BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 03 September, 2006, 10:36 GMT 15:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ڈرائیور اور طیارہ

مغلوں تک میں باقاعدہ تنخواہ دار لاکھوں کی فوج رکھنے کا کوئی تصور نہیں تھا
سلطنتِ بابل سے لے کر ہندوستان کے مغلوں تک باقاعدہ تنخواہ دار لاکھوں کی فوج رکھنے کا کوئی تصور نہیں تھا۔ منصب دار بوقت ضرورت بادشاہ کو تربیت یافتہ جزوقتی جنگجو فراہم کرکے دیتے تھے اور ان جنگجوؤں کے لیئے سب سے بڑی کشش مال غنیمت میں حصہ داری ہوا کرتی تھی۔

جب جدید قومی ریاستوں کی تشکیل شروع ہوئی تو باقاعدہ تنخواہ دار فوج رکھنے کی ضرورت بھی محسوس ہوئی۔ لیکن یہ اصول اپنی جگہ برقرار رہا کہ انہیں شہروں سے دور چھاؤنیوں میں بسایا جائے تاکہ شہریوں سے گھلنے ملنے کے سبب ان کا ڈسپلن اور پیشہ ورانہ صلاحیت متاثر نہ ہو اور وہ شہری آسائشوں کی طلب میں پڑ کر حکم بجا لانے اور دشمن سے بے جگری سے لڑنے کی صلاحیت نہ کھو بیٹھیں۔

لیکن جن جن ریاستوں میں یہ اصول توڑا گیا وہ پھر کہیں کی نہ رہیں۔

کسی بھی ادارے کو ایسے معاملات میں الجھا دینا یا الجھنے کی اجازت دینا جن کا اسے پوری طرح ادراک نہ ہو دراصل بیل کو شیش محل میں مدعو کرنے کے برابر ہے۔

ایک فوجی کو یہ بات سکھائی جاتی ہے کہ اسے اپنے افسر کے احکامات پر بغیر سوال کیئے مرتے دم تک عمل کرنا ہے۔ جبکہ ایک جرنیل اپنی پینتیس، چالیس برس کی پیشہ ورانہ زندگی صرف اس تکون میں گزارتا ہے کہ پہلے دشمن کی شناخت کرو، پھر اسے تباہ کرنے کی سٹریٹجی تشکیل دو اور پھر اس پر پوری طاقت سے عمل کرکے مطلوبہ ہدف حاصل کرو۔

اس ذہنی تشکیل کے ساتھ جب ایک جرنیل ایک اجنبی شعبے میں داخل ہوتا ہے تو کیا ہوتا ہے۔

ایوب خان نے سیاستدانوں کو بطور دشمن شناخت کیا۔ سن باسٹھ کے آئین اور بنیادی جمہوریتوں کے نظام کے تحت ان سے نمٹنے کی سٹریٹجی اپنائی اور جو ایکشن لیا اس کے نتیجے میں متحدہ ہندوستان سے ورثے میں ملی ہوئی سو سالہ سیاسی رواداری اور معاملہ فہمی کی روایت تباہ ہوگئی۔

مشرف
مشرف نے دو ملک گیر جماعتوں کو دشمن تصور کیا

یحیٰی خان نے مشرقی پاکستان کے قوم پرستوں کو دشمن کے طور پر شناخت کیا۔فوجی طاقت کے ذریعے قوم پرستی سے نمٹنے کی حکمتِ عملی بنائی اور ایکشن کے نتیجے میں وفاقی ڈھانچہ تباہ کردیا۔

ضیا الحق نے ذوالفقار علی بھٹو کو ٹارگٹ جانا۔ انہیں پھانسی دے کر معاملات حل کرنے کی حکمتِ عملی بنائی اور اس ایکشن کے نتیجے میں ملک گیر سیاست کے رجحان کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا۔

صدر پرویز مشرف نے دو ملک گیر جماعتوں کو دشمن تصور کیا۔ انہیں جسدِ سیاست سے نکالنے کے لیئے بے روح انتخابات کے ذریعے کارڈ بورڈ پارلیمنٹ تشکیل دینے کی حکمتِ عملی اپنائی اور اس ایکشن کے نتیجے میں نہ صرف قوم پرستی کے تنِ مردہ میں جان پڑ گئی بلکہ فوج اور عوام کے درمیان بچی کھچی خیر سگالی کی روح بھی شدید زخمی ہو گئی۔

ایک ماہر ڈرائیور سے یہ توقع رکھنا کہ وہ طیارہ بھی اتنی مہارت سے اڑا سکتا ہے۔

یہ ڈرائیور کی بھی بدقسمتی ہے اور طیارے میں سوار مسافروں کی بھی۔

بات سے باتریڈیو ایکٹو لوگ
ڈی جی خان میں وسعت ’وی آئی پی‘ کیسے بنے؟
بات سے باتبھیڑیوں کو مرنے دو
خودکشی ایک جنگی حربہ ہے! وسعت اللہ خان
بات سے باتآخری کیل
صحافتی تفاخر کے قلعے میں شگاف: وسعت اللہ
غزہ کی این فرینک
غزہ کی چھ سالہ بچی آب بیتی بھی لکھ نہیں پائی
کیسے سمجھاؤں کہ۔۔
’لیزرگائیڈڈ بم نہیں کامن سنس کا ہتھیار چاہیئے‘
جنوب خالی ہو رہا ہے
ڈیڈ لائن سے فرار: وسعت اللہ بیروت سے
اسی بارے میں
بھیڑیوں کو مرنے دو
11 June, 2006 | قلم اور کالم
نصف شب کی دستک
18 June, 2006 | قلم اور کالم
دور اندیش ہٹ دھرمی
25 June, 2006 | قلم اور کالم
غزہ کی چھ سالہ این فرینک کا نوحہ
09 July, 2006 | قلم اور کالم
آخری کیل
16 July, 2006 | قلم اور کالم
’ڈیڈ لائن ختم ہونے سے پہلے‘
01 August, 2006 | قلم اور کالم
دو رخا ہونے کے فوائد
09 April, 2006 | قلم اور کالم
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد