بارودی وزیٹنگ کارڈ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسلام آباد بم دھماکے کو وفاقی وزیرِ قانون فاروق نائیک نے پاکستان کا نائن الیون قرار دیا ہے کیونکہ اس دھماکے سے ان کے گھر کی دیوار کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ بیس ستمبر دیسی نائن الیون ہو نہ ہو لیکن اسلام آباد کے لئے آٹھ اکتوبر ضرور ہے جب سن دو ہزار پانچ میں شدید زلزلے کے سبب مارگلہ ٹاورز نامی ایک رہائشی بلاک زمیں بوس ہوگیا تھا۔ مقامی اور غیرملکی میڈیا یہی سمجھتا رہا کہ زلزلے میں سب سے زیادہ تباہی اسلام آباد میں ہی آئی ہے۔ تمام کیمروں کا رخ مارگلہ ٹاورز کی طرف تھا۔اگلےچوبیس گھنٹے تک کسی کے ذہن میں نہیں آیا کہ زلزلے کا دائرہ کتنا وسیع ہے اور مارگلہ ٹاورز اس تباہی کی محض ایک معمولی جھلک ہے۔ زلزلے کے بعد جب سینکڑوں دیگر صحافیوں کی طرح میں بھی المناکی کے پرزے جمع کرکے متاثرہ علاقوں کی ایک مڑی تڑی تصویر جوڑنے کی کوشش کررہا تھا تو مجھے یہ بات بہت کھلتی تھی کہ ہر متاثرہ شخص یہی سمجھ رہا ہے کہ سب سے زیادہ تباہی اس کے گاؤں میں ہوئی ہے اور سب سے زیادہ مدد اس کے خاندان کو چاہئیے۔ جب ان متاثرہ لوگوں کو بتایا جاتا کہ آپ سے صرف دس میل دور ایک پورا علاقہ صفحۂ ہستی سے مٹ گیا ہے، وہاں کوئی زندہ نہیں بچا تو متاثرہ آدمی پہلے تو مجھے گھور کر دیکھتا تھا جیسے میں کوئی سفاک اور سفید جھوٹا ہوں، پھر وہ لاتعلقی کے لہجے میں کہتا کہ ٹھیک ہے جی وہاں بھی تباہی ہوئی ہوگی، لیکن میرے گاؤں اور گھر پر جو قیامت گزری ہے اس کا آپ تصور نہیں کرسکتے۔
میں اور میری طرح اسلام آباد میں موجود لاکھوں لوگ اپنے گھروں میں بیس انچ کی سکرین پر نظر آنے والی دہشت گردی کوکل شام آٹھ بجے سے پہلے تک کسی ہالی وڈ تھرلر سے زیادہ اہمیت دینے کو تیار نہیں تھے۔کیونکہ اس وقت تک پیروں تلے زمین نہیں ہلی تھی۔ لگتا تھا کہ قبائلی علاقوں اور صوبہ سرحد کے مختلف مقامات پر روزانہ پچاس سےساٹھ شرپسند صرف ٹی وی چینل کی خبری پٹی کےاندر ہی مرتےہیں۔ لگتا تھا کہ باجوڑ، سوات اور وزیرستان کے ڈھائی سے تین لاکھ اجڑے لوگ وینزویلا میں رہتے ہیں۔ کرم ایجنسی کے سال بھر سے محصور مکین ایک معمولی پین کِلر کی نایابی سے نہیں بلکہ بدہضمی کے سبب ہلاک ہو رہے ہیں۔ قبائلی علاقوں میں فوج اور نیم فوجی دستوں کے بیسیوں یرغمالی سپاہی طالبان کی نہیں بلکہ کسی ہندوستانی فلم کے ولن کی قید میں ہیں۔ اب ایسا لگ رہا ہے کہ یہ دہشت گردی ڈیڑھ گھنٹے کی کوئی کمرشل تھیئٹر پرفارمنس نہیں بلکہ سفاک حقیقت ہے۔ مگرطالبان ہوں یا طالبان کا قلع قمع کرنے والے۔ دونوں کی کوشش ہے کہ پاکستانی لوگ تصویر کا صرف وہی رخ دیکھیں جو وہ دکھانا چاہتے ہیں۔ پوری تصویر سامنے آگئی تو کوئی ایک ننگا نظر آئے گا۔ شاید اسی لئے امریکہ پر جو نائن الیون ایک ساتھ نازل ہوا تھا، پاکستان پر وہ نائن الیون ٹکڑوں میں اتر رہا ہے۔ لیکن فکر کی کوئی بات نہیں۔اگلے سات آٹھ روز میں سب ٹھیک ہوجائے گا اور ہم حسبِ معمول پہلے کی طرح سوچنا شروع کریں گے۔ خدا کا شکر ہے میں بچ گیا۔ خدا کا شکر ہے میرے جاننے والوں کو خراش نہیں آئی۔ خدا کا شکر ہے کہ میرا گھر اس دفعہ بھی محفوظ رہا۔ ہم سوچتے رہیں گے اور اسی طرح سوچتے رہیں گے جب تک کوئی تازہ خودکش بمبار ایک اور بارودی وزیٹنگ کارڈ ہماری دہلیز پر نہیں چھوڑ دیتا۔ |
اسی بارے میں اپنا اپنا پاکستان !17 August, 2008 | قلم اور کالم جنازے میں آئیں نا !03 August, 2008 | قلم اور کالم زرداری کی چھ گیندیں27 April, 2008 | قلم اور کالم بلی خود گھنٹی باندھے!25 May, 2008 | قلم اور کالم یادِ مسلسل کیسے ہو !22 June, 2008 | قلم اور کالم بدنیتی کو تین طلاق !13 July, 2008 | قلم اور کالم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||