’خودکش حملہ پاکستان نے کروایا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان کے دارالحکومت کابل میں ایک خودکش بم حملے میں سابق افغان صدر صبغت اللہ مجددی بال بال بچ گئے تاہم دو حملہ آوروں سمیت پانچ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ سابق افغان صدر مجددی نے حملے کے لیے پاکستان کی انٹیلیجنس ایجنسی آئی ایس آئی کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ حملے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہیں اطلاعات ملیں تھیں کہ پاکستان کی انٹیلجنس ایجنسی آئی ایس آئی نے انہیں قتل کرنے کا منصوبہ بنایا ہے اور اس کی وجہ طالبان کو امن کے عمل میں شریک کرنے کی ان کی کوششیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ روس کی نسبت آئی ایس آئی افغانستان کی تباہی کی ذمہ دار ہے۔ دوسری جانب پاکستان کی وزارت خارجہ نے سابق افغان صدر کے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔ صبغت اللہ کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے پاکستان کے دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا کہ افغان صدر پر خودکش حملے میں آئی ایس آئی کے ملوث ہونے کا الزام بے بنیاد ہے۔ پولیس حکام کے مطابق بظاہر حملہ آور کا نشانہ سابق صدر صبغت اللہ مجددی تھے جواس حملے میں محفوظ رہے ہیں تاہم اس حملے میں کئی راہ گیر زخمی ہوئے اور حملہ کی جگہ کے آس پاس واقع عمارتوں کی کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مجددی اپنے گھر سے کار میں دفتر جانے کے لیے روانہ ہوئے تو راستے میں شہر کی ایک اہم شاہراہ پر ان پر یہ حملہ کیا گیا۔ علاقے کے سینئر پولیس افسر زلمائی اورکخیلی نے خبر رساں اداے رائٹرز کو بتایا کہ حملہ آور کا نشانہ مجددی تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ پولیس کو شبہ ہے کہ یہ حملہ القاعدہ کے ایک رکن نے کیا جس کا تعلق طالبان باغیوں کے گروہ سے ہے۔ صبغت اللہ مجددی افغانستان میں حال ہی میں تشکیل پانے والے ایوان بالا کے گزشتہ کئی ماہ سے ملک میں موجود غیر ملکی افواج حملہ آوروں کا بطور خاص نشانہ ہیں۔ دوہزار ایک کے بعد سے طالبان نے صدر حامد کرزئی کی حکومت کے خلاف بغاوت شروع کی ہوئی ہے اور اس دوران انہوں نے کئی اہم حملوں کی ذمہ داری | اسی بارے میں افغانستان: مظاہرے، مزید چار ہلاک08 February, 2006 | آس پاس افغانستان: جیل پر قیدی قابض26 February, 2006 | آس پاس افغانستان: قابض قیدیوں کا مطالبہ27 February, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||