احتیاط پسند بہروپیئے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اب سے بیس پچیس برس پہلے تک شہروں اور قصبات میں بہروپیئے کا کردار عام پایا جاتا تھا۔ کبھی یہ بروکیڈ کی دوپلی ٹوپی اور چمکدار انگرکھا زیبِ تن کیئے چوڑی دار پاجامہ اور سلیم شاہی جوتی پہنے ہاتھ میں تلوار لیئے بازاروں میں اپنی انارکلی ڈھونڈتا ہوا شہنشاہ جلال الدین اکبر کو سخت سست کہتا دکھائی دیتا تھا۔ اور کبھی کبھی غصے میں آکر تلوار لہراتا ہوا بچوں کے پیچھے بھاگتا تھا۔ بچے ہنستے، قہقہے لگاتے، پرے پرے ہوجاتے اور پھر شہزادہ سلیم کے پیچھے پیچھے تالیاں بجاتے اور فقرے کستے ہوئے چل پڑتے تھے۔ کسی دن یہ شخص مجنوں بن کے نمودار ہوتا تھا۔ پھٹے پرانے کپڑے، بکھرے بال، جسم سرخ رنگ سے لہولہان۔ ہاتھ میں پتھر۔ یہ مجنوں ذرا ذرا سی دیر بعد لوگوں پر پتھر لے کر لپکتا تھا اور کچھ ناواقف لوگ واقعی ڈر بھی جاتے تھے اور اپنا سر بچاتے تھے۔ واقف لوگ بہروپیئے سے زیادہ ان ناواقفوں کی حرکات سے محظوظ ہوتے تھے۔ پھر کئی مرتبہ یہ کردار چہرے پر بن مانس یا ڈریکولا کا ماسک پہنے ہاتھ میں خنجر لیئے ظاہر ہوتا تھا اور عجیب و غریب آوازیں نکالتا ہوا راہگیروں کی طرف بڑھتا تھا۔ اور جب اپنی ہی حرکتوں سے تھک جاتا تو ماسک اتار کر ایک ایک کے پاس جاتا تھا اور یوں اسے کچھ پیسے مل جاتے تھے۔ یہ کردار سرکس میں بھی پایا جاتا تھا۔ ابھی وہ منہ پر عجیب و غریب پینٹ اور پلاسٹک کی سرخ موٹی سی ناک لگائے بچوں کو ہنسا رہا ہے تو کچھ دیر بعد ایسا کردار بنا ہوا ہے جس کا سر انسان کا اور دھڑ شیر کا ہے۔اور جب اصل سرکس شو شروع ہوا تو یہی شخص چست لباس پہلے جمناسٹک کے کرتب دکھا رہا ہے۔ زمانہ اور لوگوں کا رحجان بدلا تو بہروپیئے نے بھی خود کو بدلا۔ جو شہزادہ سلیم کل تک سڑک پر انارکلی ڈھونڈتا تھا، آج یہی کام بڑے شہروں کے اوپن ایئر ریستورانوں میں ایک ایک ٹیبل پر جاکر کرتا ہے اور کچھ پیسے کما لیتا ہے۔ یا کچھ بڑے بڑے ڈپارٹمنٹل سٹورز میں مکی ماؤس اور پنک پینتھر کا روپ دھارے بچوں کا دل بہلاتا ہے۔
لیکن یہ تو گنتی بھر بہروپئیے ہیں جنہیں روزگار مل گیا۔ باقی کہاں گئے۔ کیا یہ فن بھی کچھ دیگر فنون کی طرح معدوم ہورہا ہے۔ مگر چھبیس اگست کو نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت سے لے کر آج تک جو کچھ دیکھنے، سننے اور پڑھنے میں آرہا ہے اس سے مجھے خاصا حوصلہ ملا۔ یہ فن معدوم نہیں ہوا بلکہ پارلیمینٹ کے اندر اور باہر کی سرگرمیوں، اخباری اداریوں، مضامین اور کالموں کا مطالعہ کرنے اور ٹی وی چینلز پر بیانات اور ٹاک شوز دیکھنے سے معلوم ہوا کہ ان شعبوں نے روپ دھاری پوشاک بدل فنکاروں کا نہ صرف روزگار بچایا ہے بلکہ لوگوں کو محظوظ کرنے کے فن میں ندرتیں اور نکھار پیدا کرنے کا بھی سنہری موقع فراہم کیا ہے۔ بہروپئیا بننے کا فن شاید اس لیئے زوال پذیر نہیں ہوسکتا کیونکہ وہ روپ بدلنے کے باوجود کھیل کے قواعد کبھی نہیں توڑتا۔ اسے اچھی طرح معلوم ہے کہ شہزادہ سلیم بن کر بھی مغلِ اعظم کو ایک حد سے زیادہ برا بھلا نہیں کہنا۔ مجنوں بننے کے باوجود کسی کے سر پر پتھر نہیں دےمارنا۔ بن مانس کا ماسک پہن کر خنجر لہرانے کے باوجود تماشائیوں سے ایک ضروری فاصلہ برقرار رکھنا ہے اور سرکس میں قلابازیاں اس احتیاط سے لگانی ہیں کہ اپنی ہڈیاں بھی محفوظ رہیں اور رنگ ماسٹر کا بھی نقصان نہ ہو۔ |
اسی بارے میں بھیڑیوں کو مرنے دو11 June, 2006 | قلم اور کالم نصف شب کی دستک18 June, 2006 | قلم اور کالم دور اندیش ہٹ دھرمی25 June, 2006 | قلم اور کالم غزہ کی چھ سالہ این فرینک کا نوحہ09 July, 2006 | قلم اور کالم آخری کیل16 July, 2006 | قلم اور کالم ’ڈیڈ لائن ختم ہونے سے پہلے‘01 August, 2006 | قلم اور کالم دو رخا ہونے کے فوائد09 April, 2006 | قلم اور کالم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||