اوریانا فلاچی اور ’شدت پسند‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مئی کے وسط میں میرے ایک دوست نے پاکستان کے ایک دور دراز چھوٹے سے شہر سے مجھے ای میل میں ہفت روزہ جریدے ’نیویارکر‘ کا لنک بھیجا جس میں مشہور صحافی اور رائٹر اوریانا فلاچی کا انٹرویو ’غصیلی عورت‘ کے عنوان سےشائع ہوا ہے۔ میں اب تک کنفیوژ ہوں کیونکہ پاکستان سے انہوں نے اوریانا فلاچی کا جو انٹرویو لنک کیا تھا وہ شمارہ مئي پندرہ کا تھا اور جب میں نے کل یہاں اس انٹرویو کو پڑھ کر مجھے لگا کہ ہم نے اپنے اعمال کی وجہ سے وہ اوریانا فلاچی کھودی جسے پڑھ کر میرے جیسے لوگ بڑے ہوکر صحافی بننا چاہتے ایک ایسی صحافی جس نے انٹریوز کے دوران شہنشاہ ایران سے لیکر خمینی اور ڈاکٹر ہنری کیسینجر سے لےکر یاسرعرفات تک سب کے قصے اپنے سوالوں کے شکجنوں میں کسے ہوتے تھے وہ جس نے کہا تھا ’میں ہر اس جگہ تھی جہاں آدمی کا مقدر مصیبتوں میں تھا۔ میں ہنوئی میں تھی، میں ڈھاکہ میں تھی‘۔ اوریانا کا یونان کے مزاحمتی کردار اور بعد میں اس کے محبوب الیگزیندر پینا گوئیلیس کی یونان میں فوجی آمریت کےخلاف لڑائی، قید میں تشدد اور اس کی ایک مشکوک کار حادثے میں موت پر لکھے ہوئے ناول ’اے مین‘ پڑھ کر پاکستان میں ایسے بھی سیاسی کارکن تھے جو ٹارچر گھروں میں ریاستی تشدد برداشت کر گئےتھے۔ ادیبوں نے اس کی تصاویر اپنے ڈرائنگ روموں کی دیواروں پر لگائی ہوئی تھی۔ اسے فخر ہے کہ اس پر اور اس کے اطالوی اخبارات میں لکھے ہوئےمضامین آج کے ایران میں اب بھی نوجوان خفیہ طور پر فوٹو کاپی کرواکے بانٹتے ہیں۔ اس نے خمینی سے اپنے انٹرویو میں پوچھا تھا کہ ’کیا عورت کومحض اس لیئے قتل کیا جائے کہ وہ مرد سے بیوفائی کرتی ہے یا مرد کو اس لیئے مار دیا جائے کہ وہ دوسرے مرد سے محبت کرتا ہے؟‘۔ آج بھی اسی طرح حسین نظر آنے والی اطلوی خاتون صحافی اب نیویارک کی اپر ایسٹ سائیڈ کے انیسویں صدی کے طرز کے بنے ایک اپارٹمنٹ میں رہتی ہے لیکن کہیں کہیں وہ ا پنی باتوں میں ریپلیکن پارٹی کی ممبر لگتی ہے جب وہ اسقاط حمل، ہم جنسوں اور تارکین وطن کے حالیہ مظاہرین کے بارے میں بولتی ہے۔ وہ کہتی ہے ’جسطرح مسلمان ہر کسی کو مسلمان دیکھنا چاہتے ہیں اسطرح ہم جنس بھی چاہتے ہیں کہ سب لوگ ہم جنس بن جائیں‘۔ اسقاط حمل پر اس نے کہا’میں عورتوں کے اسقاط حمل کے صرف اس وقت حق میں ہوں جب عورتوں کی آبروریزی بن لادن یا زرقاوی نے کی ہو‘۔ پاکستان میں انیس سو اسی کی دہائی میں وہ ذوالفقار علی بھٹو کے انٹرویو کی وجہ سے مشہور ہوئی تھی جو اس نےان کی حکومت کے ابتدائی دنوں میں کیا تھا۔ ابھی فلاچی کی اس پیشن گوئی کا درست دکھائی دینا باقی ہے کہ ’بھٹو کے بعد پاکستان دنیا کے نقشے سے مٹ جائےگا‘۔ اسے نہیں معلوم کہ نہ صرف ایران بلکہ پاکستان میں بھی نوجوانوں نے اس کی کتابیں اور ان کی فوٹو کاپیاں تفسیم کی تھیں اور شاید آج بھی کر رہے ہیں جس کی مثال ’نیویارکر‘ میں چھپنے والے اس انٹرویو کا ای میل لنک ہے اور اسے ایک سندھی صحافی نے اعلیٰ درجے کی ’خود سنسرشپ‘ کرتے ہوئے ترجمہ کیا ہے۔ اوریانا اپنے اس انٹرویو میں کہتی ہے’دنیا میں اچھے مسلمان کتنے ہوں گے! جو بھی ہیں انہیں باڈی گارڈ لےکر چلنا چاہیے‘۔ اٹلی میں فاشزم کے خلاف لڑنے اور اس کی پاداش میں پھانسی پانےوالے افراد کے خاندان میں آنکھ کھولنے اور پرورش پانیوالی فلاچی اب اسلامی بنیاد پرستی کو نئی فسطائیت سمجھتی ہے مگر یہاں وہ خود سخت شدت پسند بن جاتی ہے جب کہتی ہے کہ وہ اٹلی میں اپنے آبائی شہر ٹسکونی میں گھر کے نزدیک بنائی جانیوالی مسجد کو بارود سے اڑانا چاہتی ہے۔ یہ بھی ایک اور شدت پسندی ہے جس کا سب سے بہتر جواب فلاچی کو اطالوی مصنف و صحافی امبرٹو ایکو نے اخبار ’لا ریپبلیکا‘میں اپنے ایک مضمون میں دیا تھا۔ ایکو نے اوریانا کا نام لیے بغیر لکھا تھا ’ہم ایک روادار معاشرہ ہیں اور ہم نے اپنے گھر میں مسجد کی تعمیر کی اجازت دی ہے۔ ہم یہ محض اس لیئے ترک نہیں کر سکتے کہ کابل میں ایوینجیلیکل عیسائيوں کو جیل میں ڈالا گیا تھا- اگر ہم بھی ایسا کرنا شروع کردیں تو ہم بذات خود طالبان بن جاتے ہیں‘۔ بدقسمتی سے فلاچی ایک عام مسلمان اور القاعدہ کے دہشتگرد میں کوئی فرق نہیں سمجھتی۔ بلکل ایسے جیسے کسی زمانے میں نیویارک اور شکاگو میں بہت سے لوگ ہراطالوی کوغلط طور پر اطالوی مافیا کا ممبر سمجھتے تھے۔ اوریانا کی ایسی سوچ کی نفی خود نیویارک شہر کرتا ہے جوگیارہ ستمبر کے بعد بھی ایک ایسا معاشرہ بنا ہوا ہے جہاں، بقول شخصے، آج بھی ہر محلے یا پڑوس میں گروسری سٹور عربوں اور پاکستانیوں کے ہیں۔ کل میں جارج واشنگٹن یونیورسٹی میں مذاہب کے ایک ایرانی پروفیسر کا انٹرویو پڑھ رہا تھا جس میں اس نے کہا تھا ’مکے کے بعد امریکہ وہ جگہ ہے جہاں زیاد سے زیادہ مسلمان آپس میں ملتے ہیں‘۔ گیارہ ستمبر کے دہشتگردانہ حملوں سے کچھ منٹ پہلے تک وہ ایک ناول لکھ رہی تھی جسے چھوڑ کر اس نے سہ کتابی یا ٹریالوجی ’ریج اینڈ پرائيڈ فور اینڈ ریزن‘ اور ’ایپو کلیپس‘ مسلمانوں پر اپنے غصے میں لکھی ہے۔ وہی غصہ ہے جو اسے اپنے ڈاکٹر اور پڑوسی اور اس کے کتے پر بھی ہے اور غصہ میکسیکن تارکین وطن پر بھی ہے۔ میں نے حال ہی میں عراق میں مارے جانے والےالقاعدہ کے شدت پسند رہنما ابو مصعب زرقاوی کی موت پر مائیکل برگ کا تبصرہ دیکھا۔ مائیکل کے جوان سال بیٹے نک برگ کو سال دو ہزار چار میں زرقاوی نے خود اپنے ہاتھوں سے بے دردی سے ذبح کیا تھا۔ مائیکل برگ نے جمعرات کو یہاں امریکی پریس میں زرقاوی کی موت پر اپنے تبصرے میں کہا ’انتقام کے پر تشدد چکر نے مزید انتقام کو جنم دیا ہے۔ کسی بھی انسانی زندگی کا زیاں ہم سب کا زیاں ہے اور زرقاوی کی موت کی صورت میں وہ زیاں دوگنا ہے، اس لیے کہ وہ ایک سیاسی شخصیت تھی اور اس کی موت سے انتقام کی ایک اور لہر بھڑک اٹھے گی۔ انتقام جس میں زرقاوی نے حصہ لیا اور جس انتقام میں جارج بش حصہ لے رہا ہے۔ انتقام جس کی جڑیں ماقبل تاریخ کے زمانوں میں جاتی ہیں اورانتقام نے کبھی کوئی مسئلہ حل نہیں کیا‘۔ ایک سوال کہ کیا اب صورت حال کا خاتمہ ہوجائےگا؟ اس کے جواب میں اس نے کہا کہ ’ہر والدین جو اپنا بچہ کھوتے ہیں ان کےلیئے بچے کے وجود کا کبھی خاتمہ نہیں ہوتا۔ میں اپنی موت کے دن بھی اپنے بیٹے کے بارے میں سوچ رہا ہوں گا‘۔ مائيکل برگ اب ڈیلاویر ریاست سے ریپبلیکن پارٹی کے رکن کے مدمقابل گرین پارٹی کی طرف سے امریکی کانگریس کا انتخاب لڑ رہے ہیں۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا ’جارج بش زرقاوی سے بہت بڑا دہشت گرد ہے۔ زرقاوی سے تو دو سو قتل منسوب ہوں گے جبکہ جارج بش ڈیڑہ لاکھ لوگوں کے قتل کے ذمہ دار ہیں۔ وہ ہر بارہ منٹ کے بعد مزید ایک قتل کے مرتکب ہوتے ہیں‘۔ |
اسی بارے میں حکومت ناکام ہوتی ہے ریاست نہیں20 May, 2006 | قلم اور کالم پاکستان: عالمی ’ہسٹری شیٹر‘ 20 May, 2006 | قلم اور کالم حسن کا مکتوبِ امریکہ11 May, 2006 | قلم اور کالم دیواروں کے بھی کان ہوتے ہیں02 June, 2006 | قلم اور کالم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||