائلی و غیر قبائلی علاقے میں کوئی بھی خود کش حملہ آور اپنی واردات موخر کردے۔اور عام قبائلیوں کے گھر آج کسی فوجی توپ یا راکٹ کا نشانہ نہ بنیں ۔۔۔۔ لیکن کچھ نہ کچھ کہیں نہ کہیں تو ضرور ہوگا۔حالانکہ آج سولہ نومبر ہے۔ بلوچستان کے علاقے زیارت میں گذری رات درجہ حرارت منفی اعشاریہ آٹھ رہا۔تیس ہزار سے زائد بے گھر افراد پتلے امدادی خیموں میں یہ سردی برداشت کررہے ہیں۔کسی عورت نے اپنی آدھی چادر ٹھٹھرتے بچے کو اوڑھا رکھی ہے اور وہ مسلسل اپنے کھانستے ہوئے لختِ جگر کا رونا برداشت کررہی ہے۔اسکا آدمی لائن میں کھڑا دعا مانگ رہا ہے کہ باری آنے سے پہلے راشن نہ ختم ہوجائے۔زلزلہ زدگان کو یہ بھی معلوم ہوگیا ہے کہ اپنی جیب سے ایک کروڑ روپے سے زائد خرچ کرکے دو سو آدمیوں کو عمرے پر لے جانے والا اور پھر نیویارک روانہ ہونے والا صدرِ مملکت ان کا حال پوچھنے نہیں آیا۔یہ سب کچھ یہ بے خانماں تین ہفتے سے برداشت کررہے ہیں۔اور آج تو ویسے بھی سولہ نومبر ہے۔ آج بھی کوئی نہ کوئی کسی تھانے میں الٹا لٹکا ہوگا۔کسی قیدی کا کھانا بطور سزا روک لیا گیا ہوگا۔کچھ ڈاکو کسی گھر میں گھسنے کی تیاری کررہے ہوں گے۔کسی عورت کے پیچھے قاتل یا اغوا کرنے والے لگے ہوں گے۔سستے آٹے کی لمبی قطاروں میں کھڑے لوگوں اور دوکاندار کے درمیان گالم گلوچ ہورہی ہوگی۔کیونکہ ان میں سے کسی کو احساس تک نہ ہوگا کہ آج سولہ نومبر ہے۔ ہم کالے، گورے، بھورے، پیلے سب دعوی کرتے ہیں کہ ہمارا عقیدہ برداشت و رواداری و درگذر ہے۔لیکن جب کوئی ضرورت مند قریب آئے تو دس بار سوچتے ہیں کہ کہیں یہ فراڈ تو نہیں، پیشہ ور بھکاری تو نہیں، جھوٹا تو نہیں۔اور پھر ہم اپنا منہ پھیر لیتے ہیں۔لیکن جب ہمارے ہی لاکھوں روپے کسی کاروبار میں ڈوب جائیں یا کوئی لے اڑے تو ہم چپ چاپ صبر کرلیتے ہیں اور زیادہ نہیں سوچتے۔ ہم کسی کو ٹکر ماردیں تو توقع رکھتے ہیں کہ سامنے والا فوراً معاف کردے۔ اگر کوئی ہمیں ٹکر ماردے تو منہ سے جھاگ نکلنے شروع ہوجاتے ہیں۔ہم چاہتے ہیں کہ ہماری بے اعتدالیوں کو انسانی کمزوری سمجھ کر درگذر کردیا جائے۔لیکن یہ بھی چاہتے ہیں کہ ہمارے دوست ، ساتھی، ہمارے بچے اور عورتیں انسانی کمزوریوں سے ماورا ہوں۔وہ نہ تو ہمیں چیلنج کریں اور نہ ہی ہماری قوتِ برداشت کو آزمائیں۔ ہم بڑے بڑے خونی آمروں کو کتنی آسانی سے معاف کرکے بھول جاتےہیں لیکن اپنے بھائی اور ہمسائے کی خطا معاف کرکے بھی یاد رکھتے ہیں۔ تین سو چونسٹھ دن نہ سہی لیکن کم ازکم آج کے دن ہمیں اپنےگریبانوں میں جھانک لینا چاہئیے۔کیونکہ آج سولہ نومبر کا دن عالمی یومِ برداشت کے طور پر منایا جارہا ہے۔عدم برداشت صرف چند گھنٹے کے ہی تو فاصلے پر ہے۔سترہ نومبر دور ہی کتنا ہے۔ |
اسی بارے میں بلی خود گھنٹی باندھے!25 May, 2008 | قلم اور کالم مہلت نہیں رہی !15 June, 2008 | قلم اور کالم یادِ مسلسل کیسے ہو !22 June, 2008 | قلم اور کالم یہ معصوم ادائیں !29 June, 2008 | قلم اور کالم اب کیا حکم ہے !06 July, 2008 | قلم اور کالم بدنیتی کو تین طلاق !13 July, 2008 | قلم اور کالم مہنگا ترین ووٹ !20 July, 2008 | قلم اور کالم یہ کسے جوابدہ ہیں؟27 July, 2008 | قلم اور کالم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||