’زیادہ بات نہیں چیف صاب!‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغان صدر حامد کرزئی نے اٹھارہ مئی کو صوبہ کُنڑ میں عوام سے خطاب میں ملک میں جاری طالبان شورش کی ذمہ داری براہ راست پاکستان پر عائد کرتے ہوئے دو باتیں کہیں، اگرچہ پاکستان کی جانب سے اگلے ہی روز کم سے کم ایک الزام کی تو تردید آگئی۔ ویسے سفارتی دنیا میں الزام، تردید اور جوابی الزام کو غیر معمولی بات نہیں ہے۔ پہلا الزام تو یہ تھا کہ پاکستانی مدرسوں میں پڑھنے والے افغان طلبہ کو ان کے ٹیچرز افعانستان میں غیرملکیوں پر حملے کرنے کے لیئے اکساتے ہیں۔ پاکستان کے ہزاروں مدارس میں ہزاروں اساتذہ، لاکھوں طلبہ ۔۔۔۔ کس نے کس سے کیا کہا اور کس کو اکسایا ۔۔۔۔کیسی فردِ جرم، کونسا استغاثہ، کیسا دفاع، کون مدعی، کون مدعا علیہ، کون وکیل، کون منصف؟! ہاں مگر صدر کرزئی نے پاکستان کے باب میں جو دوسری بات کہی وہ معنی رکھتی ہے۔ پشتو میں کہے ان کے الفاظ کا لفظی ترجمہ کچھ یوں ہے: ’میں نے کہا کہ مشرف صاحب، بھائی! ایسا وقت تھا کہ افغانستان کی حکومتیں پاکستان میں بنتی تھیں۔ وہ الگ وقت تھا۔ ہم اس وقت مہاجر تھے۔ اب یہ خواب و خیال چھوڑ دیں کہ افغانستان کی حکومت غیر بنائیں گے۔ دوسری بات یہ ہے کہ جسے آپ پاکستان میں سٹریٹجک ڈپتھ کہتے ہیں یعنی میری سر زمین آپ کا اڈہ ہوگی اور میری مٹی کو آپ اپنے اڈے کے طور پر استعمال کریں گے ۔۔۔ اور میری کوئی حیثیت نہیں ہوگی۔۔۔ یہ بھی بھول جائیں، یہ بھی ناممکن ہے۔‘ ایک تشنگی رہ گئی اور وہ یہ کہ افغان صدر نے یہ کھری کھری باتیں پاکستانی صدر سے کب کہیں۔ اگر حامد کرزئی نے مذکورہ جلسے میں یہ بتایا بھی تو، ذرائع ابلاغ ان کے بیان کی چاشنی میں غالباً اتنے سرشار تھے کہ رپورٹ کرنا مناسب نہیں سمجھا۔ قیاس یہ ہی ہے کہ انہوں نے اپنے حالیہ دورۂ پاکستان میں اپنے ہم منصب کو صاف صاف بتایا ہوگا کہ جو ہوگا سو ہوگیا، اب ذرا سنبھل کے۔
صدر حامد کرزئی کی اس تقریر سے ایک بات بالکل واضح ہے کہ وہ افغانستان کی حالیہ تاریخ میں پاکستان کے ’اچھے یا برے‘ کردار کے بارے میں کسی مخمصے کا شکار نہیں۔ ان کی یادداشت میں وہ واقعات محفوظ ہیں جب افغانستان سے ’سرخ فوج‘ کے انخلاء کے بعد باہم دست وگریباں افغان ’مجاہدین‘ کو ایک دسترخوان پر بٹھانے اور افغانستان میں امن قائم کی راہ ہموار کرنے کی غرض سے ان متحارب مجاہدین کے مابین پاکستان کی سرزمین پر میثاق پشاور کروایا گیا تھا۔ بعد میں اس معاہدے کی جگہ میثاق اسلام آباد نے لی اور جب وہ بھی ناکام رہا تو مبینہ طور پر ان مجاہدین سے خانہ کعبہ میں قرآن پر حلف لیا گیا۔ لیکن اس سب کے باجود گلبدین حکمیار وزیراعظم ہوتے ہوئے بھی اپنے دارالحکومت کابل پر گولے برساتے رہے۔ یہ بات ڈھکی چھپی نہیں کہ جب ملاعمر کی قیادت میں قندھار سے طالبان کی لہر اٹھی تو زیادہ تر شہروں میں مجاہدین کے ایک دوسرے کے خلاف جہاد سے پریشان افغانوں نے ان کا خیرمقدم کیا۔ حامد کرزئی افغانستان میں پاکستان کے ان مبینہ فوجی عزائم سے بھی واقف لگتے ہیں جن کا ذکر افغانستان اور بعد میں عراق پر چڑھائی کرنے والی امریکی فوج کے سالاراعلٰی جنرل ریٹائرڈ ٹومی فرینکس نے اپنی کتاب ’امریکن سولجر‘ میں کیا ہے۔ جنرل فرینکس نے لکھا ہے کہ انہیں سی آئی اے کے ڈائریکٹر جارج ٹینٹ نے بتایا تھا کہ پاکستان، افغانستان میں ’سٹریٹجک ڈیپتھ‘ چاہتا ہے۔ یعنی افغانستان کے اندر جاکر ایسے مواصلاتی مراکز کا قیام جہاں سے پاکستان بھارتی خطرے کی بو بروقت محسوس کرکے اس کا سدِباب کر سکے۔
مگر جنرل فرینکس نے ایک اور بات بھی لکھی ہے۔ ان کے بقول افغانستان میں طالبان حکومت کے قیام کے ساتھ ہی امریکی سی آئی اے نے طالبان کے متبادل کی تلاش شروع کر دی تھی اور اس کے لیئے اس کا ترجیحی امیدوار ایک ایسا افغان تھا جو نسلاً پشتون ہو۔ وہ لکھتے ہیں کہ امریکہ پر ستمبر دو ہزار ایک کے حملوں سے پہلے ہی سی آئی اے کی نظرِ انتخاب حامد کرزئی پر جاکر ٹھہر گئی تھی۔ ظاہر ہے کہ اس منصب کے لیئے نرم گفتار، ’جہاندیدہ‘ اور ملا عمر کے علاقے یعنی قندھار کے سپوت حامد کرزئی سے زیادہ بہتر امیدوار کون ہوسکتا تھا۔ افغانستان پر امریکی حملے کے بعد جو واقعات رونما ہوئے وہ اب تاریخ کا حصہ ہیں۔ حامد کرزئی پہلے چھ ماہ اور بعد میں ڈیڑھ سال کے لیے عبوری صدر مقرر ہوئے پھر اکتوبر دو ہزار چار کے صدارتی انتخابات میں باقاعدہ صدر منتخب ہوگئے۔ ان صدارتی انتخابات کی کوریج کے لیئے میں کابل گیا ہوا تھا۔ جب واپس آیا تو لندن کے علاقے کنگسبری میں پڑوس میں رہنے والی ایک افغان خاتون سے ملاقات ہوئی۔ حال احوال کے تبادلے کے بعد اس نے حامد کرزئی کی افغانستان میں مقبولیت کے بارے میں میری رائے پوچھی۔ میں نے کابل میں عام لوگوں سے ہونے والی گفتگو اور انتخابی نتائج کی بنیاد پر کہا کہ حامد کرزئی افغانستان میں مقبول لگتے ہیں۔ میرے اس جواب پر اس عورت کے چہرے پر ایک تغیر سا آکر گزر گیا۔ اس نے پشتو میں مجھ سے کہا: ’شاہ شجاع کو بھی تو انگریزوں نے تخت پر بٹھایا تھا۔ اس کا انجام معلوم ہے؟‘ میں نے الجھنا مناسب نہیں سمجھا۔ لیکن فکر کا دھارا انیسویں صدی کے اوائل کی طرف بہہ نکلا جب تقریباً ڈھائی سو برس پہلے افعانستان کی سر زمین ’گریٹ گیم‘ کا میدان بن گئی تھی اور یہ عظیم کھیل روسیوں اور ہندوستان کے انگریز حکمرانوں کے مابین بیسویں صدی کے اوائل تک جاری رہا تھا۔ اٹھارہ سو چھبیس میں اپنے بھائی دوست محمد کے ہاتھوں تخت سے محروم ہونے والے شاہ شجاع کو انگریزوں نے اٹھارہ سو انتالیس میں ایک بار پھر کابل کے تخت پر بیٹھا دیا تھا۔ دوست محمد نے صوبہ بامیان میں پناہ لے لی تھی۔ جنوری اٹھارہ سو بیالیس میں انگریز فوج نے افغانستان سے پسپائی اختیار کی۔ برف پوش وادیوں میں غلجی یا غلزئی قبائل نے ان پر ہلہ بول دیا اور تاریخ بتاتی ہے کہ ساڑھے چار ہزار انگریز اور ہندوستانی سپاہیوں اور بارہ ہزار خدمتگاروں میں سے ڈاکٹر ڈبلیو برائڈن ہی جلال آباد تک پہنچ سکے۔ چند دوسرے فوجی قیدی بنا لیئے گئے تھے۔ انگریزوں کی حمایت جاتے ہی تین ماہ بعد اپریل اٹھارہ سو بیالیس میں شاہ شجاع کو قتل کر دیا گیا۔ افغانستان ہی کیا خطے کے دوسرے ملکوں میں بھی بیرونی مداخلت ایک حقیقت ہے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ تمام ملکوں سے بیرونی مداخلت کا خاتمہ ہو سکے۔ | اسی بارے میں طلباء کو اکسایا جاتا ہے: کرزئی18 May, 2006 | پاکستان الزامات بے بنیاد ہیں: پاکستان19 May, 2006 | پاکستان کرنل کے بیان پر برطانوی وضاحت20 May, 2006 | پاکستان ’کرزئی اندرونی خلفشار ختم کریں‘22 May, 2006 | پاکستان ’خودکش حملہ پاکستان نے کروایا‘12 March, 2006 | آس پاس ’افغانستان میں مداخلت نہ کریں‘24 March, 2006 | آس پاس افغان کابینہ میں بیس نئے وزراء20 April, 2006 | آس پاس افغانستان: لڑائی جاری، 100ہلاک18 May, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||