BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 12 February, 2008, 15:09 GMT 20:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
منشوروں کی بہار

بینظیر بھٹو
پیپلز پارٹی کو پرانے نعرے جھاڑ پونچھ کر پیش کرنے کی ضرورت پڑ گئی
ایک زمانہ تھا سیاسی جماعتیں منشور پر سنجیدگی سے کام کرتی تھیں اور ووٹر بھی بیلٹ پرچی پر ٹک کرتے ہوئے شخصی خصوصیات کے ساتھ ساتھ پارٹی پروگرام کے بارے میں سوچتا تھا۔

لیکن پچھلے کئی برس سے یہ دیکھنے میں آ رہا ہے کہ نہ تو ووٹر کو یہ تاکنے سے دلچسپی ہے کہ پچھلے منشور پر کتنا عمل ہوا نہ کسی کو یہ غور کرنے کی فرصت ہے کہ آسمان سے تارے توڑنے کا وعدہ نبھے گا ۔ بس یہ دیکھا جاتا ہے کہ کونسا امیدوار کس برادری یا سیاستدان کی طرف سے لڑ رھا ہے ۔

چنانچہ ووٹر کی طرح سیاسی جماعتوں نے بھی اپنے ہی منشور کو خاطر میں لانا چھوڑ دیا ہے۔ اب زیادہ تر سیاسی جماعتیں محض اس لیے منشور کے نام پر ایک کتابچہ شائع کردیتی ہیں گویا یہ بھی ایک انتخابی رسم ہے۔

مزے کی بات یہ ہے کہ جس جماعت کا جتنا بڑا ووٹ بینک ہے اس کا منشور اتنا ہی محتاط اور پھیکا ہے۔اور جو جماعت جتنی چھوٹی ہے منشور کی حد تک اتنی ہی انقلابی اور ریڈیکل بھی ہے۔

نواز شریف اور لاپتہ افراد
 میاں نواز شریف نے حال ہی میں گمشدہ لوگوں اور ایجنسیوں کی تحویل میں افراد کے اہلِ خانہ کو آبدیدہ آنکھوں کے ساتھ یقین دلایا ہے کہ وہ تب تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک ایک ایک لاپتہ فرد بازیاب نہیں ہوجاتا، تاہم منشور میں ایجنسیوں کے اندرونِ ملک کردار کو محدود کرنے کے سلسلے میں کوئی واضح بات نظر نہیں آتی

مثلاً عوامی نیشنل پارٹی کو ہی لیجیے جس نے واضح طور پر فوجی اخراجات میں کٹوتی، ہر شہری کے لیے لازمی فوجی خدمت، زمینی اصلاحات کے ذریعے حدِ ملکیت فی خاندان پچاس ایکڑ تک محدود کرنے اور بے زمین کسانوں میں تقسیمِ اراضی کی انقلابی باتیں کی ہیں۔

اس کے علاوہ زیادہ سے زیادہ صوبائی خود مختاری، قومیتی ثقافت اور زبانوں کے فروغ ، شہریوں کی نجی زندگی میں سرکاری ایجنسیوں کی مداخلت اور خواتین کے خلاف تمام امتیازی قوانین کے خاتمے اور انسانی حقوق کے مکمل احترام کی بھی بات کی گئی ہے۔ بشرطیکہ پارٹی کو اتنی اکثریت مل جائے کہ وہ ان تمام وعدوں کو نبھا سکے۔

گویا نہ نو من تیل ہوگا نہ رادھا ناچے گی۔اس صورتحال میں اے این پی جتنا ریڈیکل ہونا چاہے شوق سے ہو سکتی ہے۔

اسی طرح ایم کیو ایم بھی جس کا اثر سندھ کے شہری علاقوں تک ہے۔ یہ وعدہ کرنے کی متحمل ہے کہ برسراقتدار آ کر جاگیرداری کا خاتمہ کردیا جائے گا، زراعت پر مبنی صنعتوں کو ترجیح دی جائے گی، اختیارات کی زیادہ سے زیادہ تقسیم کو یقینی بنایا جائے گا، ابتدائی تعلیم لازمی ہوگی، دینی مدارس میں اصلاحات اور سیاسی آمریت کی حوصلہ شکنی کی جائے گی۔

(اس آخری وعدے کا کیا مطلب ہے اور کیا اس کا اطلاق خود ایم کیو ایم کے ڈھانچے پر بھی ہوگا۔اس بارے میں منشور خاموش ہے)۔

لیکن جو جماعتیں اقتدار کے مزے لوٹ چکی ہیں یا لوٹیں گی ان کے منشوروں پر اگر نگاہ ڈالی جائے تو فرق کا احساس بس اتنا ہی ہوتا ہے جتنا پیپسی پینے والے کو کوک پی کر ہو سکتا ہے۔

پچھلے منشور پر کتنا عمل ہوا، کوئی ذکر نہیں

مثلاً پاکستان پیپلز پارٹی جس نے ذوالفقار علی بھٹو کے ریڈیکل دور کے بعد سیاسی عملیت پسندی کو اپنا وطیرہ بنا لیا تھا، لگتا ہے کہ دوبارہ اسے پرانے نعرے جھاڑ پونچھ کر پیش کرنے کی ضرورت پڑ گئی ہے کیونکہ غربت کی شرح بڑھنے کے بعد کہانی پھر روٹی کپڑے مکان تک پہنچ گئی ہے۔

اس تناظر میں پیپلز پارٹی نے پرانے نعرے کو قلعی کر کے اب یہ نعرہ اپنایا ہے کہ علم ( ایجوکیشن) روشنی ( انرجی) سب کو کام ( ایمپلائمنٹ) ، روٹی کپڑا اور مکان، مانگ رہا ہے ہر انسان۔

پیپلز پارٹی کے منشور میں دھشت گردی و انتہا پسندی سے لڑنے کی بات کی گئی ہے اور اسلامی سوشلزم کے متروک نعرے کی جگہ واضح طور پر ریاست اور مذہب کے علیحدہ علیحدہ کردار کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے، جو آج کل کے حالات میں ایک اہم بات معلوم ہوتی ہے۔

معیشت کو آگے بڑھانے کے لیے پرائیویٹ پبلک پارٹنر شپ کی بات اور تعلیم، صحت اور انفراسٹرکچر کی ترقی میں سرکاری سیکٹر کی اہمیت کو بھی تسلیم کیا گیا ہے۔ زرعی ٹیوب ویلوں کے لیے اضافی بجلی کی مفت فراہمی کا بھی وعدہ کیا گیا ہے۔ لیکن لوڈ شیڈنگ کے بحران میں اضافی بجلی کب اور کیسے آئے گی۔اس بارے میں کوئی وضاحت نہیں ہے۔

متوسط طبقہ کے لیے، جس کی دسترس سے مکان و زمین نکل چکے ہیں، ہاؤسنگ سکیموں کی بات کی گئی ہے۔ لیکن انتہائی غریب طبقات جو کل آبادی کا ایک تہائی ہیں ان کے سر چھپانے کا سستا اور پائیدار انتظام کیسے ممکن ہوگا۔ منشور اس پر کوئی خاص روشنی نہیں ڈالتا۔

البتہ بےگھر اور غریب بچوں کی تعلیم کے لیے اقامتی سکولوں کے قیام اور خواتین کی شرح تعلیم میں اضافے کی بات ضرور کی گئی ہے۔ سڑکوں، ہاؤسنگ اور پارکوں یا پلے گراؤنڈز کی منصوبہ بندی کے لیے ہیومن سیٹلمنٹ کمیشن بنایا جائے گا۔ لیکن اس کمیشن کے ہوتے ہوئے شہری ترقی اور پلاننگ کے موجودہ اداروں کا کیا کام رہ جائے گا، منشور خاموش ہے۔

اے این پی کا انقلابی منشور
 عوامی نیشنل پارٹی کو ہی لیجیے جس نے واضح طور پر فوجی اخراجات میں کٹوتی، ہر شہری کے لیے لازمی فوجی خدمت، زمینی اصلاحات کے ذریعے حدِ ملکیت فی خاندان پچاس ایکڑ تک محدود کرنے اور بے زمین کسانوں میں تقسیمِ اراضی کی انقلابی باتیں کی ہیں

کہا جاتا ہے کہ ترقیاتی بجٹ میں اضافے کی راہ میں ایک بہت بڑی رکاوٹ حکومتی ڈھانچے اور فوج کا حجم ہے۔ ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت ہونے کے ناطے پیپلز پارٹی سے یہ توقع بجا ہے کہ اس بارے میں اس کا کوئی واضح موقف ہو۔تاہم ایسا نہیں ہے۔

منشور میں فوج کو مستحکم کرنے کا عزم کیا گیا ہے۔ محض اتنا کہا گیا ہے کہ دفاعی بجٹ بھی پارلیمنٹ میں زیرِ بحث آنا چاہئے۔ منشور میں پارلیمنٹ کی خودمختاری کی بحالی کے ضمن میں موجودہ نیشنل سکیورٹی کونسل کے خاتمے اور سیاسی و قومی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے جنوبی افریقہ کی طرز پر ایک سچائی و مصالحتی کمیشن کے قیام کی بات کی گئی ہے۔

دیکھنے کی بات یہ ہوگی کہ اس کمیشن کے سامنے کون کون پیش ہونے اور اعترافِ گناہ کی ہمت دکھاتا ہے۔

پاکستان کا اس وقت امریکہ کی جانب بوجوہ بے پناہ جھکاؤ ہے۔ کیا پیپلز پارٹی کی حکومت موجودہ خارجہ پالیسی میں کچھ تبدیلیاں مناسب سمجھے گی یا نہیں۔ منشور خاموش ہے۔

پیپلز پارٹی کے بعد انتخابی طور پر اہم سمجھی جانے والی مسلم لیگ (ن) نے غربت کے خاتمے، معاشی ترقی، اچھی انتظامیہ، سماجی مساوات اور فروغِ جمہوریت کے لیے اکیس نکاتی پروگرام پیش کیا ہے۔ جس میں عدلیہ کی مکمل آزادی و خود مختاری کا وعدہ کیا گیا ہے۔ اس وعدے سے انحراف کی گنجائش کو ختم کرنے کے لیے تمام انتخابی امیدواروں سے حلف لیا گیا ہے۔

نوکر شاہی میں من مانی تقرریوں کی حوصلہ شکنی، سرکاری افسران کے لیے تحفظِ ملازمت تاکہ وہ بلا خوف و خطر اپنے فرائضِ منصبی انجام دے سکیں۔ قومی احتساب بیورو ( نیب) اور قومی سلامتی کونسل کے خاتمے کا وعدہ کیا گیا ہے۔اقلیتوں کو سیاسی و سماجی دھارے میں لانے کی بات کی گئی ہے۔ لیکن اس مقصد کے حصول کے لیے کیا اقلیتوں کے بارے میں نافذ امتیازی قوانین کے خاتمے کی بھی کوشش کی جائے گی۔ مسلم لیگ (ن) کا منشور چپ ہے۔

گو میاں نواز شریف نے حال ہی میں گمشدہ لوگوں اور ایجنسیوں کی تحویل میں افراد کے اہلِ خانہ کو آبدیدہ آنکھوں کے ساتھ یقین دلایا ہے کہ وہ تب تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک ایک ایک لاپتہ فرد بازیاب نہیں ہوجاتا، تاہم منشور میں ایجنسیوں کے اندرونِ ملک کردار کو محدود کرنے کے سلسلے میں کوئی واضح بات نظر نہیں آتی۔

دھشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف جدوجہد کی بات تو کی گئی ہے۔ لیکن اس ضمن میں بلوچستان اور وزیرستان کے بارے میں موجودہ حکومتی پالیسی کا متبادل کیا ہوسکتا ہے، اس کا بھی منشور سے پتہ نہیں چلتا۔

موجودہ خارجہ پالیسی پر بھی کسی خاص تحفظ کا اظہار نہیں کیا گیا بس یہ کہا گیا ہے کہ بھارت کے ساتھ قیامِ امن کے عمل کو آگے بڑھایا جائے گا۔ مبصرین کو توقع تھی کہ نواز شریف جس چارٹر آف ڈیموکریسی کی بات کرتے ہیں اسے جوں کا توں منشور کا حصہ بنایا جائے گا، لیکن ایسا بوجوہ نہ ہوسکا۔

ایم کیو ایم کا اثر سندھ کے شہروں تک محدود ہے

اگر سابق حکمراں جماعت مسلم لیگ (ق) کے منشور کو دیکھا جائے تو اس میں تعلیم کے ترجیحی فروغ ، غربت کے خاتمے کے اقدامات، خواتین کو مزید حقوق دلوانے، نوجوانوں کو آگے بڑھنے کے مواقع دینے، پانی کے نئے ذخائر اور ڈیموں کی تعمیر، غریبوں کو روزمرہ غذائی اشیاء کی فراہمی اور ملک کو خوراک کے بحران سے محفوظ رکھنے کے لیے فوڈ سیفٹی کمیشن کی تشکیل اور معذوروں کے مسائل پر توجہ مرکوز کرنے کے لے ایک علیحدہ وزارت کی تشکیل کی بات کی گئی ہے۔ (گویا پہلے سے جتنی وزارتیں قائم ہیں انہوں نے اپنے مسائل حل کر لیے ہیں) ۔

مسلم لیگ (ق) نے جمہوریت، ترقی، اختیارات کی تقسیم، قومی ہم آہنگی اور مستحکم دفاع کو اپنے منشور کا محور بنایا ہے۔ تاہم ایسا کوئی خاص حوالہ نہیں کہ پانچ برس قبل اس ضمن میں مسلم لیگ (ق) نے جو منشور دیا تھا اس پر کتنا عملدرآمد ہو پایا ہے۔

خارجہ پالیسی کے ضمن میں ایران کے پرامن جوہری پروگرام کی حمایت اور عراق میں غیر ملکی مداخلت کی مخالفت کی گئی ہے۔ لیکن افغانستان اور پاکستان میں غیر ملکی مداخلت پر مسلم لیگ (ق) کیا سوچ رکھتی ہے، اس کا اندازہ منشور سے نہیں ہوتا۔

البتہ دھشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے مسلم لیگ (ق) کے منشور میں ایک ایسی دلچسپ تجویز ہے جو کسی اور پارٹی منشور میں نہیں ملتی یعنی صوفی تعلیمات کا فروغ۔ آیا یہ تعلیمات مزاروں اور مدارس کے ذریعے عام کی جائیں گی یا بزرگانِ دین کے عرس کے دنوں کا سہارا لیا جائے گا یا تعلیمی نصاب میں متعارف کروائی جائیں گی یا کوئی ایسی فضا قائم کرنے کی کوشش ہوگی کہ مذہبی شدت پسند بارودی جیکٹ پہننے کی بجائے چوغہ پہننے، کلاشنکوف پکڑنے کے بجائے مالا جپنے اور شدت پسندانہ نعرے لگانے کی بجائے دھمال کھیلنے کا وطیرہ اپنا لیں۔

شجاعت کی روحانی جمہوریت
 گزشتہ دنوں مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین کا ایک انگریزی مضمون بھی شائع ہوا تھا، جس میں روحانی جمہوریت کی اصطلاح استعمال کی گئی تھی۔اس سے مراد کیا ہے اور اس کا نفاذ کیسے ہوگا، اس کے لیے انتظار کریں مسلم لیگ (ق) کے دوبارہ اقتدار میں آنے کا

گزشتہ دنوں مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین کا ایک انگریزی مضمون بھی شائع ہوا تھا، جس میں روحانی جمہوریت کی اصطلاح استعمال کی گئی تھی۔اس سے مراد کیا ہے اور اس کا نفاذ کیسے ہوگا، اس کے لیے انتظار کریں مسلم لیگ (ق) کے دوبارہ اقتدار میں آنے کا۔

انتخابات میں حصہ لینے والی مذہبی جماعتوں میں قابلِ ذکر مولانا فضل الرحمان کی جمیعت علمائے اسلام ہے، جس کا منشور صرف ایک اصطلاح میں سما سکتا ہے۔ نفاذِ شریعت ؟؟؟؟؟؟؟

تاہم جماعتِ اسلامی، تحریکِ انصاف، پختون خواہ ملی عوامی پارٹی اور بلوچ قوم پرست جماعتوں کی جانب سے انتخابات کے بائیکاٹ کے سبب قوم کچھ دلچسپ اور ریڈیکل منشوروں سے محروم ہوگئی ہے۔

اسفندیار ولیروشن خیال، پرامن
عوامی نیشنل پارٹی کا منشور
اختیارات سب کیلیے
ایم کیو ایم کا سترہ نکاتی انتخابی منشور
اسی بارے میں
مسلم لیگ منشور: ججز کی بحالی
14 December, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد