مہنگا ترین ووٹ ! | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سید یوسف رضا گیلانی نے وزیرِ اعظم بننے کے ایک سو بارہ دن بعد قوم سے پہلے براہ راست خطاب میں بہت سی باتوں کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہا کہ تیل اور خوراک کی قیمتوں میں اضافہ ایک عالمی رجحان ہے جو ہمارے بس سے باہر ہے۔ یہ بات خاصی حد تک درست ہے کہ تیل کی قیمت میں اضافہ صنعت و زراعت کی پیداواری لاگت میں اضافے کی شکل میں بلاآخر صارف کی جیب کو ہی نشانہ بناتا ہے۔ لیکن باقی دنیا اور پاکستان میں یہ فرق ہے کہ جب تیل عالمی مارکیٹ میں سستا بھی ہو جائے تو اس کا فائدہ پاکستانی صارف کو کبھی نہیں پہنچتا۔اور یہ بھی کوئی نہیں بتاتا کہ برطانیہ اور امریکہ کا صارف یہ تیل پاؤنڈ اور ڈالر میں خریدتا ہے اور پاکستانی صارف اتنا ہی مہنگا تیل روپے میں خریدتا ہے۔جبکہ دونوں طرح کے صارفین کی فی کس آمدنی میں زمین آسمان کا فرق ہے۔
اس کی صفائی کے اخراجات کیا ہیں اور کون کون سے اعلانیہ اور پوشیدہ ٹیکس اور کتنی سبسڈی شامل ہے اور یہ کہ قیمت کا تعین نجی تیل کمپنیوں کے رحم و کرم پر ہے یا اس میں حکومت بھی مداخلت کرتی ہے؟ اور اگر یہ کاروبار سراسر نقصان کا سودا ہے تو پھر پٹرولیم کی مصنوعات کو کنٹرول اور فروخت کرنے والے کس طرح اور کتنا مال بنا رہے ہیں کیا یہ سب جاننا صارف کا حق نہیں؟ چلیے تیل کو چھوڑئیے۔گیس پر آئیے۔پاکستان اپنی ضروریات کی زیادہ تر گیس خود پیدا کرتا ہے۔لیکن اس میں بھی کالے اور گورے کی تمیز واضح ہے۔ مثلاً بلوچستان کی سوئی گیس کی خام پیداوار کی قیمت سینتالیس روپے، سندھ کی گیس کی قیمت ڈیڑھ سوسے دو سو روپے اور پنجاب میں پیدا ہونے والی گیس کی قیمت سوا دو سو روپے فی ملین برٹش تھرمل یونٹ مقرر کی گئی ہے۔یہ کبھی نہیں بتایا جاتا کہ بلوچستان اور سندھ کا آخرکیا قصور ہے؟ اس وقت پاکستان کی پچاس فیصد سے زائدصنعتی توانائی مقامی گیس سے حاصل ہورہی ہے۔ سب سے زیادہ گیس کھاد کی صنعت استعمال کرتی ہے۔ کھاد کی زیادہ تر پیداوار سابق فوجیوں کے اداروں کے تحت قائم کارخانے فراہم کرتے ہیں۔ کھاد کے کارخانوں کو کمرشل اور گھریلو ریٹ سے انتہائی کم قیمت یعنی اوسطاً سات روپے فی کلو گرام کے حساب سے گیس ملتی ہے۔اس اعتبار سے تمام اخراجات جمع کرنے کے بعد کسان کو ڈی اے پی کھاد کی بوری زیادہ سے زیادہ ایک ہزار روپے میں ملنی چاہئیے۔
پاکستان اگرچہ ٹرانسپورٹ کے شعبے میں گیس یعنی سی این جی استعمال کرنے والا سب سے بڑا ملک سمجھا جاتا ہے۔ پھر بھی یہ شعبہ گیس کی کل پیداوار کا ایک فیصد سے کم استعمال کرتا ہے۔گیس اسٹیشن کو یہ سی این جی اوسطاً بائیس روپے فی کیلوگرام میں پڑتی ہے۔ جسے وہ صارف کو اڑتالیس روپے فی کیلوگرام میں فروخت کررہا ہے۔ تو کیا سارا منافع صرف نجی شعبے کی جیب میں جا رہا ہے؟ پاکستان کہنے کو سیمنٹ میں خودکفیل ہے لیکن پچھلے چھ ماہ کے دوران پچاس کیلوگرام سیمنٹ کی بوری ڈھائی سو روپے سے جست لگا کر چار سو روپے کو چھو رہی ہے۔ کیونکہ پچھلے ایک برس میں سیمنٹ کی بیرونِ ملک برآمد میں ایک سو بیاسی فیصد اضافہ ہوگیا ہے۔ان حالات میں صنعت کار مقامی منڈی میں سستا سیمنٹ کیوں بیچے؟ اسی طرح نئی درآمدی پالیسی کے تحت بھارت کے ساتھ تجارت کو خاصا آزاد کردیا گیا ہے۔تاہم اس فہرست میں جان بچانے والی ان ادویات کو شامل نہیں کیا گیاجو پاکستان کے مقابلے میں بھارت سے آدھی قیمت پر مل سکتی ہیں۔ بلکہ حکومت تو پاکستان میں بننے والی دواؤں کی قیمت میں چالیس فیصد اضافے پر سنجیدگی سے غور کررہی ہے۔ ثابت یہ ہوا کہ عوام نے اٹھارہ فروری کو جو ووٹ دیا وہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے قیمتی اور مہنگا ووٹ بن گیا ہے! | اسی بارے میں ’ججوں کی بحالی پر خوشخبری جلد‘19 July, 2008 | پاکستان بدنیتی کو تین طلاق !13 July, 2008 | قلم اور کالم اب کیا حکم ہے !06 July, 2008 | قلم اور کالم یہ معصوم ادائیں !29 June, 2008 | قلم اور کالم یادِ مسلسل کیسے ہو !22 June, 2008 | قلم اور کالم بلی خود گھنٹی باندھے!25 May, 2008 | قلم اور کالم ماں کا دن!11 May, 2008 | قلم اور کالم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||