 | | | عالی جناب کے کان میں بس یہی صدا آتی ہو کہ عوام اسے پوجنے کی حدتک چاہتے ہیں۔ |
وہ ایک نہایت گرم دوپہر تھی جب میں کراچی کے ایم اے جناح روڈ پر چلے چلا جارہا تھا۔اچانک ایک پجیرو رکی اور ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا شخص گاڑی کا شیشہ اتارتے ہوئے چیخا ’سائیں اس گرمی میں پسینے پسینے کہاں جارہے ہو۔آؤ میں تمھیں ڈراپ کردوں‘۔ مجھے اپنے اس متمول سابقہ کلاس فیلو کو پہچاننے میں ایک منٹ لگا۔ جیسے ہی میں پجیرو میں بیٹھا اور ایر کنڈیشنر نے ذرا اوسان بحال کیے تو رنگدار شیشوں سے باہر دیکھتے ہوئے یوں لگا جیسے دھوپ غائب ہوگئی ہو۔ موسم اچانک خوشگوار ہوگیا ہو۔ زندگی کے مسائل آدھے رہ گئے ہوں۔ کچھ دیر بعد میری منزل آ گئی۔ تیز دھوپ پھر چبھنے لگی۔ پسینے نے پھر بہنا شروع کردیااور دنیا پھر بری لگنے لگی۔ جب دس منٹ کا پجیرو کا سفر میرے ہوش و حواس کے ساتھ کھیل سکتا ہے تو سوچیئے اس عالی جناب کا کیا ہوتا ہوگا جس کی گاڑی اور محل کا ایرکنڈیشنر کبھی بند ہی نہیں ہوتا۔ جس کے لئے طیارے اور ہیلی کاپٹر کا انجن ہروقت گرم رہتا ہے۔ جو محافظ گاڑیوں کے چیختے سائرن کے بغیر سفر کا تصور نہیں کرسکتا۔ جسے بس یہ معلوم ہے کہ ٹریفک لائٹ کا رنگ صرف سبز ہوتا ہے۔ جو رات کے تین بجے ناممکن سی فرمائش بھی کرے تو پوری ہوجاتی ہے۔ جس کے ایک دستخط سے کوئی زندگی پا سکتا ہو یا پھندے پر جھول سکتا ہو۔ جس کے کان میں بس یہی صدا آتی ہو کہ عوام اسے پوجنے کی حدتک چاہتے ہیں۔ جو صرف وہی اخباری سرخیاں پڑھتا ہو جنہیں اسکے پرسنل سٹاف نے مارکر سے پیلا کیا ہوا ہو۔ جسے کبھی کبھی عوام کے ہجوم سے ملوانے کی نوٹنکی ایسے کی جائے کہ ہجوم میں شامل ہر فرد کی پیشگی سکریننگ اور بریفنگ کی گئی ہو تاکہ کسی کے منہ سے ایسی ویسی بات نہ نکل جائے جس سے عالی جناب کی تیوری پر بل پڑ جائیں۔ پھر ایک روز عالی جناب کو اچانک بتایا جاتا ہے کہ سر آپ کو یہ محل چھوڑنا پڑے گا۔ سر آپ حفاظتی تحویل میں رہیں گے یا بیرونِ ملک جانا پسند کریں گے؟ سر لوگ اب آپ کا سر مانگ رہے ہیں۔ یہ سن کر عالی جناب سکتے میں آجاتے ہیں۔ انکی باقی زندگی ان سوالوں کا جواب ڈھونڈنے میں بسر ہوجاتی ہے کہ میں نے تو دن رات اس ملک و قوم کے لئے وقف کردیئے پھر یہ احسان فراموشی کیوں ہورہی ہے۔میں نے کیا غلطی کی۔مجھے کسی نے خبردار کیوں نہیں کیا۔ میرے دوستوں کو کیا ہوا۔انہوں نے کیوں اچانک آنکھیں پھیر لیں۔ مجھے سب کچھ پہلے کیوں محسوس نہیں ہوا وغیرہ وغیرہ وغیرہ۔ اشیاء کا سحر آدمی کو لولا، بہرا اور اندھا کردیتا ہے۔ حقائق کے برعکس وہ اپنی حقیقتیں خود تراشتا ہے اور پھر ایک دن اس پر آشکار ہوتا ہے کہ چلچلاتی دھوپ ہی اصل حقیقت ہے۔ یقین نہ آئے تو پچھلے پانچ ہزار برس کے کسی بھی آمر کا احوال پڑھ لیجئے۔ رسولِ خدا نے یونہی یہ دعا نہیں مانگی تھی کہ اے میرے رب مجھے اشیاء کے سحر سے محفوظ رکھ۔ |